Al-Risala · January 1979

نعمجوں کا حق ادا کرو

Al-Risala, January 1979, pp. 3–4

By Maulana Wahiduddin Khan

واللیل اذا سجٰی۔ ما ودعک ربک وما قلی۔ قسم ہے دھوپ کی اور رات کی جب چھا جائے۔ ولا الآخرة خیر لک من الاولیٰ۔ ولسوف رب نے تجھ کو نہیں چھوڑا اور نہ بیزار ہوا ہے۔ یعطیک ربک فترضیٰ۔ الم یجدک یتیماً فاویٰ۔ آخرت بہتر ہے تیرے لئے دنیا سے۔ اور تیرا رب تجھ کو دیگا ووجدک ضالا فہدیٰ۔ ووجدک عائلاً پھر تو راضی ہوگا۔ کیا اس نے تم کو یتیم پا کر جگہ نہ دی۔ فاما الیتیم فلا تقہر۔ واما السائل فلا اور تجھ کو سرگرداں پایا تو راہ دکھائی۔ اور تجھ کو نادار تنہر و اما بنعمة ربک فحدث پایا تو مال دار کر دیا۔ پس جو یتیم ہو اس کو نہ دبا۔ الضحٰی مانگنے والے کو نہ جھڑک۔ اور اپنے رب کی نعمت کو بیان کر ایک شخص جب دعوت حق کا کام لے کر اٹھتا ہے تو لوگوں کی طرف سے اس کو کبھی اچھا جواب ملتا ہے، کبھی بسا کبھی رد عمل حالات سامنے آتے ہیں کبھی تاریک۔ فرمایا کہ اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ یہی دنیا کا نظام ہے۔ یہاں روشنی اور تاریکی دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ حق کے مسافر کو بھی کبھی امیدوں سے سابقہ پیش آئے گا، کبھی اندیشوں سے۔ یہ سفر کبھی ہموار فضا میں طے نہیں ہوتا۔ اگر چہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ دنیا میں بھی اپنے دین کے خادموں کی مدد کرے گا، تاہم داعی کو اپنی ساری توجہ آخرت کی منزل پر لگائے رکھنا چاہئے جو ہر قسم کے خیر اور سکون کا واحد ابدی مقام ہے۔ داعی کی نظر ان چیزوں پر نہیں ہونی چاہئے جو ابھی اس کو نہیں ملیں۔ بلکہ اس کو دیکھنا چاہئے کہ جو چیزیں مل چکی ہیں ان کا حق ادا ہو رہا ہے یا نہیں۔

اگلی آیتوں میں حق کی ادائیگی کی صورت بتا دی۔ تم یتیم ہو گئے تھے، اللہ نے تمھاری یتیمی کی تلافی کا انتظام کیا اس لئے تمھارے دل میں ان لوگوں کی جگہ ہونا چاہئے جو اپنے پیدائشی حالات کے نتیجہ میں بے جگہ ہو گئے ہوں۔ تم بے مال تھے، اللہ نے تم کو معاشی سہارا فراہم کیا۔ اس لئے تم کو بھی محروموں اور ضرورت مندوں کا خیر خواہ بننا چاہئے تم راہ سے بھٹکے ہوئے تھے، اللہ نے تم کو ہدایت یاب کیا۔ اس لئے تم اس احسان کا شکر اس طرح ادا کرو کہ لوگوں کو ہدایت کے راستے پر لانے کی کوشش کرو۔ تو نعمت ہدایت تم کو ملی ہے اس ہدایت کو دوسروں تک پہنچاؤ۔ ”سائل کو نہ جھڑکو۔ “ کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی حق کی تلاش میں اللہ کے سامنے سائل بنے تو اللہ نے تم سے بے نیازی نہیں برتی۔ یتیم اور نادار اور بے راہ ہونے کے باوجود پوری طرح تمھاری طرف توجہ دی اور تم کو تمھارے ”سوال“ کا مکمل جواب عطا فرمایا۔ تمھارا بھی یہ حال ہونا چاہئے کہ جو کوئی تمھارے پاس اپنا سوال لے کر آئے، جو بھی تم سے حق کو جاننا چاہے اس کو تم نہ جھڑ کو۔ یہ ایک انتہائی صورت کا حکم ہے۔ کیوں کہ نیاز مندانہ سوال پر تو کوئی بھی شخص کسی کو نہیں جھڑکتا۔ سائل کو جھڑکنے کی نوبت اسی وقت آتی ہے جب کہ اس نے اپنے سوال کو بے ڈھنگے اور نامعقول انداز سے پیش کیا ہو۔ گویا آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص خواہ کتنی ہی سختی کے ساتھ سوال کرے تم اپنے جواب میں سختی کا طریقہ نہ اختیار کرو بلکہ ہر حال میں نرمی اور شفقت کے ساتھ اس کا جواب دو۔

مسلمانوں کا گول دائرہ بنتا ہے۔ درمیان میں کعبہ ہوتا ہے اور ساری دنیا میں اس کے گرد دائرہ بنائے ہوئے مسلمان نماز ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسی عظیم اور مکمل اجتماعیت ہے جس کی مثال کسی بھی دوسرے مذہبی یا غیر مذہبی گروہ کے یہاں نہیں ملتی۔

اس کے باوجود یہ عجیب بات ہے کہ مسلمان ہی وہ گروہ ہیں جو آج ساری دنیا میں سب سے زیادہ غیر متحد ہیں۔ نہ کوئی دنیوی مقصد ان کو متحد کرنے میں کامیاب ثابت ہو رہا ہے اور نہ کوئی اخروی مقصد، اتحاد کے اتنے شان دار امکانات کے باوجود اختلاف کی ایسی بڑی مثال انسانی تاریخ میں دوسری نہیں ملے گی۔

Printed page