Al-Risala · September 1979

آپ سب سے بڑے تھے

Al-Risala, September 1979, pp. 7–12

By Maulana Wahiduddin Khan

میرا یہ انتخاب کہ محمد دنیا کی تمام انتہائی با اثر شخصیتوں میں سر فہرست ہیں، کچھ قارئین کو اچنبھے میں ڈال سکتا ہے۔ کچھ اور لوگ اس پرترض ہوسکتے ہیں۔ مگر محمد تاریخ کے واحد شخص تھے جنہوں نے اعلیٰ ترین کامیابی حاصل کی، مذہبی سطح پر بھی اور دنیاوی سطح پر بھی۔ محمد نے معمولی حیثیت سے آغاز کر کے ایک عظیم ترین مذہب کی بنیاد رکھی اور اس کو وہ انتہائی مؤثر سیاسی لیڈر بن گئے۔ ان کی وفات کے تیرہ صدیوں بعد آج بھی ان کے اثرات غالب اور طاقتور ہیں۔ اس کتاب میں جو اہم تاریخی شخصیتوں کا انتخاب کیا گیا ہے ، ان کی اکثریت اس خوش قسمتی کی مالک تھی کہ وہ تہذیب کے مرکزوں میں پیدا ہوئی اور وہاں پلی بڑھی۔ وہ ایسی قوموں کے فرد تھے جن میں اعلیٰ تمدن تھایا ان کو سیاسی مرکزیت حاصل تھی۔ مگر محمد ۵۷۰ء میں مکہ کے شہر میں پیدا ہوئے جو جنوبی عرب میں واقع تھا اور اس وقت دنیا کا ایک پس ماندہ علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ تجارت، آرٹ اور علم میں اس کو کوئی مرکزیت حاصل نہ تھی۔ چھ سال کی عمر میں یتیم ہوکر ان کی پرورش ایک معمولی ماحول میں ہوئی۔ اسلامی روایات مزید بتاتی ہیں کہ وہ بے پڑھے لکھے تھے۔ اقتصادی حالت ۲۵ سال کی عمر میں صرف اس وقت بہتر ہوئی جب کہ انہوں نے ایک دولت مند بیوہ سے شادی کی جن کی عمر ۴۰ سال تھی۔ تاہم چالیس سال کی عمر تک بظاہر کوئی ایسی علامت نہ تھی کہ وہ کوئی ممتاز شخصیت کے انسان ہیں۔ بیشتر عرب اس وقت آسمانی کتاب سے محروم تھے۔ وہ بہت سے دیوتاؤں پر عقیدہ رکھتے تھے۔ تاہم مکہ میں محدود تعداد میں کچھ یہودی اور عیسائی تھے۔ محمد نے سب سے پہلے انہیں سے واحد اور قادر مطلق خدا کا تصور لیا جو تمام کائنات کا حکمران تھا۔ جب ان کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو محمد کو یقین ہو گیا کہ یہ ایک سچا خدا (اللہ) ان سے کلام کر رہا ہے۔ نے سچے مذہب کی تبلیغ کے لئے ان کا انتخاب کر لیا ہے۔

