اصل کام ابھی باقی ہے
Al-Risala, August 1979, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
حال میں مختلف مسلم ملکوں میں، اسلام کے نام پر جو ہنگامے شروع ہوئے ہیں، انھوں نے دنیا بھر میں لوگوں کے لئے بحث و گفتگو کا نیا موضوع پیدا کر دیا ہے۔ مغربی اخبارات میں اس قسم کی سرخیاں اب عام ہو گئی ہیں : جنگی اسلام برسرِ عمل اللہ کے سپاہیوں کا اقدام مسلم دنیا کی جنگ جوئی پھر زنوہ Militant Islam is on the march Soldiers of Allah advance. Muslim World rekindles its militancy. اس میں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اسلام کی "عسکریت"، پہلے اغیار کے حملوں کو پسپا کرنے کے لئے برسرِ عمل آئی تھی۔ اسلامی عسکریت خود اپنوں کو قتل کرنے کے لئے متحرک ہوئی ہے۔ اغیار کا مقابلہ کرنا اسلام میں عین مطلوب ہے۔ مگر اپنوں کی قتل و غارت گری کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں ۔ یہ کچھ لوگوں کا اپنا گھڑا ہوا اسلام ہے نہ کہ قرآن وسنت کا اسلام۔ اسلام کا چرچا آج ساری دنیا میں بہت بڑے پیمانہ پر ہو رہا ہے ۔ پریس، ریڈیو، ٹیلی وژن، تعلیم گاہ، کانفرنس، غرض تمام اشاعتی ذرائع سے آج اسلام کے اتنے چرچے ہو رہے ہیں جتنے شاید تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے تھے۔ ممکن ہے یہ اس بات کی علامت ہو کہ وہ وقت آ گیا ہے جب کہ، حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، کوئی کچا پکا گھر زمین پر ایسا نہیں بچے گا جس میں اسلام کی آواز داخل نہ ہو گئی ہو۔ تاہم جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، اس واقعہ میں ان کے لئے بظاہر خوشی کا زیادہ موقع نہیں کیوں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ان کا دہ حصہ نہیں ہے جو کہ حقیقی طور پر ہونا چاہئے۔ قرآن کی تجارت کا بڑا حصہ آج غیر مسلموں کے ہاتھ میں ہے۔ ظاہر ہے کہ صحت و نفاست کے ساتھ قرآن کی اشاعت ایک مطلوب کام ہے۔ مگر یقینی ہے کہ جو غیر مسلم اس کام کو کر رہے ہیں وہ اس کے لئے خدا کے یہاں کسی اجر کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ ہمارے لئے سب سے زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ اسلام کے نام پر ساری دنیا میں ہلچل کے باوجود اسلام کا اصل کام ابھی ہونا باقی ہے۔ ایک مسلمان اور دوسرے مسلمان کے درمیان جو رشتہ ہے وہ خیر خواہی اور اتحاد کا رشتہ اس پہلو سے وہی تحریک اسلامی تحریک ہے جو مسلمانوں کے درمیان برادرانہ تعلق کو مضبوط کرے، جو ان کو ایک واحد جسمانی نظام کی طرح باہم جوڑ دے۔ مگر موجودہ تحریکیں اس کے برعکس نتیجہ ظاہر کر رہی ہیں ۔ ہماری موجودہ تحریکیں، کم از کم عملاً، مسلمانوں کو فرقوں اور گروہوں میں بانٹ رہی ہیں۔ حتی کہ ہر گروہ کا قرآن اور ہر گروہ کی حدیث بھی الگ الگ ہے۔ ہر گروہ کی علیحدہ تنظیم، علیحدہ صحافت، علیحدہ لٹریچر، حتی کہ علیحدہ مسجدیں قائم ہیں۔ اور اگر ان میں سے کسی گروہ کو اتفاق سے کہیں اقتدار حاصل ہو جائے، خواہ وہ ایک ادارہ میں ہو یا ایک ملک میں ، تو اس کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ دوسرے گروہ کے افراد کو اپنے دائرہ سے باہر نکال پھینکے۔ اور اگر ممکن ہو تو گولی اور پھانسی کے ذریعہ ان کا وجود ہر گروہ اپنے کارناموں کو نمایاں کرنے اور دوسرے گروہ کے کاموں پر پردہ ڈالنے میں لگا ہوا ہے۔ اس کوشش میں ہے کہ اسلام اور ملت اسلام کے لئے ہونے والے تمام کاموں کا کریڈٹ اپنے حصہ میں جمع کرے۔
