Al-Risala · August 1979

اتحاد کی قیمت : شخصی جذبات کی قربانی

Al-Risala, August 1979, pp. 29–31

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کسی مسلم لیڈر سے ملئے ، کسی مسلم ادارہ میں جائیے ۔ ہر ایک آپ کو اپنے کارناموں کی لمبی فہرست بتائے گا۔ آپ کو شان دار ایڈریس شاندار فریم میں دیواروں کی زینت بنے ہوئے دکھائی دیں گے ۔ ہمارا ہر لیڈر اور ہمارا ہر ادارہ اپنے بیان کے مطابق ، عظیم الشان کارنامے انجام دے رہا ہے ۔ مگر ان کارناموں کو ان کی مجموعی صورت میں دیکھنا چاہیں تو وہ کہیں نظر نہیں آتے ۔ افراد کی مجموعی صورت ہی کا نام اسلام یا ملت اسلام ہے۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ اسلامی افراد الگ الگ فتوحات کے جھنڈے لہرارہے ہیں مگر اسلام ساری دنیا میں مغلوب ہے ۔ ملت کے افراد الگ الگ کامیابیوں کے مینار کھڑے کر رہے ہیں مگر ملت ناکامی کی بستی میں پڑی ہوئی ہے۔ انہیں سونے کی ہیں مگر ان کے ملنے سے جو محل بنا ہے وہ مٹی کا درخت سیب کے ہیں مگر ان سے جو باغ تیار ہوا ہے وہ ببول کا خارستان ہے۔

اس عجیب و غریب تضاد کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس کام کو اسلام کا کام بتایا جا رہا ہے وہ حقیقہ اسلام کا کام ہے ہی نہیں۔ یہ سب افراد کے اپنے کاروبار ہیں۔ اس لئے افراد کی سطح پر ان کے کچھ جلوے نظر آتے ہیں مگر اجتماع (اسلام) کی سطح پر ان کا کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا۔ لوگوں نے اپنی قیادت کے کاروبار پر ملت کا لیبل لگا رکھا ہے۔ اپنی ذاتی تجارت کو اسلام کا نام دے دیا ہے۔ ایسی حالت میں ان کی سرگرمیوں کے نتائج اسلام یا ملت اسلام کی سطح پر کیوں کر نظر آئیں گے۔ ایک بڑے شہر میں ایک لاکھ کامیاب دکانیں ہیں۔ ہر دکان دار صبح شام پیسے کما رہا ہے۔ آپ جس دکان دار سے بھی ملیں، اس کے پاس اپنی کامیابیوں کی داستان بتانے کے لئے بے شمار الفاظ ہوں گے۔ تاہم اگر آپ چاہیں کہ ان ایک لاکھ دکان داروں کی کمائیاں کسی ایک مقام پر روپیوں کے پہاڑ کی صورت میں دکھائی دیں تو آپ کو بالکل ناکامی ہوگی۔ کیوں کہ ہر دکان دار جو کما رہا ہے وہ اپنی ذات کے لئے کما رہا ہے نہ کہ کسی مجموعہ‘ کے لئے۔ چنانچہ ہر دکان دار کا اپنا مکان شان دار طور پر بن رہا ہے ۔ اس کی ذاتی زندگی میں اس کی کمائی کی چمک دمک آپ خوب دیکھ سکتے ہیں۔ مگر کسی مجموعہ کے لئے وہ کماہی نہیں رہا ہے اس لئے مجموعہ کی سطح پر اس کی کامیابیاں نظر بھی نہیں آتیں ۔ افراد کے کاروبار افراد کی سطح پر نظر آسکتے ہیں۔ کی سطح پر وہ کیوں کر دکھائی دیں گے۔ اس سے اسلام کے معاملہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ افراد کا اسلامی کام اسی وقت اسلامی کام ہے جب کہ اس کا فائدہ مجموعہ اسلام کو مل رہا ہو ۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ انفرادی کاروبار ہے خواہ اس کو کرتے ہوئے کتنا ہی زیادہ اسلام کی تلاوت کی جارہی ہو۔ اور اس کے اوپر کتنے ہی عالی شان اسلامی بورڈ لگے ہوئے ہوں۔ جوتے اور کپڑے کی دکان آدمی اس لئے کھولتا ہے کہ اس سے اس کو نفع حاصل ہو ، اسی مزاج کے تحت اگر کسی بظاہر اسلامی کام کو کیا جائے تو اس کا ظاہری طور پر اسلامی ہونا اس کو خدا کی نظر میں اسلامی نہیں بناتا۔ میں عمل کا دارو مدار نیت پر ہے۔ اللہ کو وہ عمل پسند ہے جو صرف اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے کیا گیا ہو۔ پھر جس کام کو دنیوی مقاصد کے لئے کیا جائے اس پر خدا کی برکتیں کس طرح نازل ہوں گی۔

