ایک معجزہ جو کبھی پیش نہیں آیا
Al-Risala, September 1979, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مصیبت زدہ بستی تھی۔ ڈاکوؤں نے اس کے باشندوں کے گھروں کو جلا دیا تھا۔ ان کی معاشیات تہس نہس ہو گئی تھیں۔ ان کو اپنے چاروں طرف ناکامی اور بربادی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اچانک بستی کے ایک بزرگ کو ایک معجزاتی تدبیر سوجھی۔ ان کو نظر آیا کہ بستی کے مسئلہ کا بہترین حل یہ ہے کہ وہ ہر روز کسی خالی میدان میں جا کر ۱۰۱ پھلجھڑیاں چھوڑیں۔ انھوں نے اس پر عمل شروع کر دیا۔ چند روز کے بعد ان کو اندازہ ہوا کہ ان کے پاس پھلجھڑیوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ اب وہ روزانہ ۱۰۱ پھلجھڑیاں چھوڑنے لگے۔ اضافہ ہوا تو انھوں نے پھلجھڑیوں کی تعداد ۲۵۱ اور آخر میں ۳۰۱ کر دی۔ منصوبہ کامیاب رہا۔ وہ پھلجھڑیاں چھوڑتے رہے، ادھر بستی کے مکانات کے ملبہ سے شاندار کوٹھیاں ابھرنا شروع ہو گئیں لوگوں کی اجڑی ہوئی دکانیں از سر نو تعمیر ہو کر سامان سے اور گاہکوں سے بھر گئیں ۔ ان کے نوجوان تعلیم و ترقی کے میدانوں میں بے روک ٹوک دوڑنے لگے۔ ہر طرف بستی کی عزت و اقبال کے جھنڈے لہرانے لگے۔ کے دشمن ذلیل و خوار ہو کر ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سو گئے ___ اس تمام کارروائی میں ۱۲۷ پھلجھڑیاں استعمال ہوئیں اور حیرت انگیز طور پر اس میں صرف دو ہفتے لگے۔ ۹ جولائی ۱۹۷۹ء کو تاریخ انسانی کی یہ انوکھی مہم شروع ہوئی اور ۲۵ جولائی ۱۹۷۹ء کو شان دار کامیابیوں کے ساتھ ختم ہوگئی۔ اس بے نظیر کامیابی پر شاعروں نے اشعار لکھے۔ بیان دینے والوں نے بیانات دیے۔ والوں نے تقریریں کیں۔ بزرگ کے اپنے اخبار نے موٹی موٹی سرخیوں کے ساتھ اس کے فاتحانہ کارنامے مگر بستی والے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: ” یہ معجزہ کہاں پیش آیا۔ ہم کو اس کا کوئی علم ہم تو اب بھی اسی بُری حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے مکانات اب بھی ٹوٹے ہوئے ہیں، ہماری دکانیں اب بھی اجڑی ہوئی ہیں۔ ہمارے بچوں کا مستقبل اب بھی اسی طرح غیر یقینی ہے جس طرح وہ پہلے غیر یقینی یہ انوکھا معجزہ شاید ایک انوکھا راز بھی ہے جس کو صرف پھلجھڑی سیاست کے ماہرین ہی جان سکتے ہیں۔ دوسرا کوئی شخص اس کو سمجھ نہیں سکتا۔