سب سے بری چیز : خود پسندی
Al-Risala, August 1979, pp. 38–40
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین چیزیں نجات دینے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی۔ نجات دینے والی چیزیں ہیں : کھلے اور چھپے اللہ کا ڈر رکھنا، خوشی اور ناراضی دونوں حالتوں میں حق بات کہنا اور خوش حالی اور غریبی دونوں میں اعتدال پر قائم رہنا۔ ہلاک کرنے والی چیزیں یہ ہیں کہ خواہش کی پیروی بخل کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اور آدمی کی خود پسندی۔ اور یہ آخری چیز سب سے زیادہ سخت ہے (بیہقی) کمزوروں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرنا جنگ بدر (م ۲ ہجری) میں مشرکین کے جو ستر افراد گرفتار کر کے مدینہ لائے گئے، ان میں سے ایک کا نام سہیل بن عمرو تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ سہیل ایک آتش بیان مقرر ہے، آپ کے خلاف تقریریں کرتا رہتا ہے۔ اس کے دانت آپ نے فرمایا : ”اگر میں اس کے دانت توڑ دوں تو اللہ میرے دانت توڑ دے گا اگرچہ میں رسول ہوں “ (سیرت ابن ہشام) جنگ بدر کے قیدیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف صحابہ کے گھروں میں بانٹ دیا اور ہدایت فرمائی : استوصوا بالاساری خیرا (ان قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا) ان میں سے ایک قیدی ابو عزیز کا بیان ہے کہ مجھے جن انصاریوں کے گھر میں رکھا گیا ، وہ صبح و شام مجھ کو روٹی کھلاتے اور خود صرف کھجوریں کھا کر یمامہ کے سردار ثمامہ بن اثال جب گرفتار ہو کر آئے تو جب تک وہ قید میں رہے، آپ کے حکم سے ان کو عمدہ کھانا اور دودھ مہیا کیا جاتا رہا۔
مومن ہر وقت یاد رکھتا ہے کہ اس کی آخری منزل قبر ہے ابو نعیم نے عروہ کے واسطے سے نقل کیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ ایک روز ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ نے دیکھا کہ وہ کادہ کے ٹاٹ پر لیٹے ہوئے ہیں اور ایک گٹھڑی کا تکیہ بنا رکھا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نے دہ نہیں کیا
جو تمھارے ساتھیوں نے کیا ہے۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے امیر المومنین ! یہ میری خواب گاہ (قبر) تک پہنچانے کے لئے کافی ہے (یا امیر المومنین! هذا ابلغني المقيل، حليۃ الاولياء جلد ۱)
آخرت کی سختی کا خیال ہر چیز سے بے رغبت کر دیتا ہے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ اسلام سے پہلے تجارت کرتے تھے، اسلام کے بعد ان کی تجارت چھوٹ گئی۔ ابن عساکر کی ایک روایت کے مطابق انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں ابو الدرداء کی جان ہے، آج مجھ کو یہ بھی پسند نہیں کہ مسجد کے دروازہ پر میری ایک دکان ہو۔ میری ایک بھی جماعت کی نماز نہ چھوٹی ہو۔ میں روزانہ چالیس دینار کماؤں اور سب کا سب اللہ کے راستہ میں صدقہ کردوں۔ “ پوچھا گیا: اے ابو الدرداء ! کیا چیز ہے جس نے آپ کے لئے اس کو ناپسند سنا! جواب دیا: حساب کی سختی (شدة الحساب ، كنز العمال، جلد ۲ صفحہ ۱۴۹) آدمی لمبے انتظامات کرتا ہے حالاں کہ وہ جلد ہی مرنے والا ہے ابو نعیم نے عبد اللہ بن ابو ہذیل سے نقل کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب اپنا گھر بنایا تو انھوں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے کہا ، آؤ دیکھو میں نے کیا بنایا ہے۔ عمار رضی اللہ عنہ گئے اور ان کا مکان دیکھا۔ دور کی امید کر رہے ہو اور جلد ہی مرو گے (تامل بعید او تموت قريبا، حلية الاولیاء جلد ۱ صفحہ ۴۲) آخرت سے پہلے دنیا میں بدلہ ابو فرات کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا۔ ایک روز آپ نے اپنے غلام سے کہا: میں نے تیرا کان ملا تھا، تو مجھ سے اس کا بدلہ لے لے۔ اس نے آپ کا کان پکڑا ۔ آپ نے فرمایا اشد سختی سے مل): کتنا اچھا ہے کہ دنیا میں بدلہ ہو جائے، آخرت میں بدلہ کے لئے نہ رہے۔ (یا حبذا قصاص فى الدنيا لا قصاص فى الآخرة) موت کے قریب پہنچ کر بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو ان کے گھر کے لوگ جمع ہوئے اور کہا: واکرباہ (ہائے غم) بلال نے جواب میں کہا : واطرباہ، غدا القی الاحبة و صحبه (ہائے خوشی کل میں اپنے دوستوں سے ملوں گا، محمد اور ان کے اصحاب سے) خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا آخر وقت آیا تو آپ کی زبان سے نکلا : ان نحوت كفالا و وزراً ولا اجرا (نی سعید (اگر میں برابر پر چھوٹ جاؤں، نہ سزا ہو نہ انعام ملے تو یقیناً میں کامیاب رہا) سب سے زیادہ فکر جہنم کے عذاب سے بچنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام حبیبہ رض نے ایک روز ان لفظوں میں دعا مانگی : اللهم متعني بزوچی رسول الله و بابی سفیان خدایا ! میرے شوہر رسول اللہ اور میرے باپ ابوسفیان و باخی معاویه (مسلم) اور میرے بھائی معاویہ کا سایہ میرے اوپر دراز رکھ۔
آپ نے سن کر فرمایا : ام حبیبہ ! عمریں تو سب کی اللہ کے یہاں مقرر ہو چکی ہیں ۔ تم کو دعا کرنی تھی تو عذاب جہنم سے نجات پانے کی دعا کرتیں۔
مومن کی آنکھ کی ٹھنڈک یہ ہے کہ اس کی اولاد دین دار ہو مقداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ حال تھا کہ ایک گھر میں کوئی اسلام کا ماننے والا ہوتا، کوئی اس کا انکار کرنے والا۔ ایک مسلمان اپنے باپ، اپنے بیٹے لیا اپنے بھائی کو حالت کفر میں دیکھتا۔ اس سے سخت تکلیف ہوتی۔ اس کے دل کو اللہ تے جس ایمان کے لئے کھول دیا تھا، اس کی وجہ سے اس کو یقین ہوتا کہ یہ اسی حالت پر رہا تو ہلاک ہو جائے گا اور آگ کے عذاب میں داخل ہوگا۔ اس لئے اپنے ان رشتہ داروں کو دیکھ کر اس کی آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوتیں (وقد فتح اللہ قفل قلبه للايمان ليعلمانہ قد ہلك من دخل النار فلا تق عنه، حليتہ الادیاء، جلد اول) ایسے ہی لوگوں کے بارہ میں اللہ نے یہ آیت اتاری :
ربنا هب لنا من ازواجنا وذرياتنا قرة اعين واجعلنا اے ہمارے رب ! ہم کو اپنی بیویوں اور اپنی اولاد میں آنکھوں للمتقين اماما (شعراء) کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہم کو متقیوں کا امام بنا دے۔