Al-Risala · August 1979

جو کھوتا ہے وہی پائے گا

Al-Risala, August 1979, pp. 17–14

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں ہے کہ پیغمبروں کو دنیا کی زندگی میں سب سے زیادہ مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو ہر قسم کی تکلیفیں اٹھانی پڑیں ۔ حتی کہ وہ دنیا میں بے جگہ بنا دئے گئے۔ اسی سلسلے میں قرآن کے چند حوالے حسب ذیل ہیں:

ان کو ان کے گھروں سے نکالا گیا۔

آل عمران ۱۹۵ ان کو گم نامی کے غار میں ڈال دیا گیا یوسف ۱۵ وہ اعزاز کے مقامات سے محروم ہوگئے زخرف 7 ان کا مذاق اڑایا گیا زخرف ۷ ان کو داعی حق کے بجائے ایک معمولی انسان سمجھا گیا مومنون ۳۴ ان کو شاعر اور مجنون قرار دیا گیا صافات ۳۶ لوگوں نے ان کو کم عقل اور جھوٹا جانا اعراف ۶۶ ان کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ابراہیم ۱۳ زمین اپنی ساری کشادگی کے باوجود ان پر تنگ کردی گئی تکلیفیں جو پیغمبروں پر ڈالی گئیں وہ یقیناً اللہ کے علم میں تھیں اور اللہ چاہتا تو اپنے نبیوں کو ان سے بچا سکتا تھا، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ داعی کے اندر جو اوصاف مطلوب ہیں وہ اس کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتے۔ کے الفاظ میں، داعی کے لئے ضروری ہے کہ وہ مقال اقوم کی زبان میں بولنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اور یہ اس وقت ممکن ہے جب کہ وہ و طأ شدید (مزمل) کے مرحلہ سے گزرے۔ ایک روح جو حق کی راہ میں روند دی گئی ہو، اسی کی زبان سے وہ مؤثر کلمات نکلتے ہیں جن کو خدا کے دین کی دعوت کہا جاتا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی دعوت سے فلسطین کا ایک شخص متاثر ہوا۔ اس نے آپ کے پاس آکر کہا: اے استاد میں تیرے ساتھ رہوں گا اور جہاں کہیں تو جائے گا، میں تیرے پیچھے چلوں گا۔ حضرت مسیح نے جواب دیا : لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے۔ مگر ابن آدم کے لئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں (متی ۸ : ۲۱ - ۲۰)

عیسائی روایات کے مطابق حضرت مسیح کے پاس اپنا کوئی گھر نہ تھا۔ وہ دن بھر وعظ و تلقین میں مشغول رہتے اور رات کو کہیں سو رہتے۔ یہی اکثر پیغمبروں کا حال رہا ہے ۔ ایک اچھا گھر اس بات کی ایک علامت ہے کہ آدمی نے دنیا میں اپنی ایک زندگی بنالی ہے۔ مگر معروف معنوں میں ان کا کوئی "گھر"، نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں پیغمبر کی زندگی ایک ایسے سوار کی زندگی ہوتی ہے جو تھوڑی دیر دنیا کے کسی درخت کے سائے میں ٹھہرے اور اس کے بعد