تین سال تک محمد صرف اپنے قریبی دوستوں اور متعلقین پر تبلیغ کرتے رہے۔ پھر تقریبا ۶۱۳ء میں انہوں نے عوام میں تبلیغ شروع کی۔ دھیرے دھیرے لوگوں نے ان کے مذہب کو قبول کرنا شروع کیا تو مکہ کے سردار ان کو اپنے لئے ایک خطرناک مصیبت سمجھنے لگے۔ ۶۲۲ میں محمد کو اپنی حفاظت کا خطرہ محسوس ہونے لگا اور وہ مدینہ چلے گئے جو مکہ کے شمال میں تقریبا ۲۰۰ میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ یہاں ان کو قابل لحاظ سیاسی طاقت کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ یہ ہجرت پیغمبر کی زندگی میں ایک نقطہ انقلاب تھا۔ مکہ میں ان کے ساتھیوں کی تعداد صرف چند تھی۔ مدینہ میں ان کے ساتھیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ انہوں نے جلد اتنا اثر پیدا کر لیا کہ علاقہ مدینہ کے مطلق حکمران بن گئے۔ سال میں، جب کہ محمد کے ساتھیوں کی تعداد تیزی سے بڑھی، مدینہ اور مکہ کے درمیان جنگوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا یہ جنگ ۶۳۰ میں ختم ہوئی جب کہ محمد دوبارہ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے۔ ان کی زندگی کے بقیہ ڈھائی سالوں میں عرب قبیلے بہت تیزی سے ان کے نئے مذہب میں داخل ہو گئے۔ ۶۳۲ میں جب محمد کا انتقال ہوا تو وہ تمام جنوبی عرب کے حکمراں بن چکے تھے۔

عرب کے بدو قبائل ماضی سے سخت جنگ جو چلے آ رہے تھے۔ مگر ان کی تعداد کم تھی اور وہ اختلاف اور باہمی لڑائیوں کے نتیجہ میں برباد ہو رہے تھے۔ وہ شمالی عرب کے زرعی علاقوں میں آباد شہنشاہیتوں کی بڑی فوجوں سے کوئی نسبت نہ رکھتے تاہم محمد نے پہلی بار ان کو منظم کیا۔ ایک خدا پر پر جوش اعتقاد سے مسلح ہو کر یہ چھوٹی عرب فوجیں انسانی تاریخ کی سب سے حیرت ناک فتوحات کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ عرب کے شمال مشرق میں ساسانیوں کی عظیم نو پارسی شہنشاہیت تھی، عرب کے شمال جنوب میں بازنطینی یا مشرقی رومی شہنشاہیت تھی جس کا مرکز قسطنطنیہ تھا۔ عددی اعتبار سے عرب اپنے حریفوں کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے۔ تاہم جنگ کے میدان میں ، پر جوش عربوں نے بہت تیزی سے تمام میسو پوٹامیہ، شام اور فلسطین کو فتح کر لیا۔ ۶۳۴ء میں مصر کو بازنطینی سلطنت سے توڑ لیا گیا۔ ایرانی فوجیں ، ۴۳ میں قادسیہ اور ۴۲۷ میں نہاوند کی جنگوں میں پسپا کر دی گئیں ۔

مگر یہ عظیم فتوحات، جو کہ محمد کے قریبی ساتھیوں اور ابتدائی خلفاء ابو بکر اور عمر بن الخطاب کی رہنمائی میں انجام پائیں، عرب پیش قدمیوں کی انتہا نہ تھیں۔ ۱۱۷ تک عرب فوجوں نے شمالی افریقہ سے لے کر بحر اٹلانٹک تک مکمل طور پر فتح کر لیا تھا۔ یہاں سے وہ شمال میں بڑھے اور آبنائے جبرالٹر کو پار کرتے ہوئے اسپین کی گاتھ سلطنت کو مغلوب کر کے اس پر قبضہ حاصل کر لیا۔

تھوڑی دیر کے لئے محسوس ہونے لگا کہ مسلمان تمام مسیحی یورپ پر قابض ہو جائیں گے۔ مگر ۷۳۲ء میں ٹورس کی مشہور جنگ میں ایک مسلمان فوج ، جو کہ فرانس کے مرکز تک پہنچ چکی تھی، بالآخر فرانسیسیوں کے ہاتھوں شکست کھاگئی۔ تاہم ان بدو قبائل نے ، جو کہ پیغمبر کی تعلیمات سے متاثر تھے، ایک صدی کی قلیل مدت میں ایک ایسی سلطنت قائم کرلی جو ہندستان کی سرحدوں سے لے کر بحر اٹلانٹک کے ساحل تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ اتنی بڑی سلطنت تھی جیسی سلطنت اس سے پہلے تاریخ نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ تمام ممالک جو عربوں نے فتح کئے، ہر جگہ بہت بڑے پیمانے پر لوگوں نے نئے مذہب کو قبول کر لیا۔

