Al-Risala · August 1979

آخرت والے عمل سے دنیا کی فائدہ چاہنا

Al-Risala, August 1979, pp. 35–37

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور فتنہ کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا وَ قَلَّتْ فُقَهَاؤُكُمْ وَكَثُرَ قُرَّاؤُكُمْ وَتُفْقَهَ اس وقت دین کی سمجھ رکھنے والے کم ہو جائیں گے اور دین لِغَيْرِ الدِّينِ وَالْتُمِسَتِ الدنْيا بِعَمَلِ الآخِرَةِ کے پڑھنے والے بہت ہوں گے۔ دین کو دنیا کے لئے پڑھا جائے گا (ترغیب و ترہیب) آخرت کے عمل کے ذریعہ دنیا چاہی جائے گی۔

امت مسلمہ کا بگاڑ یہ نہیں ہے کہ وہ دین کا نام لینا چھوڑ دے یا اس کے درمیان سے دینی شکلیں مٹ گئی ہوں۔ ایسا نہ پچھلی امتوں کے ساتھ ہوا اور نہ امت مسلمہ کے ساتھ کبھی ہوگا۔ امت کا بگاڑ یہ ہے کہ دین کو دنیا کے لئے کیا جانے لگے دینی کام اس جذبہ کے تحت کئے جائیں کہ اس سے مال و اولاد میں برکت ہوگی۔ دین وملت کے نام پر چندے وصول کئے جائیں اور ان کو ذاتی مفاد میں استعمال کیا جائے۔ جاہ واقتدار کے ہنگامہ کھڑے کئے جائیں اور اس کے لئے دلیل قرآن وسنت سے پیش کی جائے۔ آدمی خدا کے حرام و حلال سے بے نیاز ہو کر کمائے اور اس کے بعد جب وہ اپنا ایک مکان بنالے تو اس پر لکھ دے ھذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّی (یہ میرے رب کا انعام ہے) اس کی عملی زندگی کا دین سے کوئی تعلق نہ ہو اور جب اس کی خدا فراموش زندگی اس کو ایک کار کا مالک بنادے تو وہ اپنی گاڑی کے لئے ۸۷۶ نمبر حاصل کرے تاکہ اس کی گاڑی حادثہ سے محفوظ رہے۔ اس بگاڑ کی آخری صورت یہ ہے کہ آدمی خدا کے دین کی ایسی تشریح و تفسیر کرے کہ وہ دین جو آخرت کی چیتاؤنی کے لئے آیا تھا وہ دنیوی اور سیاسی ہنگاموں کا عنوان بن جائے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں ہر طرف خدا اور مذہب کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ مگر حقیقی زندگیوں میں خدا اور مذہب کا کہیں وجود نہیں۔ مذہب پر تحریری مظاہرے اور تقریری مشاعرے اتنی کثرت سے جاری ہیں کہ پچھلی تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ مگر زمین و آسمان اس انسان کو دیکھنے کے لئے ترس رہے ہیں جو فی الواقع خدا سے ڈرتا ہو اور جس نے سنجیدگی کے ساتھ مذہب کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کیا ہو۔ لفظی قسم کے مذہبی پہلوانوں کے ہجوم میں حقیقی مذہبی پہلوان اس طرح نایاب ہے کہ ڈھونڈنے سے بھی کہیں نہیں ملتا۔

لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ انصاف اور انسانیت کے نعرے بلند کرتے ہیں مگر عملاً صرف ذاتی مفاد کی سطح پر جی رہے ہیں کسی کا ذاتی مفاد پیسہ کمانا ہے اور کسی کا عزت، شہرت، مرتبہ اور اقتدار حاصل کرنا۔ کوئی ’’نوٹ‘‘ جمع کرنے میں لگا ہوا ہے اور کوئی ’’ووٹ‘‘ کے مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ کوئی گھر اور کاروبار کے دائرہ میں اپنے مستقبل کا خواب دیکھ رہا ہے، کوئی اسٹیج اور اخبار کی دنیا میں نمایاں ہونے کو اپنی تو جہات کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔ خدا کی زمین ایسے انسانوں سے خالی نظر آتی ہے جو خدا کی یاد میں جیتے ہوں، جو آخرت کی فکر میں تڑپتے ہوں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو انصاف کے تراز و پر کھڑا کر رکھا ہو۔ جن کے لئے دنیا، اپنی تمام سرسبزی کے باوجود، سر سبز نہ ہو بلکہ ایک وسیع قید خانہ بن گئی ہو۔

