Al-Risala · September 1979

جنت میں کون لوگ آباد کئے جائیں گے

Al-Risala, September 1979, pp. 19–28

By Maulana Wahiduddin Khan

آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کو دیں گے جو زمین میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا۔ اور عاقبت صرف ڈرنے والوں کے لئے ہے۔ جو شخص بھلائی لے کر آیا تو اس کو ملے گا اس سے بہتر اور جو بدی لے کر آیا تو ایسے لوگوں کو جو بدی کے کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ کرتے تھے (قصص ۸۳-۸۴)

موجودہ زندگی میں جو لوگ اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ گھمنڈ کی نفسیات سے پاک ہیں اور وہ بگاڑ کا مزاج نہیں رکھتے ہیں، ان کو جنت کی نفیس اور لطیف آبادیوں میں بسایا جائے گا۔ اس کے برعکس جو لوگ گھمنڈ کو اپنی غذا بنائیں، جن کی فسادی کارروائیوں سے ان کے پڑوسیوں اور ان کے متعلقین کو امن حاصل نہ ہو وہ جہنم کے پر عذاب ماحول میں پھینک دیے جائیں گے۔

بڑا بننے کا مطلب کیا ہے۔ کوئی بھی شخص خدا کے مقابلہ میں اپنے کو بڑا نہیں بتاتا۔ نہ کوئی یہ دعویٰ لے کر اٹھتا کہ وہ زمین و آسمان یا سورج اور چاند سے بڑا ہے۔ بڑائی کا اظہار ہمیشہ انسان کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔ آدمی کا بڑا بننا یہ ہے کہ وہ اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے اوپر اپنا اقتدار قائم کرے۔ حالاں کہ وہ صرف عاجز اور بے طاقت وجود کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ کسی انسان کی طرف سے آئی ہوئی تنقید کے اوپر پھر حالاں کہ کوئی بھی انسان ایسا نہیں جو تنقید سے بالا تر ہو۔ اس کے پاس حق کا پیغام آئے تو وہ اس کو ماننے سے انکار کردے حالاں کہ عبدیت کا تقاضا ہے کہ آدمی حق کے آگے جھک جائے۔ کسی کے زبان یا قلم سے اس کے احساس برتری کو ٹھیس پہنچے تو وہ اس کو بخشنے کے لئے تیار نہ ہو۔ حالاں کہ برتری کا حق اس دنیا میں صرف ایک اللہ کو ہے۔

زمین میں فساد برپا کرنا کیا ہے۔ یہ کہ معاملات اور برتاؤ میں ایسا رویہ اختیار کیا جائے جو خدا کی مقرر کی ہوئی حدود کے خلاف ہو۔ قرآن کے مطابق فساد کی کچھ صورتیں یہ ہیں : اللہ سے نڈر ہو کر زندگی گزارنا (اعراف ۵۶) اللہ کے راستہ سے روکنا (نحل ۸۸) دلیل آجانے کے بعد اس کو نہ ماننا (آل عمران ۷۳) داعی کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کرنا (اعراف ۳۷)، کرشمے دکھا کر لوگوں کو حق سے پھیرنا (یونس ۸۱) کبر اور ظلم کی وجہ سے حق کا انکار کرنا (نمل ۱۴) شریف آدمیوں کو بے عزت کرنا (نمل ۳۴) چال بازی کا طریقہ اختیار کرنا (بقرہ ۱۱) رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا (محمد ۲۲) دوسرے کا مال چرانا (یوسف ۷۲) کھیتی کو ویران کرنا اور انسان کو قتل کرنا (بقرہ ۲۰۵) عہد کرنے کے بعد اس کو توڑنا (رعد ۲۵) اسراف کا طریقہ اختیار کرنا (شعراء ۱۵۲) مال و دولت پر فخر کرنا (قصص ۷۷) قوت و طاقت کا غلط استعمال کرنا (فجر ۱۲) کمزوروں کا استحصال کرنا (بقرہ ۲۰۵) باہمی لڑائی پیدا کرنا (مائدہ ۶۴)، اختلاف وانتشار برپا کرنا (اعراف ۳۴)، ناپ تول میں کمی کرنا (ہود ۸۵) کسی کی نسل ختم کرنے کی کوشش کرنا (قصص ۴)، مال کو صرف دنیا کے مقاصد میں خرچ کرنا (قصص ۷۷) وغیرہ

