خدا کو ہمارے دل کی تڑپ مطلوب ہے
Al-Risala, August 1979, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
عبد اللہ بن جدعان ایک مشرک مگر نیک دل عرب تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے مر گیا۔ نے جاہلیت کے زمانہ میں بہت سے ایسے کام کئے تھے جن کو عام طور پر نیک کام سمجھا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا اس کو اس کے نیک اعمال کا بدلہ ملے گا ۔ آپ نے فرمایا: اس کی زبان سے کبھی یہ نہیں نکلا کہ اللھم اغفر لی (اے اللہ مجھے بخش دے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے اصل میں جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ ان کے اندر عجز کی کیفیت پیدا ہو۔ وہ شدید طور پر یہ محسوس کرنے لگیں کہ تمام چیزوں کا مالک صرف اللہ ہے۔ اسی کے دینے سے وہ پائیں گے، وہ اگر نہ دے تو وہ کچھ بھی نہیں پاسکتے۔ اس حقیقت واقعہ کو اپنے اندر اتار لینے کا نام ایمان ہے۔ جو اس یافت کے مقام تک نہ پہنچے اس کی پوری زندگی بے قیمت ہے، حتیٰ کہ اس کا ہلکا نر نیک عمل بھی۔ اللہ کے یہاں وہ کام مقبول ہوتا ہے جو صرف اس کی خاطر کیا گیا ہو، محض انسانی ہمدردی یا خدمت خلق کے جذبہ کے تحت کیا ہوا کام اللہ کو پسند نہیں۔ کیونکہ وہ آدمی کی اپنی بڑائی کی تسکین کے لئے ہوتا ہے جب کہ خدا کی اس دنیا میں خدا کے سواکسی کو کسی بھی قسم کی کوئی بڑائی حاصل نہیں۔ اسلامی انقلاب اسلامی لوگوں کے ذریعہ آتا ہے غزوہ بدر کے موقع پر ایک بہادر مشرک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ میں چلنے کی درخواست کی۔ نے اس کو قبول نہیں کیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو۔ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا: میں کسی مشرک سے مدد نہیں لے سکتا۔ اسلام کے بعد اس نے کلمہ کا اقرار کیا اور مسلمان ہو کر غزوہ میں شرکت کی ــــ یہ پیغمبر اسلام کی سیاست تھی۔ مگر موجودہ زمانہ میں اسلامی سیاست کے ایسے قائدین پیدا ہوئے ہیں جن کا سارا انحصار غیر اسلامی طاقتوں کے تعاون پر ہوتا ہے۔ تاہم انھیں اپنی اس سیاست کے غیر اسلامی ہونے کا احساس صرف اس وقت ہوتا ہے جب کہ ان کے لائے ہوئے ’’ انقلاب ‘‘ پر غیر اسلامی عناصر قبضہ کر لیں اور ان کے اپنے حصہ میں احتجاج اور ماتم کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