علمی جہاد ۔ انفاق فی سبیل اللہ کا بہترین مصرف ۔ اسلام کا مطلب اپنے جان اور مال کو اللہ کے حوالے یہ حوالہ مکّل معنوں میں ہے۔ تاہم ایک خاص حد تک اس کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ زکوٰۃ اسی قسم کا ایک حکم ہے جو یاد دلاتا ہے کہ آدمی کے مال میں خدا اور اس کے دین کا بھی حق ہے۔ قرآن میں زکوٰۃ کے جو مصارف بتائے گئے ہیں ان میں سے ایک فی سبیل اللہ (توبہ ٦٠) ہے۔ یعنی اللہ کے راستہ میں دینا۔ اس سلسلے میں فی سبیل اللہ کا مفہوم متعین کرنے کے لئے بہت سی علمی و فقہی بحثیں کی گئی ہیں ۔ شیخ یوسف القرضاوی (قطر) نے اس موضوع پر اپنی تحقیقی کتاب "فقہ الزکوٰۃ " میں مفصل اور مدلل گفتگو کی ہے اور آخر میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ فی سبیل اللہ سے مراد صرف قتال نہیں ہے ، نہ شخصی تملیک اس کے لئے ضروری ہے ، بلکہ عمومی نوعیت کا تربیتی اور علمی جہاد بھی اس میں دخل ہے۔ اور شاید آج مسلمان اس کے سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں ، ذیل میں شیخ یوسف القرضاوی کی بحث کا ایک حصہ نقل کیا جاتا ہے۔ شیخ موصوف لکھتے ہیں :

موجودہ حالات میں فی سبیل اللہ سے جو اولین اور اہم ترین چیز مراد لی جائے گی وہ ہے صحیح اسلامی زندگی کے احیاء کا وہ پرو گرام جو اسلام کے جملہ احکام ، عقائد ، تصورات ، شعائر ، شرعی قوانین اور اخلاق و آداب کو بروئے کار لانے کے لئے ہو۔

یہ کام اس قدر اہم اور ضروری ہے کہ اسلام کے غیرت مندوں کو اپنی زکوٰۃ کا مال اور اپنی اعانتیں اس پر صرف کرنی چاہئیں ۔

ہماری رائے یہ ہے کہ بحالات موجودہ زکوٰۃ کے اس مصرف کو ثقافتی، تربیتی اور علمی جہاد کے لئے استعمال کرنا بہتر ہوگا۔ بشرطیکہ وہ خالص اور صحیح اسلامی جہاد ہو۔ عصر حاضر میں اسلام کے پیغام کو عام کرنے کے لئے جن سرگرمیوں کی ضرورت ہے ۔ اس کی چند مثالیں ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا شمار بجاطور پر فی سبیل اللہ میں کیا جا سکتا ہے۔

صحیح اسلام کو پیش کرنے کے لئے دعوتی مراکز قائم کرنا جن کے ذریعہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں ادیان و مذاہب کی کش مکش کے درمیان غیر مسلمین تک اسلام کا پیغام پہنچا یا سورہ توبہ (آیت ۶۰) میں صدقات کے آٹھ مصارف بیان کئے گئے ہیں جن میں سے پہلے چار مصارف فقراء ، مساکین ، عاملین ، مولفتہ القلوب) کے لئے حرف لام استعمال ہوا ہے۔ یعنی یہ کہا گیا کہ صدقات " ان کے لئے " ہیں۔ مگر بعد کے چار مصارف (غلام ، قرضدار، سبیل اللہ ، مسافر) کے لئے حرف فی استعمال کیا گیا یعنی یہ کہا گیا کہ صدقات ان کی مد میں صرف کرنے کے لئے ہیں۔ پہلے چار مستحقین کے لئے لام ہے جو تملیک کا معنی دیتا ہے۔ بقیہ چار مستحقین کے لئے فی ہے جو عربی زبان میں ظرفیت کے لئے آتا ہے ــــــــــ حکم کے الفاظ میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلی چار اصناف کو زکوٰۃ اس طور پر ملتی ہے کہ وہ اس کی مالک ہو جاتی ہیں جبکہ بقیہ چار اصناف کی حیثیت چار مدات کی ہے (فقہ الزکوۃ از شیخ یوسف القرضاوی ، قطر) پپایئر آئرن پر سنسکرت

