..... greater than any one of us
Al-Risala, August 1979, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
ازرا پاؤنڈ نے ٹیگور کی بابت یہ الفاظ مارچ ۱۹۱۳ میں ایک امریکی رسالہ (Fortnightly Review) میں لکھے تھے صرف ایک ماہ بعد ۲۲ اپریل ۱۹۱۳ کو اس نے رسالہ (Poetry) کے ایڈیٹر کے نام ایک خط لکھا جس میں ٹیگور کو فضول (Superfluous) قرار دیا اور کہا کہ ان کے کلام میں صرف بعض پرانی باتوں کی تکرار ہے اور اصل بنگالی زبان میں جواد بی چاشنی تھی وہ بھی انگریزی ترجمہ میں ختم ہوگئی ہے۔
ٹیگور کے بارہ میں ازرا پاؤنڈ کی رائے میں یہ تبدیلی کیسے آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ازرا پاؤنڈ نے کالی موہن گھوش کی مدد سے کبیر کی نظموں کا انگریزی ترجمہ شروع کیا۔ یہ ترجمہ کتابی صورت سے پہلے میگزین میں قسط وار چھپا۔ ٹیگور نے اس ترجمہ کو دیکھا تو وہ ان کو بہت ناقص معلوم ہوا۔ انھوں نے اس کے ادبی معیار پر سخت تنقید کی۔ اس تنقید کو پڑھ کر ازرا پاؤنڈ بگڑ گیا اور وہی ٹیگور جس کی بابت وہ اس سے پہلے غیر معمولی تعریفی کلمہ کہہ چکا تھا، اس کی ہجو کرنے لگا۔ (ٹائمس آف انڈیا، ۱ مارچ ۱۹۰۹) بیشتر انسانوں کے لئے سب سے زیادہ قابل نفرت چیزان کی اپنی ذات پر تنقید ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشتر انسانوں کے لئے پرستش کا مرکز ان کی اپنی ذات ہوتی ہے اور آدمی کی فطرت ہے کہ وہ اپنی پرستش کے مرکز پر تنقید کبھی گوارا نہیں کرتا۔
آدمی جب کسی کی تعریف کرتا ہے تو اکثر حالات میں وہ خود اپنی تعریف کی ایک صورت ہوتی ہے۔ ایک لیڈر جب اسٹیج پر کھڑا ہوتا ہے اور پنڈال میں بھرے ہوئے عوام کے سامنے فیاضانہ الفاظ کا تحفہ پیش کرتا ہے تو دراصل وہ عوام کو ان کے اس عطیہ کا بدلہ دے رہا ہوتا ہے کہ انھوں نے اس کے تقریری تھیٹر میں جمع ہو کر اس کی شان میں اضافہ کیا۔ ایک شخص جب کسی ایسے شخص کے اعتراف میں قصیدہہ پڑھتا ہے جو اس کا حریف نہیں ہے تو یہ دراصل اپنے وسعت ظرف اور اپنی شرافت کے اشتہار کی ایک بے ضرر صورت ہوتی ہے۔ ایک صاحب قلم جب دوسرے صاحب قلم کے تذکرہ میں الفاظ کے پھول کھلاتا ہے تو وہ یا تو بالواسطہ طور پر اس کے سابقہ قصیدہ کا شکرانہ ادا کر رہا ہوتا ہے یا یہ کہتا ہے کہ تم بھی اسی طرح میرا قصید کبھی ایک تعریف اس لئے بھی شائع کی جاتی ہے کہ کسی سابقہ تنقید کی وجہ سے اپنی بگڑی ہوئی تصویر کو متوازن کیا جاسکے۔ حقیقی تو نفی کلمات دہ ہیں جو اپنے بھائی کی خیر خواہی کے جذبہ کے تحت نکلے ہوں۔ مگر یہی چیز دنیا میں سب سے زیادہ کمیاب ہے۔ کسی کو حقیقی خیر خواہی کا ایک کلمہ دینا اتنی بڑی فیاضی ہے جو شاذو نادر ہی کسی خوش نصیب کے حصہ میں آتی ہے۔
