Al-Risala · August 1979

جنت کی حرص

Al-Risala, August 1979, pp. 40–41

By Maulana Wahiduddin Khan

طبرانی اور ابن عساکر نے بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مکہ کے مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ پانی ان کو پسند نہ آیا۔ بنی غفار کے ایک آدمی کے پاس ایک کنواں تھا جس کو بئر رومہ کہا جاتا تھا۔ مہاجرین کو اس کا پانی پسند تھا۔ اس کا مالک ایک مشک پانی ایک مد (صاع کا چوتھائی) کے عوض بیچتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے کہا: بعنيها بعين في الجنة (اس کنویں کو جنت کے ایک چشمہ کے عوض بیچ دے)۔ اس آدمی نے کہا: میرے اور میرے عیال کے پاس اس کے سوا کوئی ذریعہ نہیں۔ اس لئے اس کو میں اس طرح نہیں دے سکتا۔ اس واقعہ کی خبر عثمان رضی اللہ عنہ کو پہنچی۔ انھوں نے بئر رومہ کو ۳۵ ہزار درہم دے کر خرید لیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا: اے خدا کے کیا اس کنویں کے عوض میرے لئے بھی جنت کا چشمہ ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ انھوں نے اس کو عام مسلمانوں کو دے دیا۔ ایک کے لئے برکت، دوسرے کے لئے وبال عبدالرزاق نے سعید بن مسیب کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو غزوہ حنین کے بعد کچھ عطیہ دیا۔ حضرت حکیم رضہ کو وہ کم معلوم ہوا۔ آپ نے دوبارہ عطا فرمایا۔ انھوں نے کہا اے خدا کے آپ کا کون سا عطیہ بہتر تھا۔ آپ نے فرمایا پہلا۔ پھر آپ نے کہا :

یا حكيم بن حزام إن هذا المال خضرة حلوة فمن اے حکیم ! یہ مال سرسبز وشیریں ہے جس نے اس کو سخاوت نفس اخذ ه بسخاوة نفس وحسن اكلة بورك له فيه اور بہتر طریق پر کھانے کے لئے لیا اس کے لئے اس میں برکت دی ومن اخذه باستشراف نفس وسوء اكلة لم يبارك جائے گی۔ اور جس نے اس کو حرص نفس کے ساتھ یا اور برے له فيه فكان كالذى يأكل ولا يشبع واليد العليا خير طریقہ سے کھایا اس کے لئے اس میں برکت نہ دی جائے گی، اللہ من اليد السفلى ۔ قال دمنك يا رسول اللہ قال ومعنی وہ اس آدمی کی طرح ہو گا جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔ (کنز العمال جلد ۳) کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔ پوچھا : خواہ آپ سے لے

اے خدا کے رسول۔ فرمایا خواہ مجھ سے لے دنیا میں جاہ پسندی آخرت میں ذلت کا باعث ہوگی بخاری نے ابو مجلز سے روایت کیا ہے ۔ معاویہ رضیہ نکلے وہ ایک مقام پر پہنچے جہاں عبداللہ بن عامر رضیہ اور عبداللہ بن زبیر رضیہ پیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت معاویہ رضیہ کو دیکھ کر عبداللہ بن عامر رضیہ کھڑے ہوگئے اور عبداللہ بن زبیر بیٹھے رہے۔ حضرت معاویہ رضیہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : جس کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ کے بندے اس کے لئے کھڑے رہیں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے (من سرہ ان يمثل له عباد الله قياما فليتبوأ بيتا من النار، الادب المفرد صفحه ۱۴۳) آخرت کی خاطر دنیا کو چھوڑنا ابو نعیم نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عرضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے کچھ لوگ آئے۔ کھانے کا وقت ہوا تو آپ ان کے پاس ایک بڑا پیالہ لائے جس میں بے چھنے آٹے کی روٹی اور روغن زیتون تھا۔ ان لوگوں سے انہوں نے آہستہ آہستہ بہت تھوڑا تھوڑا کھانا شروع کیا۔ آپ نے فرمایا: اے اہل عراق! تم جو کچھ کر رہے ہو، میں دیکھ رہا ہوں۔ اگر میں چاہوں تو میرے لئے بھی اچھا اور نرم کھانا تیار ہو سکتا ہے جیسا کہ تمہارے لئے تیار کیا جاتا ہے، پھر فرمایا: دلكنا نبتغى من الدنيا نا نجدها في آخرتنا. اما سمعتم مگر ہم اپنی دنیا میں باقی رکھتے ہیں تاکہ ہم اس کو اپنی آخرت میں اللہ عز وجل قال لقوم اذهبتم طيباتكم في حياتكم پائیں۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ نے ایک گروہ کے لئے فرمایا : تم اپنی اچھی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں حاصل کر چکے، ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: تم لوگ کیا چاہتے ہو۔ کیا میٹھا اور نمکین اور گرم اور سرد۔ جو کچی کھاؤ، پھینکنے ہی کی چیز بیٹ میں بنے گی (حلیۃ الاولیاء جلد ۱) سائب بن یزید کہتے ہیں۔ میں نے کئی بار شام کا کھانا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ معمولی روٹی اور سادہ گوشت کھاتے پھر اپنے ہاتھ کو اپنے پاؤں سے پونچھ لیتے اور فرماتے : آل عمر کا تو یہ ہی ہے (يا كل الخبز و اللحم ثم يمسح يده على قدمه ثم يقول : هذ امندیل عمر د آل عمر)

Printed page