یہ تمام فتوحات مستقل ثابت نہ ہوسکیں۔ ایرانی اگر چہ پیغمبر کے مذہب پر قائم رہے، تاہم انھوں نے عربوں کے اقتدار سے آزادی حاصل کر لی۔ اسپین میں سات سو سال کی جنگوں کے بعد آخر کار عیسائیوں نے پورے جزیرہ نما کو دوبارہ فتح کر لیا۔ تاہم میسو پوٹامیہ اور مصر جو کہ قدیم تہذیب کے گہوارہ رہے ہیں، بدستور عرب باقی رہے اور اسی طرح شمالی افریقہ کا پورا ساحلی علاقہ بھی۔ نیا مذہب ، بلاشبہ درمیانی صدیوں میں مسلمانوں کی ابتدائی مقبوضہ سرحدوں سے بہت آگے تک پھیلتا رہا۔ آج اس کے ماننے والوں کی تعداد افریقہ اور وسط ایشیا میں دسیوں ملین ہے اور پاکستان اور شمالی ہندوستان اور انڈونیشیا میں اور بھی زیادہ ہے۔ انڈونیشیا میں اسلام ایک اتحاد کی عامل ثابت تاہم برصغیر ہند میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان کشمکش اتحاد کے راستہ میں ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ اب اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ محمد کے اثرات مجموعی طور پر انسانی تاریخ کے اوپر کیا ہیں۔ تمام مذاہب کی طرح اسلام اپنے پیروؤں کی زندگی کو غیر معمولی طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب کے بانیوں نے الارسال ستمبر ۱۹۷۹

ہماری اس کتاب میں نمایاں طور پر جگہ پائی ہے۔ چوں کہ عیسائی سرسری اندازہ کے مطابق، دنیا میں مسلمانوں کے مقابلہ میں تقریباً دگنی تعداد میں ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ بات عجیب معلوم ہوگی کہ محمد کو ہم نے اس کتاب میں مسیح سے اوپر رکھا ہے۔ ہمارے اس فیصلہ کے دو بڑے وجوہ ہیں۔ اول محمد نے اسلام کی ترقی میں اس سے کہیں زیادہ اہم حصہ ادا کر لیا ہے جتنا مسیح نے عیسائی مذہب کی ترقی کے لئے کیا ہے۔ مسیحیت کی بنیادی اخلاقیات، جس حد تک وہ یہودیت سے مختلف ہیں، ان کی تعلیم اگرچہ حضرت مسیح نے دی۔ مگر مسیحی الہیات کا وضع کرنے والا اصلا سینٹ پال ہے۔ وہی اس کا اصل مبلغ ہے اور عہد نامہ جدید کے بڑے حصہ کا مصنف بھی۔

