بسم اللہ الرحمن الرحیم ۵
Al-Risala, August 1979, pp. 22–28
By Maulana Wahiduddin Khan
الف لام میم ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ۔ راہ دکھاتی ہے ڈر رکھنے والوں کو ۔ جو یقین کرتے ہیں بن دیکھے اور نماز قائم کرتے ہیں ۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو تمھارے اوپر اترا اور جو تم سے پہلے اتارا گیا ۔ اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ انھیں لوگوں نے اپنے رب کی راہ پائی ہے اور وہی کامیابی کو پہنچنے والے ہیں ۱- اس میں شک نہیں کہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے ۔ مگر وہ ہدایت کی کتاب اس کے لئے ہے جو فی الواقع ہدایت کو جاننے کے معاملہ میں سنجیدہ ہو ، جو اس کی پروا اور کھٹک رکھتا ہو۔ سچی طلب جو فطرت کی زمین پر اگتی ہے وہ خود پانے ہی کا ایک آغاز ہوتا ہے ۔ سچی طلب اور سچی یافت دونوں ایک ہی سفر کے پچھلے اور اگلے مرحلے ہیں۔ یہ گویا خود اپنی فطرت کے بند صفحات کو کھولنا ہے ۔ جب آدمی اس کا سچا ارادہ کرتا ہے تو فوراً فطرت کی مطابقت اور اللہ کی نصرت اس کا ساتھ دینے لگتی ہے ، اس کو اپنی فطرت کی مبہم پکار کا متعین جواب ملنا شروع ہو جاتا ہے ۔
ایک آدمی کے اندر سچی طلب کا جاگنا عالم ظاہر کے پیچھے عالم باطن کو دیکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ یہ تلاش جب یافت کے مرحلہ میں پہنچتی ہے تو وہ ایمان بالغیب بن جاتی ہے ۔ وہی چیز جو ابتداءئی مرحلہ میں ایک برتر حقیقت کے آگے اپنے کو ڈال دینے کی بے قراری کا نام ہوتا ہے وہ بعد کے مرحلہ میں اللہ کا نمازی بننے کی صورت میں ڈھل جاتا ہے۔ جو ابتدا اپنے کو خیر اعلیٰ کے لئے وقف کر دینے کے ہم معنی ہوتا ہے وہ بعد کے مرحلہ میں اللہ کی راہ میں اپنے اثاثہ کو خرچ کرنے کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ وہی کھوج جو زندگی کے ہنگاموں کے آگے اس کا آخری انجام معلوم کرنے کی صورت میں کسی کے اندر ابھرتی ہے وہ آخرت پر یقین کی صورت میں اپنے سوال کا جواب پالیتی ہے ۔
سچائی کو پا ناگویا اپنے شعور کو حقیقت اعلیٰ کے ہم سطح کر لینا ہے ۔ جو لوگ اس طرح حق کو پالیں وہ ہر قسم کی نفسیاتی گرہوں سے آزاد ہو جاتے ہیں ، وہ سچائی کو اس کے بے آمیز روپ میں دیکھنے لگتے ہیں، اس لئے سچائی جہاں بھی ہو اور جس بندہ خدا کی زبان سے اس کا اعلان کیا جا رہا ہو وہ فوراً اس کو پہچان لیتے ہیں اور اس پر لبیک کہتے ہیں ۔ کوئی جمود ، کوئی تقلید اور کوئی تعصباتی دیوار ان کے لئے اعتراف حق میں رکاوٹ نہیں بنتی ۔ جن لوگوں کے اندر یہ خصو صیات ہیں وہ اللہ کے سایہ میں آجاتے ہیں ۔ اللہ کا بنایا ہوا نظام ان کو قبول کر لیتا ہے ان کو دنیا میں اس سچے راستہ پر چلنے کی توفیق مل جاتی ہے جس کی آخری منزل یہ ہے کہ آدمی آخرت کی ابدی نعمتوں میں داخل ہو جائے ۔
حق کو وہی پا سکتا ہے جو اس کا ڈھونڈنے والا ہے اور جو ڈھونڈنے والا ہے وہ ضرور اس کو پاتا ہے ۔ ڈھونڈنے اور پانے میں کوئی فاصلہ نہیں ۔