جاسکے یقیناً جہاد فی سبیل اللہ ہے۔

اسلامی ممالک کے اندر ایسے اسلامی مراکز قائم کرنا بھی جہاد فی سبیل اللہ میں شامل ہے جو مسلم نوجوانوں کی صحیح تربیت کریں۔ اسلام کے اعتدال پسندانہ نقطہ نظر کے مطابق ان کی رہنمائی کریں، الحاد، فکری انحراف اور عملی بے راہ روی سے انھیں بچائیں اور انھیں اسلام کی حمایت ونصرت اور اس کے دشمنوں سے نبرد آزماٰئی کے لیے تیار کریں۔

اسی طرح خالص اسلامی پرچہ کا اجراء جو گمراہ، داعیوں کی معاونت کرنا جن پر خارج سے اسلام دشمن طاقتیں داخلی عناصر ۔ مرتد اور سرکش افراد کی مدد سے مسلط ہو جاتی ہیں اور انھیں طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں دینے لگتی ہیں ۔ ان کی معاونت کرنا تاکہ وہ کفر اور سرکشی کے مقابلہ میں ثابت قدم رہیں سراسر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔

مسلمانوں کو چاہئے کہ زکوٰۃ کے صرف میں ایسے کاموں کو اولین اہمیت دیں کیوں کہ اسلام کے مددگار اللہ کے بعد فرزندان اسلام ہی ہیں اور خاص طور سے صحافت کے درمیان اللہ کا کلمہ بلند کرنے حق بات کا اظہار کرنے، اسلام پر عائد کئے جانے والے جھوٹے الزامات کی تردید کرنے، شبہات کا ازالہ کرنے، اور اسلام کو ہر قسم کی حاشیہ آرائی اور شائبوں سے پاک کرکے صحیح شکل میں پیش کرنے کی خدمت انجام دے ـــــ بلا شبہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ایسی دینی کتاب کی وسیع پیمانہ پر اشاعت جو بنیادی اہمیت کی حامل ہو اور جو اسلام کو یا اس کے کسی پہلو کو اس خوبی کے ساتھ پیش کرے کہ اس کے پوشیدہ جواہر پر سے پردہ اٹھ جائے ۔ اس کی تعلیمات کی خوبیاں نمایاں ہوں اور اس کے حقائق بے نقاب ہوں جہاد فی سبیل اللہ کے مترادف ہے۔

پختہ کار، امانت دار اور مخلص افراد کو فارغ کرنا تا کہ وہ دین کی خدمت کریں ، اس کی روشنی چار دانگ عالم میں پھیلائیں، اس کے دشمنوں کی چالوں کو بے اثر کرکے رکھ دیں۔ فرزندان اسلام میں بیداری پیدا کریں اور عیسائی مشن، الحاد اور اباحیت کے طوفان کا مقابلہ کریں من جملہ جہاد فی سبیل اللہ کے ہے اور دین حق کے ایسے دور میں جبکہ اسلام غربت سے دوچار ہے۔ فقہ الزکوٰۃ ، ترجمہ از مولانا شمس پیرزادہ۔ ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے اس کا مقصد تعمیر ملت اور احیاء اسلام کے لئے جدوجہد کرنا ہے ماہنامہ الرسالہ اور مکتبہ الرسالہ اسی مرکز کے تحت قائم ہیں اس دینی و ملی مہم میں ہر طرح تعاون کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے

Printed page