اور جب ہم نے فرشں سے کہا کہ آدمیی اللہی کو سجدہ کرو تواٹھوں نے سجدہ ک مگر ابلیس نے نہ کیا اس نے انکار کیا اور گھمنڈ کیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ اور ہم نے کہا اے آدم ! تم اور تمھاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور اس میں سے کھاؤ فراغت کے ساتھ جہاں سے چاہو۔ اور اس درخت کے نزدیک مت جانا ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔ پھر شیطان نے اس درخت کے ذریعہ دونوں کو لغزش میں مبتلا کر دیا اور ان کو اس عیش سے نکال دیا جس میں وہ تھے۔ اور ہم نے کہا تم سب اترو یہاں سے، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے ۔ اور تمھارے لئے زمین میں ٹھہرنا اور کام چلانا ہے ایک مدت تک ۔ آدم نے سیکھ لئے اپنے رب سے چند بول تو اللہ اس پر متوجہ ہوا۔ بے شک وہ تو توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ کہا تم سب یہاں سے اترو۔ پھر جب آے تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو لوگ انکار کریں گے اور ہماری نشانیوں کو جھٹلائیں گے تو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۳۹۔ آدم کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور ابلیس کے درمیان کھڑا کیا اور سجدہ کے امتحان کے ذریعہ آدم کو عملی طور پر بتایا یا کہ ان کے لئے زمین پر دو ممکن راہیں ہوں گی۔ ایک فرشتوں کی طرح حکم الہی کے ساسامنے جھک جانا، خواہ اس کا مطلب اپنے سے کمتر ایک بندے کے آگے جھکنا کیوں نہ ہو۔ دوسرا ابلیس کی طرح اپنے کو بڑا سمجھنا اور دوسرے کے آگے جھکنے سے انکار کر دینا۔ انسان کی پوری زندگی اسی امتحان کی رزم گاہ ہے۔ یہاں ہر وقت آدم کو دو رویوں میں سے کسی ایک رویہ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ ایک ملکوتی رویہ، یعنی دنیا کی زندگی میں جو معاملہ بھی پیش آئے ، اللہ کے حکم کی تعمیل میں آدمی حق و انصاف کے آگے جھک جائے ۔ دوسرا شیطانی رویہ، یعنی جب کوئی معاملہ پیش آئے تو آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جاگ اٹھیں اور وہ ان کے زیر اثر آکر صاحب معاملہ کے آگے جھکنے سے انکار کر دے۔ ممنوعہ درخت کا معاملہ بھی اسی ذیل کا ایک عملی سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے کھیلنے کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ وہ شیطان کے ورغلانے میں آجائے اور اس حد میں قدم رکھ دے جس میں جانے سے اللہ نے منع کیا ہے۔ منع کئے ہوئے پھل کو کھاتے ہی آدم کی نصرت، بالفاظ دیگر جنت کے استحقاق سے محروم ہو جاتا ہے۔ تاہم یہ محرومی ایسی نہیں ہے جس کی تلافی نہ ہوسکتی ہو۔ یہ امکان آدم کے لئے پھر بھی کھلا رہتا ہے کہ وہ دوبارہ اپنے رب کی طرف لوٹے اور اپنے رویہ کو درست کرتے ہوئے اللہ سے معافی کا طلب گار ہو۔ جب بندہ اس طرح پلٹتا ہے تو اللہ بھی اس کی طرف پلٹ آتا ہے اور اس کو اس طرح پاک کر دیتا ہے گویا اس نے گناہ ہی نہیں کیا تھا۔

کسی انسانی آبادی میں اللہ کی دعوت کا اٹھنا بھی اسی قسم کا ایک سخت امتحان ہے۔ داعی حق بھی گویا ایک آدم ہوتا ہے جس کے سامنے لوگوں کو جھک جانا ہے۔ اگر وہ اپنے کبر اور اپنے تعصب کی وجہ سے اس کا اعتراف نہ کریں تو گویا انہوں نے ابلیس کی پیروی کی۔ خدا اس دنیا میں عیاناً منے نہیں آتا، وہ اپنی نشانیوں کے ذریعہ لوگوں کو جانچتا ہے۔ نے خدا کی نشانی میں خدا کو پایا اسی نے خدا کو پایا اور جس نے خدا کی نشانی میں خدا کو نہیں پایا وہ خدا سے محروم رہا۔

اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میرے اس احسان کو جو میں نے تمھارے اوپر کیا۔ اور میرے عہد کو پورا کرو، میں تمھارے عہد کو پورا کروں گا۔ اور میرا ہی ڈر رکھو۔ اور ایمان لاؤ اس چیز پر جو میں نے اتاری ہے۔ تصدیق کرتی ہوئی اس چیز کی جو تمھارے اور تم سب سے پہلے اس کا انکار کرنے والے نہ بنو۔ اور نہ لو میری آیتوں پر مول تھوڑا۔ اور مجھ سے ڈرو۔ صحیح میں غلط کو نہ ملاؤ اور سچ کو نہ چھپاؤ حالاں کہ تم جانتے ہو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور جھکنے والوں کے ساتھ جھک جاؤ۔ تم لوگوں سے نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔ حالاں کہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو، کیا تم سمجھتے نہیں۔ اور مدد چاہو صبر اور نماز سے اور بے شک وہ بھاری ہے مگر ان لوگوں پر نہیں جو ڈرنے جو گمان رکھتے ہیں کہ ان کو اپنے رب سے ملنا ہے اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ کسی گروہ پر اللہ کا سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ وہ اس کے پاس اپنا پیغمبر بھیجے اور اس کے ذریعے اس گروہ کے اوپر ابدی فلاح کا راستہ کھولے۔ نبی آخرالزمان کی بعثت سے پہلے یہ نعمت بنی اسرائیل (یہود) کو دی گئی تھی مگر مدت گزرنے کے بعد ان کا دین ان کے لئے ایک قسم کی تقلیدی رسم بن گیا تھا نہ کہ شعوری فیصلہ کے تحت اختیار کی ہوئی ایک چیز۔ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نے حقیقت کھول دی ۔ ان میں سے جن افراد کا شعور زندہ تھا وہ فوراً آپ کی صداقت کو پہچان گئے اور آپ کے ساتھی بن گئے ۔ اور جن لوگوں کے لئے ان کا دین آبائی رواج بن چکا تھا ان کو آپ کی آواز نا مانوس آواز لگی ۔ وہ بدک گئے اور آپ کے مخالفت بن کر کھڑے ہوگئے ۔

اگرچہ آپ کی نبوت کے بارے میں تو رات میں اتنی واضح علامتیں تھیں کہ یہود کے لئے آپ کی صداقت کو سمجھنا مشکل نہ تھا ، مگر دنیوی مفاد اور مصلحتوں کی خاطر انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کر دیا ۔ صدیوں کے عمل سے ان کے یہاں جو مذہبی ڈھانچہ بن گیا تھا اس میں ان کو سرداری حاصل ہوگئی تھی ۔ وہ بزرگوں کی گدیوں پر بیٹھ کر عوام کا مرجع بنے ہوئے تھے ۔ مذہب کے نام پر طرح طرح کے نذرانے سال بھران کو ملتے رہتے تھے ۔ ان کو نظر آیا کہ اگر انھوں نے نبی عربی کو سچا مان لیا تو ان کی مذہبی بڑائی ختم ہو جائے گی ، مفادات کا سارا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا ۔ یہود کو چوں کہ اس وقت عرب میں مذہب کی نمائندگی کا مقام حاصل تھا، لوگ ان سے نبی عربی کی بابت پوچھتے ۔ وہ معصومانہ انداز میں کوئی ایسی شوشہ کی بات کہہ دیتے جس سے پیغمبر کی ذات اور آپ کا مشن لوگوں کی نظر میں مشتبہ ہو جائے ۔ اپنے وعظوں میں وہ لوگوں سے کہتے کہ حق پرست بنو اور حق کا ساتھ دو۔ مگر عملاً جب خود ان کے لئے حق کا ساتھ دینے کا وقت آیا تو وہ حق کا ساتھ نہ دے سکے۔ خدا کی پکار پر لبیک کہنا جب اس قیمت پر ہو کہ آدمی کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلنا پڑے، عزت و شرف کی گدیوں سے اپنے کو اتارنا ہو تو یہ وقت ان لوگوں کے لئے بڑا سخت ہوتا ہے جو انہیں دنیوی جلووں میں اپنا مذہبی مقام بنائے ہوئے ہوں، مگر وہ لوگ جو خشوع کی سطح پر جی رہے ہوں ان کے لئے یہ چیزیں رکاوٹ نہیں بنتیں ، وہ اللہ کی یاد میں ، اللہ کے لئے خرچ کرنے میں، اللہ کے حکم کے آگے جھک جانے میں اور اللہ کے لئے صبر کرنے میں وہ چیز پا لیتے ہیں جو دوسرے لوگ دنیا کے تماشوں میں پاتے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ ڈرنے کی چیز اللہ کا غضب ہے نہ کہ دنیوی اندیشے ۔