آخرت کی منزل کے لئے آگے روانہ بن جائے ۔

انبیاء اور ان کے ساتھی "گھر" سے محروم کیوں رکھے گئے ۔ اس کا جواب ہم کو ایک حدیث میں ملتا ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "اللہ نے فرشتہ کے ذریعہ میرے پاس یہ پیغام بھیجا کہ مکہ کی وادی کو تمھارے لئے سونا بنا میں نے کہا اے میرے رب نہیں۔ بلکہ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ ایک روز کھاؤں اور ایک روز بھوکا رہوں۔ جب میں بھوکا ستایئں تجھ سے عاجزی کروں اور جب مجھے سیری حاصل ہو تو میں تیرا شکر کروں اور تیری تعریف کروں"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حالات کے بغیر کیفیات پیدا نہیں ہو سکتیں ۔ انبیاء دنیا کی زندگی میں "گھر والے" نہیں بنائے گئے۔ انھوں نے دنیا کے سرد و گرم کے درمیان بے گھر ہونے کا مزہ چکھا تاکہ آخرت کے گھر کی تڑپ ان کے اندر کمال درجہ میں پیدا ہو، آخرت میں بے جگہ ہو جانے کی حقیقت ان کے اوپر پوری طرح کھل جائے۔ جنت کے مکانات سے محرومی کے بعد انسان کا کیا حال ہوگا، اس کا احساس ان کے اندر شدت سے ابھر آئے۔ پیغمبروں کا مشن یہ تھا کہ وہ دنیا والوں کو آخرت کے معاملہ کی سنگینی سے پوری طرح باخبر کردیں۔ وہ لوگوں کو بتادیں کہ جو شخص آخرت میں بے گھر ہو گیا، اس کے لئے ابدی عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس قسم کی ایک دعوت وہی شخص دے سکتا ہے جو موت سے پہلے موت کے بعد کے احوال کو دیکھنے جو شخص اس مقام پر نہ ہو اس کے کلام میں آخرت کی ٹیسیں شامل نہیں ہو سکتیں اور جس کے کلام میں آخرت کی ٹیسیں شامل نہ ہوں اس کا آخرت کی پیغام رسانی کے لئے اٹھنا ایک قسم کی شاعری ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں دعوت ۔ ایسا داعی اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا جو ایک منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور پھر دوسروں کو اسے دکھاتا ہے ۔ اگر چہ آدمی کے عجز کا تقاضا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے رب سے عافیت مانگے ۔ وہ ہمیشہ یہ التجا کرے کہ اللہ اس کو کسی مشکل میں نہ ڈالے۔ مگر یہ بھی واقعہ ہے کہ آدمی کی خدا پرستی جب تک اس کو اپنی طرف اس طرح نہ کھینچ لے کہ دوسری تمام مصلحتوں کے سرے اس کے ہاتھ سے چھوٹ جائیں، وہ حقیقی معنوں میں خدا والا نہیں ہو سکتا ۔ جب تک اس کا یہ حال نہ ہو کہ آخرت کے شوق میں اس کی دنیا بر باد ہو جائے ، اس وقت تک وہ اگلی دنیا کی تجلیات کا مشاہدہ نہیں کر سکتا جب تک اس کی جنت کی طلب اس درجہ کو نہ پہنچ جائے کہ دنیا میں گھر بنانا اس کو یاد نہ رہے ، اس وقت تک وہ جنت کی حقیقت سے آشنا نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں خانہ بربادی کا تجربہ کرنے کے بعد ہی آدمی آخرت میں خانہ آبادی کی اہمیت اور معنویت کو اس کے بعد ہی اس کے اندر وہ داعیانہ سنجیدگی پیدا ہوتی ہے جو اس کو آخرت کا منذر اور مبشر بنا سکے۔ کا کلام آخرت میں بسا ہوا کلام ہوتا ہے اور کوئی شخص جب تک آخرت کی طلب میں اس انتہا تک نہ جائے کہ اس کی خاطر اس کی زندگی بر باد ہو جائے ، وہ آخرت میں ایسے موئے الفاظ میں کلام نہیں کر سکتا۔

گھر کا لفظ ابتدائی طور پر اس در و دیوار کے لئے بولا جاتا ہے جہاں آدمی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ روز و شب مگر اس کے آگے آدمی کا ایک اور گھر ہے۔ یہ اعوان و انصار کا وہ حلقہ ہے جو کسی کے لئے دوستوں اور رشتہ داروں کے ذریعہ بنتا ہے اور کسی کے لئے اس کے معتقدین اور متاثرین کے ذریعہ کسی کے لئے گاہکوں (clients) اور چندہ دہندگان کے ذریعہ بنتا ہے اور کسی کے لئے تالیاں بجانے والے اور استقبال کرنے والے عوام کے ذریعہ۔ یہ حلقہ یا دائرہ

