Al-Risala · September 1979

کائنات خاموش زبان میں کہتی ہے

Al-Risala, September 1979, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈھاک ایک معمولی درخت ہے۔ مگر اس کے اوپر بے تحاشہ پھول اگتے ہیں۔ موسم خزاں اس کے پت جھڑ کے بعد اس کا درخت بظاہر ایک سوکھی لکڑی کی مانند، اس سے بھی زیادہ ایک سوکھی زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک خاموش انقلاب ہوتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر نہایت خوش رنگ پھول اس کی شاخوں میں کھل اٹھتے ہیں۔ سوکھی لکڑی کا ایک ڈھانچہ لطیف اور رنگین پھولوں سے ڈھک جاتا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ایک محروم اور بے قیمت وجود کے لئے خدا نے خصوصی طور پر اپنی خوب صورت چھتری بھیج دی ہے۔

ایسا شاید اس لئے ہوتا ہے کہ کوئی بندہ خدا اس کو دیکھ کر کہے ــــ " خدایا! میں بھی ایک ڈھاک ہوں، تو چاہے تو میرے اوپر حسین پھول کھلا دے۔ میں ایک ٹھنٹھ ہوں، تو چاہے تو مجھ کو سرسبز و شاداب کر دے۔ بے معنی وجود ہوں، تو چاہے تو میری زندگی کو معنویت سے بھر دے۔ میں جہنم کے کنارے کھڑا ہوں، تو چاہے تو مجھ کو جنت میں داخل کر دے (نمبر ۳۳ مارچ ۱۹۷۹)

Printed page