Al-Risala · September 1979

جب آدمی کے سینہ میں دل نہ ہو

Al-Risala, September 1979, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

اُطْلُبْ قَلْبَكَ فِي ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ عِنْدَ سَمَاعِ الْقُرْآنِ تین مواقع پر تم اپنے دل کو تلاش کرو۔ قرآن سننے کے وقت، وَفِي مَجَالِسِ الذِّكْرِ وَفِي أَوْقَاتِ الْخَلْوَةِ، فَإِنْ لَمْ ذکر کی مجلسوں میں اور تنہائی کے اوقات میں۔ اگر ان مواقع تَجِدْهُ فَْأَلِ اللَّهَ أَنْ يَمُنَّ عَلَيْكَ پر تم اس کو نہ پاؤ تو اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم کو ایک دل دیدے۔ بِقَلْبٍ فَإِنَّهُ لَا قَلْبَ لَكَ (عبد اللہ بن مسعود) کیوں کہ تمھارے پاس دل نہیں ہے۔ انسان کے سینہ میں دل اس لئے رکھا گیا ہے کہ وہ خدا کی تجلیات کا مسکن بنے۔ دل گویا خدا کا گھر ہے۔ اس لئے جب خدا کا کلام پڑھا جائے تو چاہئے کہ انسان کا دل اس سے دہل اٹھے۔ جب خدا کا چرچا کیا جائے تو دل اس کی عظمت کے احساس سے تڑپ اٹھے۔ جب آدمی اپنی تنہائیوں میں ہو تو اس کا دل خدا کو اپنا ہم نشین پائے اور اس پر وہ تجربات گزریں جو خدا کی یاد سے قلب انسانی پر گزرتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کا دل زندہ ہے۔ وہ فی الواقع صاحب دل اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا دل مرچکا ہے اس کو وہ دل حاصل نہیں جو خدا کی تجلیات کا مہبط بن وہ لمحات جب کہ دل کے تار خصوصی طور پر جاگ اٹھتے ہیں، اس وقت بھی اس کے دل کے تار نہیں جاگتے۔ دلانے والے مواقع جب کہ انسان خدا کے بہت قریب پہنچ جاتا ہے، وہ بھی اس کو خدا کی یاد دلانے والے ثابت نہیں ہوتے۔ ایسے آدمی کو جاننا چاہئے کہ وہ اپنی سب سے قیمتی متاع (دل) سے محروم ہو گیا ہے۔ اس کو سب سے زیادہ جس چیز کی دعا کرنی چاہئے وہ یہ کہ اس کا رب اس کو ایک دل عطا کر دے۔

Printed page