جن لوگوں نے انکار کیا، ان کے لئے یکساں ہے ڈراؤ یا نہ ڈراؤ، وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر ممہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے ۔ ایک شخص اپنی آنکھ کو بند کرلے تو آنکھ رکھتے ہوئے بھی وہ سورج کو نہ دیکھے گا۔ کوئی شخص اپنے کان میں روئی ڈال لے تو کان رکھتے ہوئے بھی وہ باہر کی آواز کو نہیں سنے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ حق کا بھی ہے۔ حق کا اعلان خواہ کتنا ہی واضح صورت میں ہو رہا ہو مگر کسی کے لئے وہ قابل فہم یا قابل قبول اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ اس کے لئے اپنے دل کے دروازے کھول رکھے ۔ جو شخص اپنے دل کے دروازے بند کر لے، اس کے لئے کائنات میں خدا کی خاموش پکار اور پیغمبر کی زبان سے اس کا لفظی اعلان دونوں بے سود ثابت ہوں گے۔
حق کی دعوت جب اپنی بے آمیز شکل میں اٹھتی ہے تو وہ اتنا زیادہ بانی بر حقیقت اور اتنا زیادہ مطابق فطر ہوتی ہے کہ کوئی شخص اس کی نوعیت کو سمجھنے سے عاجز نہیں رہ سکتا۔ جو شخص بھی کھلے ذہن سے اس کو دیکھے گا اس کا دل گواہی دے گا کہ یہ عین حق ہے۔ مگر اس وقت عملی صورت حال یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف وقت کا ڈھانچہ ہوتا ہے جو صدیوں کے عمل سے ایک خاص صورت میں قائم ہو جاتا ہے۔ اس ڈھانچہ کے تحت کچھ مذہبی یا غیر مذہبی گدیاں بن جاتی ہیں جن پر کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ کچھ عزت و شہرت کی صورتیں رائج ہو جاتی ہیں جن کے جھنڈے اٹھا کر کچھ لوگ وقت کے اکابر کا مقام حاصل کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ کچھ کاروبار اور مفادات قائم ہو جاتے ہیں جن کے ساتھ اپنے کو وابستہ کر کے بہت سے لوگ اطمینان کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔
ان حالات میں جب ایک غیر معروف کونے سے اللہ اپنے ایک بندے کو کھڑا کراتا ہے اور اس کی زبان سے اپنی مرضی کا اعلان کرتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کو اپنی بنی بنائی دنیا بھنگ ہوتی نظر آتی ہے۔ پیغام کی تمام تر صداقت کے باوجود دو چیزیں ان کے لئے اس کو صحیح طور پر سمجھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ دوسرے دنیا پرستی ۔ جو لوگ مروجہ ڈھانچے میں بڑائی کے مقامات پر بیٹھے ہوئے ہوں ان کو ایک "چھوٹے آدمی" کی بات ماننے میں اپنی عزت خطرہ میں پڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ احساس ان کے اندر گھمنڈ کی نفسیات جگا دیتا ہے۔ داعی کو وہ اپنے مقابلہ میں حقیر سمجھ کر اس کی دعوت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اسی طرح دنیوی مفادات کا سوال بھی قبول حق میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ کیونکہ حق کا داعی مروجہ ڈھانچے کا نمائندہ نہیں ہوتا۔ وہ ایک نئی اور غیر مانوس آواز کو لے کر اٹھتا ہے، اس لئے اس کو ماننے کی صورت میں لوگوں کو اپنے مفادات کا ڈھانچہ ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے۔
یہی وہ مانع کیفیت ہے جس کو قرآن میں ہر لگانے سے تعبیر کیا گیا ہے، جو لوگ دعوت حق کے معاملہ کو سنجیدہ معاملہ نہ سمجھیں ۔ جو گھمنڈ اور دنیا پرستی کی نفسیات میں مبتلا ہوں ان کے ذہن کے اوپر ایسے غیر محسوس پر دے پڑ جاتے ہیں جو حق کو ان کے ذہن میں داخل نہیں ہونے دیتے۔ کسی چیز کے بارے میں آدمی کے اندر مخالفانہ نفسیات جاگ اٹھیں تو اس کے بعد وہ اس کی معقولیت کو سمجھ نہیں پاتا۔ خواہ اس کے حق میں کتنے ہی واضح دلائل پیش کئے جارہے ہوں ۔