اے بنی اسرائیل میرے اس احسان کو یاد کرو جو میں نے تمھارے اوپر سیا اور اس بات کو کہ میں نے تم کو دنیا والوں پر فضیلت دی۔ اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ کام نہ آئے گی نہ اس کی طرف سے کوئی سفارش قبول ہوگی۔ اور نہ اس سے بدلے میں کچھ لیا جائے گا اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔ اور جب ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے چھڑایا۔ وہ تم کو بڑی تکلیف دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمھاری عورتوں کو اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے بھاری آزمائش تھی۔ اور جب ہم نے دریا کو پھاڑ کر تمھیں پار کرایا۔ پھر بچایا تم کو اور ڈوبادیا فرعون کے لوگوں کو اور تم دیکھتے رہے۔ اور جب ہم نے موسیٰ سے وعدہ کیا چالیس رات کا۔ پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم ظالم تھے۔ پھر ہم نے اس کے بعد تم کو معاف کر دیا تا کہ تم شکر گزار بنو۔ اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور فیصلہ کرنے والی چیز۔ تا کہ تم راہ پاؤ۔ اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ اب اپنے پیدا کرنے والے کی طرف متوجہ ہو اور اپنے مجرموں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دو۔ یہ تمھارے لئے تمھارے پیدا کرنے والے کے نزدیک بہتر ہے۔ تو اللہ نے تمھاری توبہ قبول فرمائی۔ بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ اور جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ ہم تمھارا یقین نہیں کریں گے جب تک ہم اللہ کو سامنے نہ دیکھ لیں تو تم کو بجلی نے پکڑ لیا اور تم دیکھ رہے تھے۔ پھر ہم نے تمھاری موت کے بعد تم کو اٹھایا تا کہ تم شکر گزار بنو۔ اور ہم نے تمھارے اوپر بدلیوں کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ کھاؤ ستھری چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو دی ہیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا، وہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے ۔ ۵۰ - ۴۷، ۲ یہود کو اللہ تعالی نے تمام دنیا پر فضیلت دی تھی۔ یعنی ان کو اپنے اس خاص کام کے لئے چنا تھا کہ ان کے پاس اپنی وحی بھیجے اور ان کے ذریعہ دوسری قوموں کو اپنی مرضی سے باخبر کرے۔ پھر اس منصب کی نسبت سے ان کو اور بہت کی نعمتیں اور سہولتیں دی گئیں۔ اپنے دشمنوں پر غلبہ ، وقتی لغزشوں سے درگزر ، غیر معمولی حالات میں غیر معمولی نصرت اور " خداوند کی طرف سے ان کے لئے روٹی کا انتظام " وغیرہ ۔ اس سے یہود کی اگلی نسلیں اس غلط فہمی میں پڑ گئیں کہ ہم اللہ کی خاص امت ہیں۔ ہم ہر حال میں آخرت کی کامیابی حاصل کریں گے۔ کے اس قسم کے معاملات کسی کے لئے پشتینی نہیں ہوتے۔ کسی گروہ کے اگلے لوگوں کا فیصلہ ان کے پچھلے لوگوں کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ ہر فرد کا الگ الگ ہوتا ہے۔ خدا کے انصاف کا دن اتنا سخت ہوگا کہ وہاں اپنے عمل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز کسی کے کام آنے والی نہیں۔

سچی دین داری یہ ہے کہ آدمی اللہ کے سوا کسی کو معبود نہ بنائے۔ اللہ کو دیکھے بغیر اللہ پر یقین کرے ۔ کے حساب سے ڈر کر زندگی گزارے ۔ پاک روزی سے اپنی ضروریات پوری کرے ۔ جن لوگوں پر اس کو اختیار حاصل ہے ان کو جرم کرنے سے روک دے ۔