خواص کے لئے اتناہی اہم ہوتا ہے جتنا ایک عام آدمی کے لئے ایک اچھا گھر۔ کوئی قائد ایسے ایک حلقہ کے بغیر زندہ نہیں اس لئے جب کسی خوش قسمت انسان کے گرد ایسا حلقہ بن جائے تو ہر قیمت پر وہ اس کو باقی رکھنا ضروری خیال حالاں کئے یہ " حلقہ " ہی وہ چیز ہے جو خواص کے لئے سب سے زیادہ قاتل ثابت ہوتا ہے۔ ایک آدمی جب آخرت کے لئے فکر مند ہوتا ہے تو وہ دنیا میں اپنے گھر کو برباد کر لیتا ہے۔ یہی معاملہ خواص کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جو شخص حقیقی معنوں میں آخرت کو اپنا مسئلہ بنائے گا اس کے ساتھ لازمیہ ہوگا کہ دنیا میں اس کا حلقہ ٹوٹنے اخروی مصلحتوں کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے وہ دنیوی مصلحتوں کی رعایت نہ کر سکے گا۔ خدا کو خوش کرنے کی کوشش میں وہ بندوں کو ناراض کر لے گا اس کی مقبولیت نامقبولیت میں تبدیل ہو جائے گی۔ استقبالیہ دینے والے اس کو نظر انداز کریں گے۔ شان دار خطابات کے بجائے اس کو برے الفاظ کا تحفہ پیش کیا جائے گا لوگوں کی نظر میں باعزت بننے کے بجائے لوگوں کی نظر میں وہ حقیر ہو جائے گا۔ ادارے اور کانفرنسیں اس کو دعوت نامے روانہ کرنا بھول جائیں گی۔ کسی زندہ انسان کے لئے بلاشبہ یہ بڑا سخت امتحان ہے۔ مگر جب تک آدمی اس امتحان کی بھٹی پر نہ پہنچے دہ اعلیٰ ایمانی کیفیات کا تجربہ نہیں کرتا، وہ خدا کی طرف سے بولنے کے قابل نہیں ہوتا۔

آخرت کا داعی وہی بن سکتا ہے جو آخرت کے مسئلہ میں شدت احساس سے پگھل رہا ہو۔ یہ شدت ایک ایسے شخص میں پیدا نہیں ہو سکتی جو دنیا کی زندگی میں " گھر والا " بنا ہوا ہو۔ اس قسم کی آتشیں کیفیت کا مالک تو وہی شخص ہو سکتا ہے جو دنیا میں بے گھر اور بے یارو مددگار ہو جائے۔ ایسے ہی ایک انسان کے اندر وہ احساس محرومی جاگتا ہے جو اس کو پانے کے لئے بے تاب کر دے۔ اپنی نفسیاتی کیفیت کے اعتبار سے ہی وہ شخص ہوتا ہے جو لوگوں کو آخرت سے اس طرح ہوشیار کرے جیسے کہ لوگ آگ کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ جس کو آگ کی نہیں لگ رہی ہوں وہی جانتا ہے کہ آگ کیا ہے اور وہی اس قابل ہے کہ آتشیں الفاظ میں لوگوں کو آنے والے خطرہ سے آگاہ کرے ۔ کی زمین پر کھڑا ہو وہی یافت کا پیغام برین سکتا ہے۔ جس نے محرومی کا تجربہ نہیں کیا، اس کے لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ لوگوں کو آخرت کی محرومی کے مسئلہ سے ہوشیار کرنے والا بنے ـــــــــــ لوگ جس چیز کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں اسی کو کھونے میں ان کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔

لوگ ایسے کاموں کی طرف دوڑتے ہیں جن میں کچھ کہ بغیر " مصلح ملت زندہ باد" کے استقبالئے ملتے ہوں۔ صرف کچھ الفاظ بول کر عمل اور جد وجہد کا خطاب عطا کیا جاتا ہو۔ جس میں ایک تقریری نمائش پر شہرت اور عزت کے خزانے لٹائے جاتے ہوں۔ جس میں نعروں اور جھنڈوں کی سیاست چلانے پر آسمانی نظام قائم کرنے کا کریڈٹ ملتا ہو۔ جس میں آدمی دوسروں سے چندہ لے کر لاکھ روپیہ کی تھیلی بنائے اور پھر ہوائی ماز میں اڑ کر " مظلومین " کی امداد کے لئے سفر کرے ــــــــــ ہر آدمی جھوٹے الفاظ کی ایک ڈکشنری لئے ہوئے ہے، صرف اس ۔ کہ جھوٹے الفاظ کی ڈکشنری دنیا کے بازار میں سب سے زیادہ دھوم کے ساتھ بکتی ہے۔ کاش لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اس دنیا میں سب سے قیمتی سودا وہ ہے جو بکنے سے رہ گیا ہو۔ کیوں کہ خدا خود اس کا خریدار ہوگا ۔

Printed page