ایک خدا سوا تمام سہارے جھوٹے ثابت ہوں گے
Al-Risala, August 1979, pp. 17–19
By Maulana Wahiduddin Khan
اور جن لوگوں نے انکار کیا ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا: کیا تم کو میری باتیں سنائی نہیں جاتی تھیں۔ نے گھمنڈ کیا اور مجرم بن کر رہے۔ اور جب کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ تو تم کہتے کہ ہم نہیں جانتے وہ گھڑی کیا ہے۔ ہم کو تو اس کا بس ایک خیال سا ہے اور ہم کو یقین نہیں ہوتا۔ اور کھل گئیں ان پر برائیاں ان کے کاموں کی جو وہ کرتے تھے۔ اور اب ان پر وہ چیز الٹ پڑی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ جائے گا کہ آج ہم تم کو اسی طرح بھلا دیتے ہیں جس طرح تم اس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے۔ اور تمھارا ٹھکانا اب دوزخ ہے اور کوئی تم کو مدد دینے والا نہیں۔ قرآن کی سورہ نمبرہ ۴ میں قیامت کا یہ منظر پیش کرنے کے بعد کہا گیا ہے:
ذلكم بانكم اتخذتم آيت الله ھزوا وغرتكم یہ اس وجہ سے کہ تم نے اللہ کی باتوں کی ہنسی اڑائی اور تم الحيوة الدنيا لا يخرجون منھا ولا ھم کو دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں ڈال دیا۔ پس آج یہ لوگ يستعتبون (جاشیه (۳۵) نہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے عذر قبول کیا
ہر آدمی کسی نہ کسی ناز یا برتے پر جی رہا ہے۔ کسی کو یہ ناز ہے کہ اس کے پاس اقتدار ہے، کوئی اس کا کچھ بگاڑ نہیں کسی کو یہ ناز ہے کہ اس کے پاس پیسہ ہے، اس کا کوئی کام اٹکا ہوا نہیں رہ سکتا۔ کسی کو یہ ناز ہے کہ اس کا اپنا حلقہ اور اس کے اپنے اعوان وانصار ہیں جو ہر موقع پر اس کی مدد کے لئے کافی ہیں۔ کسی کو یہ ناز ہے کہ وہ بزرگوں کا دامن تھامے ہوئے ہے، دنیا سے لے کر آخرت تک کہیں اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ کوئی کسی جماعت سے وابستہ ہے اور کوئی کسی ادارہ سے، کوئی عوامی قافلہ میں شریک ہے تو کوئی سرکاری قافلہ میں، غرض ہر ایک اپنے کو کسی نہ کسی سہارے پر کھڑا کئے ہوئے ہے اور اس کے ناز پر جی رہا ہے۔ یہی ناز یا غرہ دعوت حق سے بے پروائی برتنے کا سب سے بڑا سبب ہوتا ہے۔ اللہ کی باتیں کھلے کھلے دلائل کے ساتھ آدمی کے سامنے آتی ہیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ ان دلائل کا کوئی حقیقی جواب اس کے پاس نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ اس کو نہیں مانتا اس کا ناز اس کو جھوٹے بھروسہ کی نفسیات میں مبتلا رکھتا ہے ۔ سمجھتا ہے کہ اگر میں اس دعوت کو نہ مانوں تو میرا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ دلائل کے اعتبار سے خالی ہو کر بھی وہ اپنے جھوٹے سہارے کو پکڑے رہتا ہے۔ مگر جب قیامت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ یہ سارے سہارے بالکل بے حقیقت تھے۔ آنکھوں نے دنیا میں خدا کی نشانیوں کی پروانہ کی تو قیامت کے دن خدا بھی ان کی پروا نہ کرے گا۔ دنیا میں جھوٹے سہاروں پر جینے والے آخرت میں بالکل بے سہارا ہو کر رہ جائیں گے۔ ابدی بربادی ان پر ٹوٹ پڑے گی اور کوئی بھی چیز نہ ہوگی جوان کو اس سے بچانے والی ثابت ہو آدمی جہنم کے کنارے کھڑا ہوا ہے۔ مگر کسی نہ کسی گھڑے ہوئے سہارے کی بدولت وہ اپنے کو جہنم سے مامون سمجھے ہوئے ہے۔