اور جب ہم نے کہا کہ داخل ہو جاؤ اس شہر میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو فراغت کے ساتھ اور داخل ہو دروازہ میں سرجھکائے ہوئے اور کہو کہ اے رب! ہماری خطاؤں کو بخش دے۔ خطاؤں کو بخش دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو زیادہ بھی دیں گے۔ تو انہوں نے بدل دیا اس بات کو جان سے کہی گئی تھی دوسری بات سے۔ اس پر ہم نے ان لوگوں کے اوپر جنہوں نے ظلم کیا، ان کی نافرمانی کے سبب سے آسمان سے عذاب اتارا۔ اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا تو ہم نے کہا اپنا عصا پتھر پر مارو تو اس سے پھوٹ نکلے بارہ چشمے۔ ہر گرہم کو جو نے اپنا اپنا گھاٹ پہچان لیا۔ کھاؤ اور پیو اللہ کے رزق سے اور نہ پھر وزمین میں فساد مچانے والے بن کر۔ اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہیں کر سکتے۔ رب کو ہمارے لیے پکارو کہ وہ نکالے وہ اگاتا ہے زمین سے، ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز۔ موسیٰ نے کہا کیا تم ایک بہتر چیز کے بدلے ایک ادنیٰ چیز لینا چاہتے ہو۔ کسی شہر میں اتر و تو تم کو ملے گی وہ چیز جو ہو اور ڈال دی گئی ان پر ذلت اور محتاجی اور وہ غضب الہیٰ کے مستحق ہوگئے۔ یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ یہ اس وجہ سے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد پر نہ رہتے تھے۔ یوں ہے کہ جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، ان میں سے جو کوئی یقین لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور کام کیا نیک تو اس کے لیے اجر ہے اس کے رب کے پاس۔ اور ان کے لیے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہود پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی انعامات کیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ وہ خدا کے شکر گزار بندے بنتے۔ مگر انہوں نے بالکل برعکس ثبوت دیا۔ ایک بڑا شہر ان کے قبضہ میں دے دیا گیا اور کہا گیا کہ اس میں داخل ہو تو فاتحانہ تمکنت سے نہیں بلکہ عجز کے ساتھ اور اللہ سے معافی مانگتے ہوئے۔ مگر وہ اس کے بجائے تفریحی کلمات ان کو من وسلوٰی کی قدرتی غذائیں دی گئیں تاکہ وہ معاشی جدوجہد سے فارغ رہ کر احکام الہیٰ کی بجا آوری میں زیادہ سے زیادہ مشغول ہوں مگر انہوں نے چٹپٹے اور مصالحہ دار کھانوں کا مطالبہ شروع کر دیا۔ انھوں نے دنیا میں ضرورت پر قناعت نہ کر کے لذت کی تلاش کی۔ ان کی بے حسی اتنی بڑھی کہ اللہ کی کھلی کھلی نشانیاں بھی ان کے دلوں کو پگھلانے کے لئے کافی ثابت نہ ہوئیں۔ ان کی تنبیہ کے لئے جو اللہ کے بندے اٹھے ان کو انھوں نے ٹھکرا یا حتی کہ قتل کر ڈالا۔ یہود میں یہ ڈھٹائی اس لئے پیدا ہوئی کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ وہ نجات یافتہ گروہ مگر خدا کے یہاں نسلی اور گروہی بنیاد پر کوئی فیصلہ ہونے والا نہیں۔ ایک یہودی کو بھی اسی خدائی قانون سے جانچا جائے گا جس سے ایک غیر یہودی کو جانچا جائے گا۔ جنت اسی کے لیے ہے جو جنت والے عمل کرے نہ کہ کسی نسل یا گروہ کے لئے۔ زمین پر شکر، صبر، تواضع اور قناعت کے ساتھ رہنا زمین کی اصلاح ہے۔ اس کے برعکس ناشکری، بے صبری، گھمنڈ اور حرص کے ساتھ رہنا زمین میں فساد برپا کرنا ہے، کیونکہ اس سے خدا کا قائم کیا ہوا فطری نظام ٹوٹتا ہے۔ الرسائل ستمبر ۱۹۷۹

اور جب ہم نے تم سے تمھارا عہد لیا اور طور پہاڑ کو تمھارے اوپر اٹھایا۔ پکڑواس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی کے ساتھ ، اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھوتاکہ تم بچو۔ اس کے بعد تم اس سے پھر گئے۔ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ضرور تم ہلاک ہوجاتے۔ اور ان لوگوں کا حال تم جانتے ہو جو سبت (سینچر) کے معاملہ میں اللہ کے حکم سے نکل گئے تو ہم نے ان کو کہا کہ تم لوگ ذلیل بندر بن جاو۔ پھر ہم نے اس کو عبرت بنادیا ان لوگوں کے لئے جو اس کے روبرو تھے اور ان لوگوں کے لئے جو اس کے بعد آئے۔ اور اس میں ہم نے نصیحت رکھ دی ڈر والوں کے لئے 43 - 44 بائبل کی روایات بتاتی ہیں کہ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں جب یہود سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ خدائی تعلیمات پر ٹھیک ٹھیک عمل کریں گے تو " خدا نے پہاڑ کو ان کے اوپر الٹ کر خداوند ھاکر دیا اور ان سے کہا کہ توریت کو یا تو قبول کرو ورنہ یہیں تم سب کو ہلاک کر دیا جائے گا (تالمود) یہی معاملہ ہر اس شخص کا ہے جو اللہ پر ایمان لاتا ہے۔ ایمان لانا گویا اللہ سے یہ عہد کرنا ہے کہ آدمی کا جینا اور مرنا خدا کی مرضی کے مطابق ہوگا۔ یہ ایک بے حد سنگین اقرار اس میں ایک طرف عاجز بندہ ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ خدا ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں آسمان وزمین کی طاقتیں ہیں۔ اگر بندہ اپنے عہد پر پورا اترے تو اس کے لئے خدا کی لازوال نعمتیں ہیں۔ اور اگر وہ عہد کرکے اس سے پھر جائے تو اس کے لئے یہ شدید خطرہ ہے کہ اس کا خدا اس کو جہنم میں ڈال دے جہاں وہ اس طرح جلتا رہے کہ اس سے نکلنے کا کوئی راستہ اس کے لئے باقی نہ ہو۔