اس خام خیالی میں مبتلا ہے کہ حق تمام تر اس کی طرف ہے اور ناحق تمام تر دوسروں کی طرف ــــــــ اصحاب رسول اسلام کے ذریعہ آخرت کا انعام چاہتے تھے، ان کے پیچھے چلنے والے آج اسلام کے ذریعہ دنیا کا انعام لینے کی کوشش میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں۔
جہاں تک مسلموںانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق کا سوال ہے، معاملہ اور بھی زیادہ نازک ہے مسلمان اور غیر مسلموں کے درمیان جو تعلق ہے وہ عام معنوں میں ایک قوم اور دوسری قوم کا تعلق نہیں ہے، بلکہ داعی اور مدعو کا تعلق مگر دنیا بھر میں بے شمار اسلامی ہنگاموں کے باوجود مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ابھی تک داعی اور مدعو کا رشتہ قائم نہ ہو سکا ۔ حالاں کہ اللہ کو ہم سے اصلأ جو چیز مطلوب ہے وہ یہی ہے۔ مسلمان اس دنیا میں شاہد ہیں اور دوسری قومیں مشہود ۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ غیر مسلم قوموں کے سیاسی اور مادی حریف بنے ہوئے ہیں۔ تک ایسا نہ ہو کہ ایک داعی کے مقام پر کھڑا ہو اور دوسرا اپنے کو مدعو کے مقام پر پائے ، ہماری اسلامی سرگرمیوں کا نہ وہ فائدہ مل سکتا ہے جو قرآن میں بتایا گیا ہے اور نہ اس قسم کے اعمال آخرت کی عدالت میں ہم کو بری الذمہ کرنے والے ثابت ہو سکتے ہیں۔ دو آدمی باہم گالی گلوج کر رہے ہوں، آپ ان کو شرافت اخلاق کی تلقین کرنے جائیں اور ان کے سر پر ایک بھاری پتھر پھینک دیں، تو آپ کے لئے اس میں کچھ نہیں۔ کیوں کہ بظاہر اگر چہ گالی گلوج سے منع کرنے کا واقعہ پیش آیا۔ مگر آپ کے اور گالی دینے والے کے درمیان مصلح کا تعلق قائم نہیں ہوا۔ پھر خدا کے یہاں آپ کو اس سے کیا مل سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے غیر مسلموں کی نظر میں مسلمانوں کی حیثیت بس عام قوموں کی طرح ایک قوم کی ہے۔ اور ایسا تصور قائم کرنے میں وہ حق بجانب ہیں۔ اسلامی شخصیتیں اور اسلامی جماعتیں اپنی پڑوسی غیر مسلم قوموں کو اللہ کا پیغام پہنچانے کے لئے اپنے اندر کوئی رغبت نہیں پاتیں۔ البتہ مسلمانوں کے اوپر غیر مسلم قوموں کے مظالم کے خلاف احتجاجی بیانات جاری کرنے میں ہر ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ ان کی معاشیات یا سیاسیات کے کسی حصہ پر اگر غیر مسلم نے قبضہ کر لیا تو وہ فوراً اس کے خلاف ایجی ٹیشن چلانے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ سوچ ان میں کبھی نہیں ابھرتی کہ اس قسم کے ہنگاموں کی وجہ سے غیر مسلم ہم کو اپنا دنیوی حریف سمجھ لیتے ہیں اور نتیجہ " اسلامی تحریک ان کی نظر میں اخروی تحریک نہیں رہتی بلکہ ایک قسم کی دنیوی تحریک بن کر رہ جاتی ہے۔ کچھ مسلمان اسلام کو عملیاتی مجموعہ کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں۔ کچھ دوسرے مسلمان میں جو اسلام کو سیاسی احکام کے مجموعہ کی حیثیت سے سامنے لا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے عام لوگوں کو اسلام یا تو دوسرے مذاہب کی طرح ایک رسمی مذہب نظر آتا ہے یا کمیونزم کی طرح ایک سیاسی مذہب ـــــــــــــ قرآن کے مطابق مسلمان کا کام شہادت علی الناس ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم لوگوں کو جہنم سے ڈرانے والے اور جنت کی خوش خبری دینے والے بنیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ سیکولرزم کے احیار سے لے کر اپنے حقوق کی بازیابی تک بے شمار کاموں کے لئے غیر مسلم قوموں سے دست و گریباں ہیں۔ مگر اسی ایک کام کے لئے نہیں اٹھتے جو اللہ نے اصلأ ان کے اوپر فرض کیا تھا۔ یہ غفلت اتنی بڑی ہے کہ اندیشہ ہے کہ مسلمان اللہ کی نظر میں بے قیمت ہو جائیں۔ اور پھر نہ دنیا میں ان کو خدا کا سایہ حاصل ہو اور نہ آخرت میں۔