کوئی شخص آگ سے کھیلنا چاہے تو فوراً اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ آگ جلانے والی چیز ہے، کھیلنے والی چیز نہیں۔ مگر لوگ کبر، ظلم، بے انصافی، انسانیت، حق تلفی اور مصلحت پرستی جیسی چیزوں میں مشغول رہتے ہیں۔ انہیں محسوس نہیں ہوتا کہ وہ ایسے انگاروں سے کھیل رہے ہیں جو دنیا کی آگ سے کہیں زیادہ ہولناک ہے۔
دین کا اصل کام وہی ہے جو اپنے آپ سے شروع ہو۔ آدمی کے اندر احتساب اور خود فکری کا مزاج پیدا ہو۔ وہ موت کو یاد کرے اور آخرت کے لئے فکر مند ہو۔ اس قسم کا دین آدمی کے اندر پیدا ہوا یا نہیں، اس کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کا بولنا کم ہو جائے۔ دوسروں سے زیادہ وہ اپنے بارے میں سوچنے ل، شکایت اور اختلاف کے موقع پر وہ تواضع کا رویہ اختیار کرے، کسی سے معاملہ کرتے ہوئے وہ سمجھے کہ رب العالمین سے معاملہ کر رہا ہے خواہ وہ آدمی کمزور ہو یا طاقت ور۔ جب بھی کسی کو زمین پر چھوٹا یا بڑا اقتدار ملنا ہے، وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کا اقتدار ہمیشہ باقی رہے گا۔ حالاں کہ زمانہ نے کبھی کسی کے اس گمان کی تائید نہیں کی ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ اگلا شخص جو پہلے شخص کو قبر میں لٹاتا ہے وہ دوبارہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس کا اقتدار ہمیشہ زمین پر باقی رہے گا۔
آخرت وہ عالم ہے جہاں صداقتیں اپنی اصلی شکل میں کھول دی جائیں گی۔ دنیا میں سچائی کا اعلان اسی عالم آخرت کا لفظی اظہار ہوتا ہے جو موت یا قیامت کے بعد حقیقی طور پر بے نقاب کی جانے والی ہے۔ یہ دنیا والوں کے لئے آخرت کی ایک کھڑکی کھولنے کے ہم معنی ہے۔ ایسی حالت میں سچائی کے اعلان کو سن کر جو لوگ منفی رد عمل کا مظاہرہ کریں، انہیں ڈرنا چاہئے کہ کہیں وہ اپنے کو اس اندیشہ میں تو مبتلا نہیں کر رہے ہیں کہ اگلی دنیا میں وہ اس حال میں اٹھیں گے کہ وہ اندھے اور بہرے ہوں۔ وہ اس بات کا ثبوت نہ دے سکے کہ وہ آخرت والی حقیقتوں کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پھر آخرت کی دنیا میں وہ آنکھ والے کیوں کر قرار پائیں گے۔
ساری دنیا میں کوئی ایک آدمی بھی ایسا نہ ملے گا جو آم کی گٹھلی کو آم سمجھے یا بیل کے چھلکے کو بیل سمجھ کر کھائے۔ دنیا میں بے شمار لوگ ہیں جو الفاظ شماری کو ذکر سمجھتے ہیں اور کوڑا مارنے کو اسلامی نظام۔ گٹھلی اور چھلکے کو کھیل کہنے شالا ا سی دنیا کے بازار میں بے قیمت ہو جاتا ہے۔ اس لئے ہر ایک کو اس کا بے حقیقت ہونا معلوم ہے، کوئی شخص پھل کے بازار میں گٹھلی اور چھلکا لے کر بیٹھنے کی جرأت نہیں کرتا۔ دوسری طرف لاکھوں لوگ ہیں جو الفاظ شماری اور کوڑا ماری والے دین کے نام پر بڑی بڑی دکانیں سجائے ہوئے ہیں۔ انہیں اس کے بے حقیقت ہونے کی خبر نہیں۔ شاید صرف اس لئے کہ اس قسم کے سودے کا بے قیمت ہونا موت کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ پہلی چیز انسانوں کے بازار میں بے قیمت ہے اور دوسری چیز اللہ کے بازار میں۔