ایمانی عہد کے وقت حضرت موسیٰ کی قوم پر جو کیفیت گزری تھی وہی ہر بندہ مومن سے مطلوب ہے۔ ہر شخص جو اپنے آپ کو اللہ کے ساتھ ایمان کی رسی میں باندھتا ہے، اس کو اس کی سنگینی سے اس طرح چاہئیے گویا کہ اس نے اگر اس عہد کے خلاف کیا تو زمین و آسمان اس کے اوپر گر پڑیں گے، ایک گروہ جس کو اللہ کی طرف سے شریعت دی جائے اس کی گمراہی کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ عملاً اس کے خلاف چلے اور تاویلوں کے ذریعہ یہ ظاہر کرے کہ وہ عین خدا کے حکم پر قائم ہے۔ یہود کو یہ حکم تھا کہ وہ سینچر کے دن کو روزہ اور عبادت کے لئے مخصوص رکھیں۔ اس دن کسی قسم کا کوئی دنیوی کام نہ کریں۔ مگر انھوں نے اس حرمت کو باقی نہ رکھا۔ وہ دوسرے دنوں کی طرح سینچر کے دن بھی اپنے دنیوی کار و بار کرنے لگے۔ البتہ وہ طرح طرح کی لفظی تاویلوں سے ظاہر کرتے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ عین خدا کے حکم کے مطابق ہے۔ ان کی یہ ڈھٹائی اللہ کو اتنی ناپسند ہوئی کہ وہ بندر بنا دئے گئے۔ جب بھی آدمی شریعت سے انحراف کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو جانوروں کی سطح پر لے جاتا ہے جو کسی اخلاقی ضابطہ کے پابند نہیں ہیں۔ اس لئے جو لوگ شریعت کے ساتھ اس قسم کا کھیل کریں ان کو ڈرنا چاہئے کہ خدا کا قانون ان کو اسی حیوانی ذلت میں نہ مبتلا کر دے جس میں یہود اپنے اسی قسم کے فعل کی وجہ سے مبتلا ہوئے۔

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم ایک گائے ذبح کرو۔ انھوں نے کہا: کیا تم ہم سے ہنسی کر رہے ہو۔ موسیٰ نے کہا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں ایسا نادان بنوں ، انھوں نے کہا ، اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہم سے بیان کرے کہ وہ گائے کیسی ہو۔ موسیٰ نے کہا، اللہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہو نہ بچہ۔ ان کے بیچ کی ہو۔ اب کر ڈالو جو حکم تم کو ملا ہے۔ انھوں نے کہا ، اپنے رب سے درخواست کرو ، وہ بیان کرے کہ اس کا رنگ کیا ہو۔ موسیٰ نے کہا، اللہ فرماتا ہے کہ وہ گہرے زرد رنگ کی ہو، دیکھنے والوں کو اچھی معلوم انھوں نے کہا اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہم سے بیان کر دے کہ وہ کیسی ہو۔ کیوں کہ گائے میں ہم کو شبہ پڑ گیا ہے۔ اور اللہ نے چاہا تو ہم راہ پا لیں گے۔ موسیٰ نے کہا اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہو کہ محنت کرنے والی نہ ہو، زمین کو جوتنے والی اور کھیتوں کو پانی دینے والی نہ ہو۔ وہ سالم ہو، اس میں کوئی داغ نہ ہو۔ انھوں نے کہا: اب تم واضح بات لائے۔ پھر انھوں نے اس کو ذبح کیا۔ اور وہ ذبح کرتے نظر نہ آتے تھے۔ اور جب تم نے ایک شخص کو مار ڈالا ، پھر ایک دوسرے پر اس کا الزام ڈالنے لگے۔ حالاں کہ اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا جو کچھ تم چھپانا چاہتے تھے۔ پس ہم نے حکم دیا کہ مارو اس مردہ کو اس گائے کا ایک ٹکڑا۔ اس طرح زندہ کرتا ہے اللہ مردوں کو۔ اور وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ پھر اس کے بعد تمھارے دل سخت پس وہ پتھر کی مانند ہوگئے یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ پتھروں میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، بعض پھٹ پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض پتھر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں۔ اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو ۔ (۲۷ - ۷۲)