پہاڑوں پر بے شمار چھوٹے چھوٹے جھرنے جاری ہوتے ہیں۔ اپنی انفرادی حیثیت میں وہ صرف پانی کے سوت کی مانند

مگر جب قدرت ان کو ایک دھارے میں ملا دیتی ہے تو ان کا ملنا ایک بڑے دریا کی صورت اختیار کر لیتا ہے یہی چیز اہل ایمان کی اسلامی کوششوں کے سلسلہ میں بھی مطلوب ہے۔ " اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں جیسے کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں (صف ۳) وہی اسلامی عمل اللہ کے نزدیک اسلامی عمل ہے جس کا رخ اجتماعیت کی طرف ہو۔ جب کہ انفرادی کوششیں اس طرح جاری ہوں کہ بالآخر وہ سب کی سب مل کر ایک دریا بن جائیں۔ اس کے برعکس اگر افراد کی اسلامی کوششیں الگ الگ جھرنوں کی صورت میں بہتی رہیں اور دوسروں کی اسلامی کوششوں سے مل کر ایک بڑا دھارا نہ بنیں تو وہ خدا کے نزدیک بے قیمت ہیں۔

اگر لوگ ذاتی محرک کے تحت کام کر رہے ہوں تو ان کا اسلامی عمل انفرادی عمل بن کر رہ جاتا ہے اور اگر وہ خدا کے لئے متحرک ہوئے ہوں تو نا ممکن ہے کہ ان کا عمل صرف اپنی ذات کے گرد گھومے، دوسروں کے ساتھ مل کر بڑا دھارا نہ بنے۔ لوہے کے ٹکڑے اسی وقت تک الگ الگ رہتے ہیں جب کہ ان کے درمیان کوئی مقناطیس نہ ہو۔ جب ان کے درمیان ایک مقناطیس آجائے تو لازماً وہ سب مقناطیس کے گرد جڑ کر ایک ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اہل اسلام کی کوششیں اگر حقیقۃً خدا کے لئے ہورہی ہوں تو خدا کی ذات ایک عظیم مقناطیس بن جاتی ہے جو تمام کوششوں کو ایک نقطہ کے گرد سمیٹ دیتی ہے ۔ اہل اسلام کی کوششوں کا انتشار اس وقت ہوتا ہے جب کہ خدا کے لئے نہ ہو بلکہ اپنی ذات کے لئے ہو۔ اجتماعی کام کے لئے جب کچھ لوگ ساتھ ہوتے ہیں تو طرح طرح کی ناموافق باتیں پیش آتی ہیں۔ کبھی مزاجوں کا اختلاف دل شکنی کا باعث ہوتا ہے، کبھی کسی کی تنقید سے خفت اٹھانی پڑتی ہے۔ کبھی ایک شخص کی کمزوری سے دوسرے کو تکلیف کبھی ضرورت ہوتی ہے کہ سنانے کے شوق کو دبا کر سننے کے لئے اپنے کو آمادہ کیا جائے۔ کبھی تقاضا ہوتا ہے کہ دوسرے کی صلاحیت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کے لئے راضی کیا جائے۔ غرض بار بار ایسے مواقع سامنے آتے ہیں جہاں اپنی انفرادیت کو کچلنے کا سوال ہوتا ہے۔ یہی مواقع آدمی کے جذبہ اتحاد کا امتحان ہوتے ہیں۔ کوئی بڑا اسلامی کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جن کے اندر اتنی بلندی ہو کہ وہ مفاد اور مصلحت کے بغیر جڑ سکتے ہوں۔ وہ اس وقت بھی اپنے بھائی کی قدر کریں جب کہ اس سے ان کی ذات کو خوشامد کی غذا نہ مل رہی ہو ۔ وہ اپنے بھائی کے اوپر خرچ کریں مگر ان کے اندر اپنے بڑے ہونے کا احساس نہ پیدا ہو۔ وہ اپنے بھائی کی کمزوری کو دیکھیں مگر اس کو نمایاں کرنے کا جذبہ ان کے اندر نہ ابھرے ۔ وہ دوسرے کی زبان سے اپنے بارے میں کڑوی بات سنیں مگر ان کے دل میں دوسرے کے لئے نفرت کا جذبہ نہ پیدا ہو۔ دوسرے کی طرف سے ان کے مزاج کے خلاف رویہ ظاہر ہو مگر اس کو دوسرے کے بارے میں رائے قائم کرنے کی بنیاد نہ بنائیں۔ دوسرے کی ذات سے ان کا کوئی مفاد وابستہ نہ ہو پھر بھی وہ خدا کے لئے اس سے محبت اس کا نام "صبر" ہے۔ اور اسی قسم کے صبر والے لوگ کوئی بڑا دینی کام کرتے ہیں اور انہیں لوگوں کے ملنے سے وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کا نام اسلامی اتحاد ہے۔