اور لوگوں میں کچھ ای بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر، حالاں کہ وہ ایمان والے وہ اللہ کو اور مومنین کو دھوکے دینا چاہتے ہیں۔ مگر وہ صرف اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔ ان کے دلوں میں روگ ہے تو اللہ نے ان کے روگ کو بڑھا دیا۔ اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ آگاہ یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں مگر وہ نہیں سمجھتے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی اسی طرح ایمان لے آؤ جس طرح اور لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیا ہم اس طرح ایمان لائیں جس طرح بے وقوف لوگ ایمان لائے ہیں۔ آگاہ کہ بے وقوف یہی لوگ ہیں مگر وہ نہیں جانتے۔ اور جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اور جب اپنے شیطانوں کی مجلس میں پہنچتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہم تو ان سے محض ہنسی کرتے ہیں۔ اللہ ان سے ہنسی کر رہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دے رہا ہے، وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے راہ کے بدلے گمراہی خریدی تو ان کی تجارت سود مند نہ ہوئی اور نہ ہوئے راہ پانے والے۔
جو لوگ فائدوں اور مصلحتوں کو اولین اہمیت دئے ہوئے ہوتے ہیں ان کے نزدیک یہ نادانی کی بات ہوتی ہے کہ کوئی شخص تحفظات کے بغیر اپنے آپ کو ہمہ تن حق کے حوالے کردے۔ ایسے لوگوں کی حقیقی وفاداریاں اپنے دنیوی مفادات کے ساتھ ہوتی ہیں۔ البتہ اسی کے ساتھ وہ حق سے بھی اپنا ایک ظاہری رشتہ قائم کر لیتے ہیں۔ اس کو وہ عقل مندی سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ان کی دنیا بھی محفوظ ہے اور اسی کے ساتھ ان کو حق پرستی کا تمغہ بھی حاصل ہے۔ مگر یہ ایک ایسی خوش فہمی ہے جو صرف آدمی کے اپنے دماغ میں ہوتی ہے۔ اس کے دماغ کے باہر کہیں اس کا وجود نہیں ہوتا۔ ہر موقع ان کو سچے دین سے کچھ اور دور اور اپنے مفاد پرستانہ دین سے کچھ اور قریب کر دیتا ہے۔ اس طرح گویا ان کا نفاق کا مرض بڑھتا رہتا ہے۔ ایسے لوگ جب سچے مسلمانوں کو دیکھتے ہیں تو ان کا احساس یہ ہوتا ہے کہ وہ خواہ مخواہ سچائی کی خاطر اپنے کو برباد کر رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اپنے طریقے کو وہ اصلاح کا طریقہ کہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو نظر آتا ہے کہ اس طرح کسی سے جھگڑا مول لئے بغیر اپنے سفر کو کامیابی کے ساتھ طے کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ صرف بے شعوری کی بات اگر وہ گہرائی کے ساتھ سوچیں تو ان پر کھلے گا کہ اصلاح یہ ہے کہ بندے سے صرف اپنے رب کے ہو جائیں۔ اس کے برعکس فسادیہ ہے کہ خدا اور بندے کے تعلق کو درست کرنے کے لئے جو تحریک چلے اس میں روڑے اٹکائے جائیں۔ ان کا یہ بظاہر نفع کا سودا حقیقتاً گھاٹے کا سودا ہے۔ کیونکہ وہ بے آمیز حق کو چھوڑ کر ملاوٹی حق کو اپنے لئے پسند کر رہے ہیں جو کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔ اپنے دنیوی معاملات میں ہوشیار ہونا اور آخرت کے معاملے میں سرسری توقعات کو کافی سمجھنا گویا خدا کے سامنے جھوٹ بولنا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں ان کو بہب جلد معلوم ہو جائے گا کہ اس قسم کی جھوٹی زندگی آدمی کو اللہ کے یہاں عذاب کے سوا کسی اور چیز کا مستحق نہیں بناتی۔
ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کی بینائی سلب کرلی اور ان کو اندھیرے میں چھوڑ دیا کہ ان کو کچھ نظر نہیں آتا۔ وہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں۔ لوٹنے والے نہیں ہیں۔ یا ان کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش ہورہی ہو، اس میں تاریکی بھی ہو اور گرج چمک بھی۔ وہ کڑک سے ڈر کر موت سے بچنے کے لئے اپنی انگلیاں اپنے کےنوں میں ٹھونس رہے ہوں۔ حالاں کہ اللہ منکروں کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ قریب ہے کہ بجلی ان کی نگاہوں کو اچک لے۔ جب بھی ان پر بجلی چمکتی ہے، اس میں وہ چل پڑتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو وہ رک جاتے ہیں۔ اور اگر اللہ چاہے تو ان کا کان اور ان کی آنکھوں کو سلب کرلے۔ یقیناً ہر چیز پر قادر ہے ۱۷ - ۲۰ کسی کمرہ میں کالی اور سفید چیزیں ہوں تو جب تک اندھیرا ہے وہ اندھیرے میں گم رہیں گی ۔ مگر روشنی جلاتے ہی کالی چیز کالی اور سفید چیز سفید دکھائی دینے لگے گی ۔ یہی حال اللہ کی طرف سے اٹھنے والی دعوت نبوت کا ہے۔ روشنی جب ظاہر ہوتی ہے تو اس کے اجالے میں ہدایت اور ضلالت صاف صاف دکھائی دینے لگتی ہیں۔ نیک عمل کیا ہے اور اس کے ثمرات کیا ہیں ، برا عمل کیا ہے اور اس کے ثمرات کیا ہیں، سب کھل کر ٹھیک ٹھیک سامنے آجاتا ہے۔ لوگ اپنے آپ کو حق کے تابع کرنے کے بجائے حق کو اپنا تابع بنائے ہوئے تھے، وہ اس صورت حال کو دیکھ کر گھبرا اٹھتے ہیں۔ ان کا چھپا ہوا حسد اور گھمنڈ زندہ ہو کر ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ، خدائی آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھتے ہی ان کی منفی نفسیات ابھر آتی ہیں۔ ان کے اندرونی تعصبات ان کے حواس پر اس طرح چھا جاتے ہیں کہ آنکھ ، کان، زبان رکھتے ہوئے بھی وہ ایسے ہو جاتے ہیں گویا کہ وہ اندھے ہیں، وہ بہرے ہیں، وہ گونگے ہیں۔ اب وہ نہ تو کسی پکارنے والے کی پکار کو سن سکتے ہیں، نہ اس کی پکار کا جواب دے سکتے ہیں نہ کسی قسم کی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے لئے صحیح رویہ یہ تھا کہ وہ پکارنے والے کی پکار پر غور کرتے۔ مگر اس کے بجائے انھوں نے اس سے بچنے کا سادہ سا علاج یہ دریافت کیا کہ اس کی بات کو سرے سے سناہی نہ جائے ، اس کو کوئی اہمیت ہی نہ دی جائے۔
اسی طرح ایک اور نفسیات ہے جو حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ یہ ڈر کی نفسیات ہے۔ بارش اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ مگر بارش جب آتی ہے تو اپنے ساتھ کڑک اور گرج بھی لے آتی ہے جس سے کمزور لوگ ہیبت کھا جاتے ہیں۔ اسی طرح جب اللہ کی طرف سے حق کی دعوت اٹھتی ہے تو ایک طرف اگر وہ انسانوں کے لئے عظیم کامرانیوں کا امکان کھولتی ہے تو دوسری طرف اس میں کچھ وقتی اندیشے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کو مان لینے کی صورت میں اپنی بڑائی کا خاتمہ ، زندگی کے بنے بنائے نقشہ کو بدلنے کی ضرورت، روایتی ڈھانچہ سے ٹکراؤ کے مسائل آخرت کے بارے میں خوش خیالیوں کے بجائے حقائق پر بھروسہ کرنا۔ اس قسم کے اندیشوں کو دیکھ کر کبھی رک جاتے ہیں اور کبھی تذبذب کے ساتھ چند قدم آگے بڑھتے ہیں۔ مگر یہ احتیاطیں ان کے کچھ بھی کام آنے والی نہیں ہیں، کیونکہ خدائی پکار کے لئے اپنے کو کھلے دل سے پیش نہ کرکے وہ زیادہ شدید طور پر اپنے کو خدا کی نظر میں قابل سزا بنا رہے ہیں۔
اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا اوپر ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تاکہ تم دوزخ سے وہ ذات جس نے زمین کو تمھارے لئے بچھونا بنایا اور آسمان کو چھت بنایا، اور اُتارا آسمان سے پانی، اور اس سے پیدا کئے پھل تمھاری غذا کے لئے۔ پس تم کسی کو اللہ کے برابر نہ ٹھہراؤ حالاں کہ تم جانتے ہو۔ اگر تم اس کلام کے متعلق شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے کے اوپر اتارا ہے تو لاؤ اس کے مانند ایک سورہ اور بلا لو اپنے حمایتیوں کو بھی اللہ کے سوا، اگر تم سچے ہو۔ پس اگر تم نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو ڈر و اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے آدمی اور وہ تیار کی گئی ہے کافروں کے لئے۔ اور خوش خبری دے دو ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کئے اس بات کی کہ ان کے لئے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جب بھی ان کو ان باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے : یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا۔ اور ملے گا ان کو ایک دوسرے سے اور ان کے لئے وہاں ستھری عورتیں ہوں گی ۔ اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ انسان اور انسان کے سوا جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب کا پیدا کرنے والا صرف اللہ ہے۔ اس نے پوری کائنات کو نہایت حکمت کے ساتھ قائم کیا ہے۔ وہ ہر آن ان کی پرورش کر رہا ہے۔ اس لئے انسان کے لئے صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کو بغیر کسی شرکت کے خالق، مالک اور رازق تسلیم کرے، وہ اس کو اپنا سب کچھ بنالے۔ مگر خدا چونکہ نظر نہیں آتا اس لئے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی نظر آنے والی چیز کو اہم سمجھ کر اس کو خدائی کے مقام پر بٹھا لیتا ہے۔ وہ ایک مخلوق کو، جزئی یا کلی طور پر، خالق کے برابر ٹھہرا لیتا ہے، کبھی اس کو خدا کا نام دے کر اور کبھی خدا کا نام دئے بغیر۔
یہی انسان کی اصل گمراہی ہے۔ پیغمبر کی دعوت یہ ہوتی ہے کہ آدمی صرف ایک خدا کو بڑائی کا مقام دے۔ اس کے علاوہ جس جس کو اس نے خدائی عظمت کے مقام پر بٹھا رکھا ہے اس کو عظمت کے مقام سے اتار دے۔ خالص خدا پرستی کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اور اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرنے لگتے ہیں جن کا دل خدا کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو۔ جنھوں نے خدا کے سوا کسی اور کے لئے بھی عظمت کو خاص کر رکھا ہو۔ ایسے لوگوں کو اپنے فرضی معبودوں سے جو شدید تعلق ہو چکا ہوتا ہے اس کی وجہ سے ان کے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ یہ حقیقت ہیں اور حقیقت صرف اس پیغام کی ہے جو آدمیوں میں سے ایک آدمی کی زبان سے سنایا جا رہا ہے۔ جو دعوت خدا کی طرف سے اٹھے اس کے اندر لازمی طور پر خدائی شان شامل ہو جاتی ہے۔ اس کا ناقابلِ تقلید اسلوب اور اس کا غیر مفتوح استدلال اس بات کی کھلی علامت ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے، اس کے باوجود جو لوگ انکار کریں ان کو خدا کی دنیا میں جہنم کے سوا کہیں اور پناہ نہیں مل سکتی۔ البتہ جو لوگ خدا کے کلام میں خدا کو پالیں انھوں نے گویا آج کی دنیا میں کل کی دنیا کو دیکھ لیا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت کے باغوں میں داخل کئے جائیں گے۔