مگر اسلام کی الہیات اور اس کے بنیادی اخلاقی اصول دونوں کو دینے والے محمد تھے۔ مزید یہ کہ نئے مذہب کی تبلیغ میں انھوں نے کلیدی حصہ ادا کیا اور اسلام کے مذہبی اعمال کو قائم کیا۔ پھر وہی ہیں جو کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کے مصنف ہیں، جو کہ محمد کے کچھ واردات قلب کا ریکارڈ ہے اور جس کی بابت ان کا یقین تھا کہ وہ براہ راست خدا کی طرف سے ان پر الہام کیا گیا ہے۔ ان الہامات کا اکثر حصہ محمد کی زندگی ہی میں صحت کے ساتھ لکھ لیا گیا تھا اور ان کی وفات کے جلد ہی بعد ان کو ایک مستند مجموعہ کی صورت میں مرتب کیا گیا ۔ اس لیے قرآن قریبی طور پر محمد کے خیالات اور تعلیمات کی نمائندگی کرتا ہے اور بڑی حد تک ان کے بولے ہوئے اصل الفاظ کا بھی۔ مسیح کی تعلیمات کے بارے میں اس قسم کا تفصیل مجموعہ موجود نہیں۔ قرآن چوں کہ مسلمانوں کے لئے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ بائبل مسیحیوں کے لئے۔ قرآن کے واسطے سے مسلمانوں کے اوپر محمد کا اثر غیر معمولی رہا ہے۔ اغلب ہے کہ محمد کے اضافی اثرات اسلام پر اس سے بہت زیادہ ہوں جتنا کہ مسیح اور سینٹ پال کا مجموعی اثر مسیحیت پر۔ البتہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خالص مذہبی سطح پر محمد کے اثرات انسانی تاریخ پر اتنے ہی ہیں جتنے مسیح کے ہیں۔ مزید یہ کہ محمد (بمقابلہ مسیح کے دنیاوی لیڈر بھی تھے اور مذہبی لیڈر بھی۔ در حقیقت عرب فتوحات کے پیچھے قوت محرکہ کی حیثیت سے ان کو تمام زمانوں میں سب سے زیادہ با اثر سیاسی لیڈر کہا جا سکتا ہے۔

اکثراہم تاریخی واقعات کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ناگزیر تھے اور جس خاص سیاسی لیڈر نے اس کی رہنمائی کی، اس کے بغیر بھی وہ وقوع میں آتے۔ مثال کے طور پر، جنوبی امریکہ اس وقت بھی اسپین سے آزادی حاصل کر لیتا اگر سائمن بولیور کا سرے سے وجود نہ ہوتا۔ مگر یہی بات عرب فتوحات کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی۔ محمد سے پہلے عرب میں اس قسم کا کوئی واقعہ ظہور میں نہیں آیا۔ اور یہ یقین کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ ان کے بغیر بھی یہ فتوحات حاصل انسانی تاریخ میں اس سے ملتی جلتی فتوحات صرف منگولوں کی ہیں جو انھوں نے تیرھویں صدی میں حاصل کیں۔ فتوحات بنیادی طور پر چنگیز خاں کے اثر سے ہوئیں۔ تاہم یہ فتوحات عربوں کی فتوحات سے وسیع تر ہونے کے باوجود مستقل قائم نہ رہ سکیں اور آج منگولوں کے پاس صرف وہی علاقے ہیں جو ان کے پاس چنگیز خاں سے پہلے تھے۔ عربوں کی فتوحات کا معاملہ بالکل مختلف ہے، عراق سے مراکش تک عرب قوموں کا ایک پورا سلسلہ پھیلا ہوا ہے جو نہ صرف اسلام میں اپنے عقیدہ کی وجہ سے متحد ہیں بلکہ عربی زبان، تاریخ اور کلچر بھی سب کا ایک ہے۔ مسلم مذہب میں قرآن

کی مرکزیت اور یہ واقعہ کہ وہ عربی زبان میں لکھا گیا ہے، اس نے غالباً عربی کو اس سے بچایا ہے کہ وہ مختلف اور ایک دوسرے کے لئے ناقابل فہم زبانوں میں تقسیم ہو جائے۔ حالاں کہ درمیانی تیرہ صدیوں میں ایسا ہونا بالکل قرین قیاس تھا۔ عرب ریاستوں میں اختلاف اور تقسیم میں یقیناً موجود ہیں اور وہ قابل لحاظ ہیں، مگر جزیئی عدم اتحاد کو دیکھ کر ہمیں اتنا اندھا نہیں ہونا چاہئے کہ ہم ان اہم اتحادی اجزاء کو نہ دیکھیں جو مسلسل ان کے درمیان پائے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ۱۹۷۳ء کی سردیوں میں عربوں نے تیل کا بائیکاٹ کیا تو ایران اور انڈونیشیا اس میں شریک نہیں ہوئے۔ مگر یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ تمام عرب ریاستیں اور صرف عرب ریاستیں اس منصوبہ میں شریک ہوئیں۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ ساتویں صدی میں عربوں کی فتوحات انسانی تاریخ میں مسلسل اہم حصہ ادا کر رہی ہیں۔ اب تک جاری ہے ۔ مذہبی اور دنیاوی اثرات کا یہی بے نظیر اجتماع ہے جو میری نظر میں محمد کو اس لائق بناتا ہے کہ ان کو تاریخ کا سب سے زیادہ با اثر واحد شخص قرار دیا جائے ۔ (انگریزی سے ترجمہ)

