دو آنکھیں جو عذاب سے محفوظ رہیں گی
Al-Risala, August 1979, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عینان لا تمسهما النار ، وعين بكت من خشية الله عين باتت تحرس في سبيل الله (دو آنکھیں ہیں جن کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔ ایک وہ آنکھ جو خدا کے ڈر سے روئے ۔ دوسری وہ آنکھ جو خدا کی راہ میں چوکیداری کرتے ہوئے رات گزارے) جہاں تک عین خاشعہ کا سوال ہے، اس کا مفہوم ہمیشہ اور ہر حال میں ایک ہی رہتا ہے۔ اس کا مطلب ہمیشہ یہ رہے گا کہ آدمی کو خدا کی یاد اس طرح تڑپائے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئیں ۔ مگر عین حارسہ کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔ اسلام کی جغرافی سرحدوں کی حفاظت کرنا جس طرح اس میں داخل ہے، اسی طرح ایک بندہ مومن کا یہ عمل بھی اس کے ذیل میں آتا ہے کہ وہ خدا کے دین پر جاہلانہ حملوں کو دیکھ کر بے تاب ہو جائے اور اس کے دفاع کے لئے علمی تیاری میں اس طرح لگا ہوا ہو کہ اس کی آنکھ کتابوں کے مطالعہ میں غرق ہو۔ کتب خانوں کی الماریوں میں اس کی آنکھ دین حق کے دفاع کے لئے مواد ڈھونڈ رہی ہو۔