اللہ اس سے نہیں شرماتا کہ بیان کرے مثال مچھر کی یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی۔ پھر جو ایمان والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ حق ہے ان کے رب کی جانب سے۔ اور جو منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال کو بیان کرکے اللہ نے کیا چاہا ہے۔ اللہ اس کے ذریعہ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو اس سے راہ دکھاتا ہے۔ اور وہ گمراہ کرتا ہے ان لوگوں کو جو نافرمانی کرنے والے ہیں۔ جو اللہ کے عہد کو اس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور اس چیز کو توڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے۔ تم کس طرح اللہ کا انکار کرتے ہو حالاں کہ تم بے جان تھے تو اس نے تم کو زندگی عطا کی۔ پھر وہ تم کو موت دے گا۔ پھر زندہ کرے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ وہی ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ پھر آسمان کی طرف توجہ کی اور سات آسمان درست کئے۔ اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے ۔ کسی بندہ کے اوپر اللہ کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ وہ عبدیت کے اس عہد کو نبھائے جو پیدا کرنے والے اور پیدا کئے جانے والے کے درمیان اول روز سے قائم ہو چکا ہے۔ پھر انسانوں کے درمیان وہ اس طرح رہے کہ وہ ان تمام رشتوں اور تعلقات کو پوری طرح استوار کئے ہوئے ہو جن کے استوار کئے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ چیز یہ کہ جب خدا اپنے ایک بندہ کی زبان سے اپنے پیغام کا اعلان کرائے تو اس کے خلاف بے بنیاد باتیں نکال کر خدا کے بندوں کو اس سے بدکا یا نہ جائے۔ حق کی دعوت دینا دراصل لوگوں کو حالت فطری پر لانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس لئے جو شخص لوگوں کو اس سے روکتا ہے وہ زمین میں فساد ڈالنے کا مجرم بنتا ہے۔
اللہ کا یہ احسان کہ وہ آدمی کو عدم سے وجود میں لے آیا، اتنا بڑا احسان ہے کہ آدمی کو ہمہ تن اس کے آگے جھک جانا چاہئے۔ پھر اللہ نے انسان کو پیدا کر کے یونہی چھوڑ نہیں دیا بلکہ اس کو رہنے کے لئے ایک ایسی زمین دی جو اس کے لئے انتہائی طور پر موافق ڈھنگ سے بنائی گئی تھی۔ پھر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بہت آگے انسان ہر وقت اس نازک امکان کے کنارے کھڑا ہوا ہے کہ اس کی موت آجائے اور اچانک وہ مالک کائنات کے سامنے حساب کتاب کے لئے پیش کر دیا جائے۔ ان باتوں کا تقاضا ہے کہ آدمی ہمہ تن اللہ کا ہو جائے، اس کی یاد اور اس کی اطاعت میں زندگی گزارے، ساری عمر وہ اس کا بندہ بنا رہے۔
پیغمبرانہ دعوت کے انتہائی واضح اور مدلل ہونے کے باوجود کیوں بہت سے لوگ اس کو قبول نہیں کر پاتے ۔ سب سے بڑی وجہ شوشے نکالنے کا فتنہ ہے۔ آدمی کے اندر نصیحت پکڑنے کا ذہن نہ ہو تو وہ کسی بات کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیتا ایسے آدمی کے سامنے جب بھی کوئی دلیل آتی ہے تو وہ اس کو سطحی طور پر دیکھ کر ایک شوشہ نکال لیتا ہے ۔ اس طرح وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دعوت کوئی معقول دعوت نہیں ہے۔ اگر وہ معقول دعوت ہوتی تو کیسے ممکن تھا کہ اس میں اس قسم کی بے وزن باتیں مگر جو نصیحت پکڑنے والے ذہن ہیں جو باتوں پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں ، ان کو حق کے پہچاننے میں دیر نہیں لگتی، خواہ حق کو "مچھر" جیسی مثالوں ہی میں کیوں نہ بیان کیا گیا ہو۔
اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خوں بہائیں ۔ اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں ۔ اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ، اور اللہ نے سکھادئے آدم کو سارے نام ، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ نے کہا اے آدم ! ان کو بتا دو ان لوگوں کے نام ۔ تو جب آدم نے ان کو ان لوگوں کے نام تو اللہ نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں اور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں۔ مجھ کو معلوم ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو ۔ ۳۰ - ۳۳ خلیفہ کے لفظی معنی ہیں کسی کے بعد اس کی جگہ لینے والا ، جانشین ۔ وراثتی اقتدار کے زمانہ میں یہ لفظ کثرت سے حکمرانوں کے لئے استعمال ہوا جو ایک کے بعد دوسرے کی جگہ تخت پر بیٹھتے تھے۔ اس طرح استعمالی مفہوم کے لحاظ سے خلیفہ کا لفظ صاحب اقتدار کے ہم معنی ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو یہ بھی فیصلہ فرمایا کہ وہ ایک با اختیار مخلوق کی حیثیت سے زمین پر آباد ہوگا۔ فرشتوں کو اندیشہ ہوا کہ اختیار و اقتدار پا کر انسان بگڑ نہ جائے اور زمین میں خون ریزی کرنے لگے۔ فرشتوں کا یہ اندیشہ غلط نہ تھا۔ اللہ کو بھی اس امکان کا پورا علم تھا۔ مگر اللہ کی نظر اس بات پر تھی کہ انسانوں میں اگر بہت سے لوگ آزادی پا کر بگڑیں گے تو ایک قابل لحاظ تعداد ان لوگوں کی بھی ہوگی جو آزادی اور اختیار کے باوجود اپنی حیثیت کو اور اپنے رب کے مقام کو پہچانیں گے اور کسی دباؤ کے بغیر خود اپنے ارادہ سے تسلیم و اطاعت کا طریقہ اختیار کریں گے ۔ یہ دوسری قسم کے لوگ اگر چہ نسبتاً کم تعداد میں ہوں گے مگر وہ فصل کے دانوں کی طرح قیمتی ہوں گے۔ فصل میں لکڑی اور بھس کی مقدار ہمیشہ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مگر دانے، کم ہونے کے باوجود، اتنے قیمتی ہوتے ہیں کہ ان کی خاطر لکڑی اور بھس کے ڈھیر کو بھی اگنے اور پھیلنے کا موقع دے دیا جاتا ہے۔
اللہ نے اپنی قدرت سے آدم کی تمام ذریت کو بیک وقت ان کے سامنے کر دیا۔ پھر فرشتوں سے کہا کہ دیکھو یہ ہے اولاد آدم۔ اب بتاؤ کہ ان میں کون کون اور کیسے کیسے لوگ ہیں۔ فرشتے عدم واقفیت کی وجہ سے بتا نہ سکے۔ نے آدم کو ان کے ناموں ، بالفاظ دیگر شخصیتوں سے آگاہ کیا اور پھر کہا کہ فرشتوں کے سامنے ان کا تعارف کراؤ۔ نے تعارف کرایا تو فرشتوں کو معلوم ہوا کہ آدم کی اولاد میں ، فسادیوں اور برے لوگوں کے علاوہ کیسے کیسے صلحا و متقین ہوں گے ۔ انسان کا سب سے بڑا جرم ، انکار رب کے بعد ، زمین میں فساد کرنا اور خون بہانا ہے ۔ کسی فرد یا گروہ کے لئے جائز نہیں کہ وہ ایسی کارروائیاں کرے جس کے نتیجہ میں زمین پر خدا کا قائم کیا ہوا فطری نظام بگڑ جائے، انسان انسان کی جان مارنے لگے۔ ایسا ہر فعل آدمی کو خدا کی رحمتوں سے محروم کر دیتا ہے۔ زمین میں خدا کے بنائے ہوئے فطری نظام کا قائم رہنا اس کی اصلاح ہے اور زمین کے فطری نظام کو بگاڑنا اس کا فساد۔