یہ مضمون مائیکل ہارٹ (پیدائش ۱۹۳۲) کی کتاب ایک سو (100 The) سے ماخوذ ہے، مصنف ایک امریکی عالم فلکیات ہیں اور اسی کے ساتھ مورخ بھی۔ انھوں نے اور ان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ بیوی نے مل کر دنیا کی مشہور شخصیتوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعہ کا حاصل انھوں نے ۵۷۲ صفحات کی ایک انگریزی کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک سو ایسے آدمیوں کے حالات درج ہیں جنھوں نے مصنف کے نزدیک تاریخ پر نمایاں ترین اثرات کتاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو سر فہرست رکھا گیا ہے۔ کیوں کہ مصنف کے مطالعہ کے مطابق وہ تاریخ کے سب سے بڑے انسان ہیں۔ انسانی تاریخ پر آپ نے جو اثرات ڈالے وہ کسی دوسرے واحد شخص نے نہیں ڈالے۔ اس کتاب میں نمبر ۳ پر حضرت مسیح ، نمبر ۶ پر حضرت موسیٰ اور نمبر ۸ پر حضرت عمر بن الخطابؓ کو رکھا گیا ہے۔ کے اس حصہ کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہے، اس کتاب کی قیمت ساڑھے بارہ ڈالر ہے۔ کتاب میں اگر چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر معمولی خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ تاہم طریق مطالعہ کے اعتبار سے اس میں وہ خامیاں موجود ہیں جو غیر مسلم سیرت نگاروں کے یہاں اکثر پائی جاتی ہیں۔ مثلاً یہ کہنا کہ آپ نے ابتداً یہودیوں اور عیسائیوں سے توحید کا تصور لیا۔ یا یہ کہ آپ قرآن کے مصنف تھے۔ یہ باتیں نہ صرف ہمارے عقائد کے خلاف ہیں بلکہ خالص علمی پہلو سے بھی بالکل بے بنیاد ہیں اور ان کے رد میں اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ کے علمی اور تاریخی طور پر باطل ثابت ہونے کے باوجود مغربی علماء کیوں انھیں دہراتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا مخصوص ذہن ہے ، وہ ’’علم‘‘ کے کسی غیر زمینی ماخذ کو نہیں مانتے۔ اس لئے ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک شخص نے زمین سے ماورا کسی ذریعہ سے کیسے علم حاصل کر لیا۔ جب آدمی کے ذہن میں کوئی بات بیٹھ جائے تو اس کے خلاف کوئی بات، خواہ وہ کتنی ہی مدلل ہو، اس کے ذہن کی پکڑ میں نہیں آتی۔ وہ اپنی بات کو اس طرح دہراتا رہے جیسے کہ وہ بدستور ایک مسلمہ صداقت ہے ۔ خواہ اس کو کتنے ہی معقول دلائل سے رد کیا جا چکا ہو ( مترجم ) (رسالہ، ستمبر ۱۹۷۹ء

عید آغاز حیات دن ہے۔ روزہ کے مہی احتساب کا مہینہ ہے اور عید کا دن اس کے بعد نئے حوصلہ کے ساتھ مستقبل کی طرف اپنا سفر شروع کرنئے کا۔

روزہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی دنیا سے اور دنیا کی چیزوں سے ایک محدود مدت کے لئے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے۔ حتیٰ کہ اپنی فطری ضروریات تک میں کمی کر دے۔ رمضان کا اعتکاف اسی کی انتہائی صورت ہے جب کہ بندہ ماسوا سے قطع تعلق کر کے خدا کے گھر میں آکر پڑ جاتا ہے۔ اس کا مطلب لوگوں کو رہبان بنانا نہیں ہے۔ یہ ”حساب کئے جانے سے پہلے اپنا حساب کر لو، کا ایک وقتی لمحہ ہے تاکہ مستقل زندگی کے لئے لوگوں کو تیار کیا جائے۔ عید کا دن اس وقتی لمحہ کا خاتمہ ہے جب کہ مسلمان نئے شعور اور نئی قوت عمل کے ساتھ از سر نو زندگی کے میدان میں داخل ہوتا ہے۔ تزکیہ نفس اور صبر اور تعلق باللہ کی جو دولت اس نے روزہ کے ذریعہ پائی ہے، اس کو ساری زندگی میں پھیلانے کے لئے دوبارہ دنیا کے ہنگاموں میں واپس آجاتا ہے۔ روزہ وقتی طور پر عالم مادی سے کٹنا اور عید کا دوبارہ عالم مادی میں لوٹ آنا ہے۔ روزہ جس طرح محض بھوک پیاس نہیں ہے۔ اسی طرح عید محض کھیل تماشے کا نام نہیں ہے۔ روزہ اللہ سے قربت حاصل کرنے کی کوشش ہے اور عید اس نے بہتر سال کا آغاز ہے جو روزہ کے بعد روزہ داروں کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔

آئیے ہم عید سے اپنی نئی زندگی شروع کریں ۔ عید کے دن کو اپنی دینی و ملی تعمیر کا آغاز کا دن بنائیں ۔ ہم نئی ایمانی قوت اور نئے عملی حوصلہ کے ساتھ زندگی کی جد و جہد میں داخل ہوں۔ ہمارا سینہ خدا کے نور سے ہماری مسجدیں خدا کے ذکر سے آباد ہوں۔ ہمارے گھر تقویٰ اور تواضع کے گھر بن جائیں۔ کے لئے ہم سب ایک مؤکدہ جد و جہد شروع کریں جس کے نتیجہ میں ہم کو دنیا میں اللہ کی نصرت ملتی ہے اور آخرت میں اللہ کی جنت۔ روزہ کے بعد عید کا آنا روزہ داروں کے لئے خوش خبری ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے اعلان ہے کہ اگر ہم نے روزہ کی اسپرٹ کو نہ زندگی میں استعمال کیا تو ہم دونوں جہان کی خوشیوں سے ہم کنار ہوں گے عید ایک خوش خبری ہے۔ اس بات کی خوش خبری کہ ہم خوشی کو پاسکتے ہیں، ہم خوشی کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہم خوشی کے کنارے پہنچ گئے ہیں۔ مگر منزل تک پہنچنے کے لئے ابھی ہم کو ایک جست لگانی ہے۔ نے صبر اور تعلق باللہ کی جو طاقت دی ہے اس کو بھر پور استعمال کیجئے۔ اور اس کے بعد آپ کامیابی کی آخری منزل پر ہوں گے۔