حضرت موسیٰ کے زمانہ میں بنی اسرائیل میں قتل کا ایک واقعہ ہوا۔ قاتل کا پتہ لگانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے نبی کے واسطہ سے ان کو یہ حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس کا گوشت مقتول پر مارو ، مقتول اللہ کے حکم سے قاتل کا نام بتا دے گا۔ یہ ایک معجزاتی تدبیر تھی جو چند مقاصد کے لئے اختیار کی گئی(۱) مصریوں کے اثر سے بنی اسرائیل میں گائے کے مقدس ہونے کا ذہن پیدا ہوگیا تھا۔ اللہ نے چاہا کہ اس واقعہ کے ذیل میں ان کے ہاتھ سے گائے کو ذبح کرا کے اس تقدس کو توڑا جائے (۲) یہ سبق دینا مقصود تھا کہ اللہ کی طرف سے جب کوئی حکم آئے تو اس کو سادہ معنوں میں لے کر فوراً اس کی تعمیل کر دو۔ اگر حکم کی تفصیلات اور حدود متعین کرنے کے لئے موشگافیاں کیں تو ایک سادہ حکم بھی شرائط کا اضافہ ہوتے ہوتے ایک سخت حکم بن جائے گا۔ (۳) اس واقعہ کے ذریعہ بنی اسرائیل کو بتایا گیا کہ اللہ کس طرح مرنے کے بعد آدمی کو زندہ کرکے دوبارہ اٹھائے گا۔

فطرت کا ہر واقعہ اللہ کی ایک نشانی ہے۔ اگر آدمی اللہ کی نشانیوں سے سبق لے تو اس کا دل نرم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ نشانیوں سے عبرت نہ پکڑے تو اس کا دل سخت ہوتا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔ - وہ اس قابل نہیں رہتا کہ ہدایت کی کوئی بات قبول کر سکے۔

کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ یہ یہود تمھارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے۔ حالاں کہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ وہ اللہ کا کلام سنتے تھے اور پھر اس کو بدل ڈالتے تھے سمجھنے کے بعد، اور وہ جانتے ہیں۔ جب وہ مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہوئے ہیں۔ اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: کیا تم ان کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں کہ وہ تمھارے رب کے پاس تم سے حجت کریں۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ کو معلوم ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ اور ان میں ان پڑھ ہیں جو نہیں جانتے کتاب کو مگر آرزوئیں۔ ان کے پاس گمان کے سوا اور کچھ نہیں۔ پس خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ تاکہ اس کے ذریعہ تھوڑی سی پونجی حاصل کرلیں۔ ہے اس چیز کی بدولت جو ان کے ہاتھوں نے لکھی۔ اور ان کے لیے خرابی ہے اپنی اس کمائی سے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف گنتی کے چند دن۔ کہو کیا تم نے اللہ کے پاس سے اس کے لیے کوئی عہد لے لیا ہے کہ اللہ اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا۔ یا اللہ کے اوپر ایسی بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ ہاں جس نے کوئی برائی کی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ تو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کئے، وہ جنت والے لوگ ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ۷۸ - ۷۵ کوئی بات خواہ کتنی ہی سچی ہو، اس کا انکار کرنے کے لیے آدمی کچھ نہ کچھ الفاظ پالیتا ہے۔ یہی تاویل و توجیہہ ہے اور یہی وہ سب سے بڑا اعتماد ہے جس کے اوپر آدمی حق کا انکار کرتا ہے۔ اسی تاویل و توجیہہ کی آخری صورت کا نام تحریف ہے۔ یہ ذہنیت بالآخر اللہ کے معاملہ کی سنگینی کو دل سے نکال دیتی ہے ۔ آدمی خدا کے حکم کو سنتا ہے اور لفظی تاویلات کے ذریعہ یہ ظاہر کرتا رہتا ہے کہ اس کا اپنا معاملہ اس کی زد میں نہیں آتا۔ وہ خدا کا نام لیتا ہے مگر اس کی قساوت اس کو ایسے کاموں کے لیے ڈھیٹ بنادیتی ہے کہ یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ فی الواقع یہ مانتا ہے کہ خدا سنتا اور دیکھتا ہے۔ جب کوئی گروہ اس نوبت کو پہنچتا ہے تو اس کے عوام خوش گمانیوں میں جینے لگتے ہیں اور خواص کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ دین کو تجارت بنا لیتے ہیں، ٹھیک ویسے ہی جیسے کوئی شخص دنیوی مال کو تجارت بناتا ہے، وہ عزت، شہرت، دولت کے لئے متحرک ہوتے ہیں۔ مگر ان کا خدا کی پکڑ سے بے خوف دل اس کو اس طرح بیان کرتا ہے گویا کہ یہی دین فطرت کا عین تقاضا ہے۔ اتنی بڑی ڈھٹائی پر ان کو کیا چیز آمادہ کرتی ہے، وہ یہ عقیدہ کہ جہنم کا عذاب ہمارے لئے نہیں ہے، وہ صرف دوسروں کے لئے ہے۔ اس خود ساختہ عقیدہ کے نتیجہ میں وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا اس سے بلند ہے کہ کسی سے جانب دارانہ وعدہ کرلے۔ جو چیز خدا کے شایان شان ہے وہ صرف یہ کہ وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے جو اس کی صفت عدل کا تقاضا ہو۔