اتحاد کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ شخصی قربانی ہے، جس گروہ کے افراد میں یہ طاقت ہو کہ وہ اپنے شخصی تقاضوں کو اجتماع کی خاطر دبا سکیں، ان میں اتحاد قائم ہو کر رہتا ہے، اور وہی ہیں جو کوئی بڑا کام کرتے ہیں۔

دنیا کے بارے میں سنجیدہ ، آخرت کے بارے میں سنجیدہ نہیں ایک لیڈر کا سیاسی مفاد دوسرے لیڈر سے وابستہ ہو تو وہ اس کی خوبیوں سے آخری حد تک واقف ہو جاتا ہے اور دل کھول کر اس کا اعتراف کرتا ہے۔ اسی طرح ایک دکان دار کے پاس جب کوئی آدمی نوٹوں کی گڈیاں لے کر شادی کا سامان خریدنے کے لئے جاتا ہے تو دکان دار اس سے کمال نرمی اور اخلاق کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ڈاکوؤں کی پارٹی حد درجہ اتفاق و اتحاد کے ساتھ کام کرتی ہے۔ اسمگلنگ کی دنیا میں دیانت داری اور قول کی پابندی کا اصول انتہائی معیاری صورت میں قائم ہوتا ہے۔ لوگ اپنے دنیا کے معاملات میں پوری طرح سنجیدہ ہیں۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ایسے نہیں تو وہ اپنے مطلوبہ فوائد کو حاصل نہیں کر سکتے۔ اس لئے جہاں دنیوی مفاد اور دنیوی مصلحت کا معاملہ ہو، وہ بہت جلد با اصول اور با اخلاق انسان بن جاتے ہیں۔ مگر جہاں دنیوی مفاد خطرہ میں نظر نہ آئے اور دنیوی مصلحتوں کے تجربہ کرنے کا اندیشہ نہ ہو وہاں وہ بالکل بے حس اور بے کردار بن جاتے ہیں۔ دنیا کی چیزوں میں ان کی حساسیت خوب کام کرتی ہے۔ معاملہ کی نزاکتوں کو فوراً سمجھ لیتے ہیں اور فوراً اپنے رویہ کو اس کے مطابق بنا لیتے ہیں۔ مگر جہاں ان کی اپنی ذات محفوظ نظر آئے ۔ جہاں دنیوی مفادات خطرہ میں نہ ہوں وہاں وہ ایسے بن جاتے ہیں گویا ان کے اندر احساس نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ ایک ہوشیار آدمی اچانک بالکل بے وقوف اور ایک حساس آدمی اچانک بالکل بے حس دکھائی دینے لگتا ہے۔

لوگ خواہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی ، ان کا اصلی مذہب صرف دنیا پرستی ہے۔ خدا پرستی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر وہ مذہبی ہوتے تو جو اخلاقیات کسی کے اندر دنیا کے زور پر ابھرتی ہیں وہی اخلاقیات ان کے اندر آخرت کے زور پر پیدا ہوتیں ۔ سچا مذہب یہ ہے کہ آدمی خالص اصول پسندی اور اعتراف حقیقت کی بنیاد پر دوسرے کے فضل کو مانے، خواہ اس کے لئے کوئی ظاہری دباؤ موجود نہ ہو۔ آخرت کے خوف نے اس کے اندر نرمی اور تواضع پیدا کر دی ہو۔ کی رضا حاصل کرنے کا جذبہ اس کو اتحاد و اتفاق پر مجبور کر دے ۔ جہنم سے بچنے اور جنت حاصل کرنے کے شوق میں وہ عہد کو پورا کرنے والا اور معاملات میں دیانت داری برتنے والا بن گیا ہو۔

کچھ ایسے لوگ بھی ملیں گے جو عام حالات میں شرافت اور معقولیت کا ثبوت دیں گے۔ لیکن اگر ان کے خلاف کوئی قابل شکایت بات ہو جائے تو وہ فوراً بدل جائیں گے۔ ان سے شرافت اور معقولیت کا تحفہ صرف اس کو مل سکتا ہے جو ان کی " انا " کو خوش کر رہا ہو۔ جو ان کی اپنی برائی کے تانے بانے کو منتشر نہ کرے۔ مگر جس شخص سے انھیں کسی قسم کی ٹھیس پہنچ جائے، اس کے لئے وہ مکمل طور پر غیر شریف اور غیر معقول انسان بن جاتے ہیں۔ اس قسم کے کردار کے لوگوں کا بھی دین و مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ مذہب نام ہے حقیقت اعلیٰ کو معیار بنانے کا۔ مگر وہ اپنے عمل سے بتا رہے ہیں کہ وہ خود اپنی ذات کو معیار بنائے ہوئے ہیں۔ وہ خود پرست ہیں نہ کہ خدا پرست جتنا سنجیدہ وہ اپنی ذات کے بارے میں ہیں اتنے ہی سنجیدہ اگر وہ آخرت کے بارے میں ہوتے تو وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتے تھے۔

Printed page