روس کی آبادی اس وقت ۲۵ کروڑ ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں میں آزادانہ تعلقات کے رجحان نے پیدائش کے تناسب کو موت کے تناسب سے کم کر دیا ہے۔ یہ صورت حال بے حد تشویش ناک ہے۔ چنانچہ روسی حکومت پچھلے چند سال سے بچوں کی پیدائش پر بہت زور دے رہی ہے۔ حتیٰ کہ نئے بچے کی پیدائش خصوصی انعام دیا جاتا ہے۔ روسی حکمرانوں کی یہ کوشش کامیاب ہوئی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس کا فائدہ زیادہ مسلمانوں کے حصہ میں چلا گیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زیادہ بچہ پیدا کرنے والی عورتیں زیادہ تر مسلمان ہیں۔ یہ تناسب اگر جاری رہے تو ایک اندازے کے مطابق، ۲۵ سال میں سوویت یونین میں مسلم آبادی ایک سو ملین تک پہنچ جائے گی۔ جب کہ وہاں کی موجودہ مسلم آبادی ۴۵ ملین ہے۔ صہیونی عالمی کانگریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر پیدائش کی موجودہ رفتار جاری رہے تو اس صدی کے آخر تک ہر تین روسی شہروں میں سے ایک روسی مسلمان ہو گا (کریسینٹ، ٹورنٹو) مستقبل میں مسلم غلبہ کے خطرہ سے بچنے کے لئے روسی حکومت نے ایک نئی مہم شروع کی ہے جس کا نام ہے روسیا نا (Russification) اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس سے روکا جائے کہ وہ ملک میں اتنی اکثریت حاصل کر لیں کہ اپنی بڑھی ہوئی آبادی کے زور پر اپنا علیحدہ تشخص (Seperate Identity) قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ روسی حکومت کی پریشانی کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ روس کا مغربی ایشیائی حصہ جہاں مسلمان زیادہ آباد ہیں، وہ قدرتی دولت سے مالا مال ہے۔ یہ علاقہ نہ صرف کپاس اور زرعی پیداوار کے لئے اہمیت رکھتا ہے بلکہ کئی بڑے تیل کے چشمے بھی اس میں واقع ہیں۔ تاہم روسی بنانے کی مہم ابھی تک بالکل ناکام ثابت ہوئی ہے۔ مذہبی عبادات اور رسوم، جن پر حکومت نے پابندیاں لگائی ہیں، وہ پوشیدہ طور پر پہلے سے زیادہ رائج ہوگئی ہیں (ٹائمز آف انڈیا ۲۵ مارچ ۱۹۷۹) اسلامی زندگی فطرت کے عین مطابق ہے یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں جہان کی سعادتوں کا مجموعہ ہے جب کوئی فرد یا کوئی سماج اسلامی زندگی اختیار کرتا ہے تو وہ کائنات کے پورے نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے وہ دنیا میں کوئی فساد پیدا نہیں کرتا اور آخرت میں بننے والے معیاری سماج کے لئے بھی قابل قبول ٹھہرتا ہے، اس کے برعکس غیر اسلامی طریقے فطرت سے ہٹے ہوئے طریقے ہیں۔ وہ طرح طرح کے بے شمار مسائل پیدا کرتے ہیں جس سماج میں نکاح کو بے قید سمجھ لیا جائے اور آزادانہ شہوت رانی کو پسند کیا جانے لگے وہاں قدرتی طور پر بچے نا خوانیدہ جہان سمجھے جانے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں آبادی میں کمی ہونا شروع ہوتی ہے اور بالآخر قومی طاقت کمزور ہو جاتی ہے مستقل صنفی تعلق کے بجائے آزادانہ صنفی تعلقات وجود میں آتے ہیں جس کی وجہ سے خاندانی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ لوگ گھریلو ذمہ داریوں سے بھاگنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پیداشدہ بچوں کا کوئی سرپرست نہیں ہوتا۔ بچے خود رو پودوں کی طرح اگتے ہیں، سماجی وفاداریوں کا ان کے اندر کوئی شعور نہیں ہوتا۔ وہ صرف ملک کے جرائم میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ جوانی کی عمر میں مردوں کو گرل فرینڈ اور عورتوں کو بوائے فرینڈ ملتے رہتے ہیں۔ مگر جب شباب کی کشش ختم ہوتی ہے تو مرد عورت دونوں اکیلے ہو کر رہ جاتے ہیں۔

Printed page