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے اور نیک سلوک کرو گے ماں باپ کے ساتھ، قرابت داروں کے ساتھ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ۔ اور بے کہ لوگوں سے اچھی بات کہو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ پھر تم اس سے پھر گئے سوا تھوڑے لوگوں کے۔ اور تم اقرار کر کے اس سے ہٹ جانے والے لوگ ہو۔ انسان کے اوپر اللہ کا پہلا حق یہ ہے کہ وہ اللہ کا عبادت گزار بنے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔ دوسرا حق بندوں کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ اس حسن سلوک کا آغاز اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے اور پھر رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے گزر کر ان تمام انسانوں تک پہنچ جاتا ہے جن سے عملی زندگی میں سابقہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے ورمیان جب بھی کوئی معاملہ پڑے تو وہاں ایک وہی برتاؤ اپنے بھائی کے ساتھ ورست ہے۔ اور وہ وہی ہے جو انصاف اور خیر خواہی کے مطابق ہو۔

اس معاملہ میں آدمی کا اصل امتحان "یتیموں اور مسکینوں“ ، بالفاظ دیگر، کمزور افراد کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیوں کہ جو طاقت در ہے اس کا طاقت در ہونا خود اس بات کی ضمانت ہے کہ لوگ اس کے ساتھ حسن سلوک مگر کمزور آدمی کے ساتھ حسن سلوک کے لئے اس قسم کا کوئی اضافی محرک نہیں ۔ اس لئے سب سے زیادہ حسن سلوک جہاں مطلوب ہے وہ کمزور لوگ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں ہر چیز کی نفی ہو جاتی ہے وہاں خدا ہوتا ہے۔ ایسے آدمی کے ساتھ ہی شخص حسن سلوک کرے گا جو فی الواقع اللہ کی خوشنودی کے لئے ایسا کر رہا کیوں کہ وہاں کوئی دوسرا محرک موجود ہی نہیں۔

جب معاملہ کمزور آدمی سے ہو تو مختلف وجوہ سے حسن سلوک کا شعور دب جاتا ہے۔ کمزور آدمی کو مدد دی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پانے والے کے مقابلہ میں دینے والا اپنے کو کچھ اونچا سمجھنے لگتا ہے۔ نفسیات کمزور آدمی کی عزت نفس کو ملحوظ رکھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ کمزور کی بات سے متوقع نیاز مندی کا اظہار نہ ہو تو فوراً اس کو نا اہل سمجھ لیا جاتا ہے اور اس کا اظہار مختلف تکلیف دہ صورتوں میں ہوتا رہتا ہے، ایک دو بار مدد کرنے کے بعد یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ شخص مستقل طور پر میرے سر نہ ہو جائے ، اس لئے اس سے چھٹی لینے کی خاطر اس کے ساتھ غیر شریفانہ انداز اختیار کیا جاتا ہے۔ بھلی بات بولنا تمام اعمال کا خلاصہ ہے، ایک حقیقی خیر خواہی کا کلمہ کہنا آدمی کے لئے ہمیشہ سب سے زیادہ دشوار ہوتا ہے۔ آدمی اچھی اچھی تقریریں کرتا ہے۔ مگر جب ایک اچھی بات کسی دوسرے کے اعتراف کے ہم معنی ہو تو آدمی ایسی اچھی بات منہ سے نکالنے کے لئے سب سے زیادہ بخیل ہوتا ہے۔ سامنے کا آدمی اگر یہ زور ہے تو اس کے لئے شرافت کے الفاظ بولنا بھی وہ ضروری نہیں سمجھتا۔ اگر کسی سے شکایت یا برہمی پیدا ہو جائے تو آدمی سمجھ لیتا ہے کہ وہ انصاف کے خدائی حکم سے اس کو مستثنیٰ کرنے میں حق بجانب ہے۔

Printed page