بالٹی کے پینوے میں سوراخ ہو اور اوپر سے آپ اس میں پانی ڈالیں تو سارا پانی بہہ کر نکلتا رہے گا اور بالٹی کے اپنے حصہ میں کچھ نہیں آئے گا۔ ایسا ہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ آدمی کا وہی حقیقت عمل ہے جو خود اس کو کچھ دے رہا ہو۔ بظاہر سرگرمیاں دکھا رہا ہو اور اس کا اپنا وجود کچھ پانے سے محروم ہو تو اس کی سرگرمیوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ عمل وہی عمل ہے جس کے دوران آدمی کے ذہن میں شعور کی چنگاری پڑے ۔ اس کے دل میں سوز و تڑپ کا کوئی لادادا ابلے۔ اس کی روح کے اندر کوئی کیفیاتی ہل چل پیدا ہو۔ اس کے اندرونی میں کوئی ایسا حادثہ گزرے جو برتر حقیقتوں کی کوئی کھڑکی اس کے لئے یہی یافت کسی عمل کی کامیابی کا اصل معیار ہے۔ وہی عمل ہے جو آدمی کو اس قسم کے تحفے دے رہا ہو۔ عمل سے آدمی کو یہ چیزیں نہ ملیں وہ ایسا ہی ہے جیسے سوراخ دار بالٹی میں پانی گرانا۔
دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ آپ کیا ہو رہے ہیں۔ اگر آپ کی "مصروفیات" بہت بڑھی ہوئی ہوں، اگر بتانے کے لئے آپ کے پاس بہت سے کارنامے ہوں مگر آپ کی اندرونی ہستی خالی ہو، آپ خود کچھ نہ ہو رہے ہوں تو آپ کی مصروفیات محض بے فائدہ سرگرمیاں (Idle Business) ہیں، اس کے سوا اور کچھ نہیں ۔ ہوائیں ہوں مگر ان سے آکسیجن نہ ملے۔ پانی ہو مگر اس سے سیرابی حاصل نہ ہو۔ غذا ہو مگر اس سے آدمی کو قوت نہ ملے۔ ہو مگر وہ روشنی نہ دے رہا ہو تو ایسا ہونا ہونا نہیں ہے بلکہ نہ ہونے کی بدترین شکل ہے۔ اسی طرح جو عمل آدمی کی اپنی غذا نہ بن رہا ہو وہ عمل نہیں صرف بے عملی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بے معنی کوئی چیز۔
پتھر کے اوپر آپ پانی ڈالیں تو وہ بظاہر پانی سے بھیگ جائے گا۔ اس کے چاروں طرف پانی پانی نظر آئے گا۔ پانی کے مزہ اور رادٹ کو نہیں جانتا، اس نے پانی کی اس دوسری حیثیت کا تجربہ نہیں کیا۔ اس کے برعکس ایک زندہ آدمی جب پیاس کے وقت پانی پیتا ہے تو اس کی رگیں تر ہو جاتی ہیں، وہ پانی کی حقیقت کا ایک اندرونی تجربہ کرتا ہے۔ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ کرنا کیا ہے اور ہونا کیا ۔ کرنا یہ ہے کہ آدمی کچھ مقررہ اعمال کو بس رسمی طور پر دہرالے۔ زبان کچھ الفاظ بولے مگر وہ الفاظ اس کے دل کی دھڑکن نہ بن رہے ہوں۔ آدمی اپنے ہاتھ پاؤں سے کچھ عمل کرے مگر اس کا عمل اس کی روح کو نہ چھوئے ۔ اس کی حرکات و سکنات اس کے دل د دماغ میں ارتعاش نہ پیدا کریں۔ اس کے برعکس ہونا یہ ہے کہ آدمی کا عمل اس کے لئے روحانی تجربہ بن رہا ہو۔ اس کی اندرونی ہستی کو بار بار کیفی غذا ئیں مل رہی ہوں۔ جسمانی عمل، اس کے غیر جسمانی وجود میں ہل چل پیدا کر رہا ہو۔ وہی کرتا کر نہا ہے جس کے درمیان آدمی خود بھی کچھ ہو رہا ہو۔ جو کرنا ہونا نہ بنے، حقیقت کے اعتبار سے اس کی کوئی قیمت نہیں۔ وہ گویا ایک ایسا پتھر ہے جو بظاہر پانی سے بھیگ رہا ہے مگر پانی کا مزہ نہیں پاتا ہے۔