کام کسی ظاہری دھوم کا نام نہیں بلکہ اندرونی یافت کا نام ہے۔ کبھی کرنے سے زیادہ بڑا کام یہ ہوتا ہے کہ آدمی ٹھٹک کر کبھی بولنے سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آدمی چپ لگ گئی ہو۔ کبھی وہ چیز زیادہ قابلِ ذکر ہوتی ہے جو کسی اخبار میں نہ چھپے کبھی وہ روداد زیادہ قیمتی ہوتی ہے کہ آدمی کی زبان سے الفاظ نہ نکلیں بلکہ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک جائیں۔
کتنے لوگ آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنی جوانی میں بڑے جوش و خروش میں نظر آتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھرے ہوئے اور پائے ہوئے انسان ہیں۔ مگر آخر عمر میں وہ بالکل بے آس ہو کر رہ گئے۔ ان کا بڑھاپا اس طرح گزرا جیسے ان کے پاس جینے کے لئے کچھ نہ ہو۔ جیسے وہ خالی ہاتھ ہوں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خارجی کارناموں میں جی رہے تھے۔ خود اپنے میں نہیں جی رہے تھے۔ جب تک کارنامے دکھانے کے مواقع تھے وہ اپنے آپ کو بھر پور محسوس کرتے رہے اور جب کارنامے دکھانے کی طاقت نہ رہی تو وہ اس طرح ڈھ گئے جیسے ایک بے جڑ کا درخت تھا جو ہوا کا جھونکا لگتے ہی گر گیا۔
آدمی کا یہی حال آخرت میں ہوگا۔ جو لوگ دنیا کے تمام جھام کے سہارے قائم ہیں۔ جو کار اور بنگلہ اور شہرت اور استقبال اور اخباری سرخیوں میں جی رہے ہیں وہ موت کے بعد اچانک محسوس کریں گے کہ اب ان کے پاس کچھ نہیں رہا۔ جینے کے تمام سہاروں سے محروم ہو گئے۔ آپ کے پاس صرف ظاہری رونقیں تھیں جن کو موت نے باطل کر دیا۔ آپ کے پاس تھی ہی نہیں جو موت کے بعد آپ کا ساتھ دے۔ ایسی حالت میں آپ کا انجام اس کے سوا اور کیا ہے کہ آخرت کے اندھیرے میں ابدی طور پر بھٹکتے رہیں۔
جنت ایک ایسی دنیا ہے جہاں ایک آدمی دوسرے آدمی کے برائق (شرارتوں) سے محفوظ ہو۔ جہاں نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد انسان بستے ہوں۔ جہاں کی فضاؤں میں انسانی احترام اور حقیقتوں کا اعتراف کامل درجہ میں پایا جاتا ہو۔ پھولوں کی طرح مہکتے ہوں اور نسیم صبح کی طرح متحرک ہوتے ہوں۔ جہاں کا ماحول بغض، حسد، عصبیت، مفاد پرستی اور تنگ نظری سے بالکل نا آشنا ہو۔ جہاں خدا کی خدائی اور عبد کی عبدیت اپنی کامل ترین شکل میں نمایاں ہو۔ جنت ایسی ہی ایک لطیف اور نفیس دنیا ہوگی۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل کام یہی ہے کہ وہ اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کرے جو اس کو جنت کی دنیا کا شہری بنا سکیں۔ کسی کو جنتی دنیا کا داخلہ اسی وقت مل سکتا ہے جب کہ اس نے وہاں کے ماحول کے مطابق شہری اوصاف اپنے اندر پیدا کئے ہوں۔ جو لوگ اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرنے میں ناکام رہیں وہ وہاں کی دنیا کے لئے اسی طرح نا اہل رہیں گے جس طرح کوئی جاہل آدمی یونیورسٹی کی دنیا میں پروفیسر ی کے لئے۔ یونیورسٹی علم کی اس کی شہریت اسی شخص کو مل سکتی ہے جو علمی دنیا کے آداب کے مطابق زندگی گزارنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کر چکا ہو۔ اسی طرح جنتی دنیا کی شہریت بھی اس کو ملے گی جو اس بات کا ثبوت دے کہ وہ جنتی کردار کے ساتھ رہنے کی استعداد رکھتا ہے۔