مسلمان آپس میں کیسے رہیں
Al-Risala, September 1979, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
حدثنا عبد الله بن مسلمة عن مالك عن ابن شهاب عن انس بن مالك ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا ، وكونوا عباد الله اخوانا ، ولا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث ليال (رواه ابوداؤد) رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ کرو۔ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو۔ سب اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کو تین رات سے زیادہ چھوڑے۔
اللہ کے وہ بندے جو اللہ کو حقیقی معنوں میں اپنا معبود بنالیں، ان کا دل ہر قسم کے منفی جذبات سے خالی ہو جاتا ہے۔ جن لوگوں کا دل خدا کی بلندیوں میں اٹکا ہوا ہو، وہ دنیا کی پستیوں میں لت پت ہو کر نہیں رہ سکتے۔ لوگ اپنے بھائیوں کے درمیان اس طرح رہتے ہیں جیسے ہوا لوگوں کے درمیان سے گزرتی ہے مگر وہ کسی سے جیسے پھول کی مہک ہر ایک کو پہنچتی ہے مگر وہ ایک اور دوسرے میں کوئی امتیاز نہیں کرتی۔ جیسے روشنی ہر ایک کے پاس آتی ہے مگر وہ کسی سے خوش اور کسی سے خفا نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ اسی طرح ایک دوسرے کے مکمل ساتھی ہوتے ہیں جیسے باغ کے درخت ایک دوسرے کے ساتھ بغیر کسی قسم کی باہمی رنجش کے ایک مقام پر کھڑے ہوئے ہوں ۔
اسلام کے رزق سے آدمی کو حصہ ملا ہے یا نہیں، اس کی ایک واضح پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے درمیان اس طرح رہنے لگے کہ اس کو کسی سے بغض ہو اور نہ حسد، کسی قابل شکایت بات پیش آنے پر وہ اپنے بھائی سے بگڑ نہ جاتا ہو۔ وہ سارے لوگوں کو اللہ کی عیال سمجھ کر اس طرح رہ رہا ہو جیسے ایک باپ کی اولاد مل جل کر رہتی ہے۔ اس قسم کا ذہن جس شخص کے اندر پیدا ہو جائے وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے ایسا ہو جائے گا کہ کسی بھائی سے اگر اس کا بگاڑ ہو جائے اور وقتی تاثر سے مغلوب ہو کر وہ اس سے جدائی اختیار کر لے تو تین دن گزرتے گزرتے اس کا سینہ پھٹنے لگے گا۔ وقتی جذبہ نے اس کو جس بھائی سے دور کیا تھا اس کا درد اپنے رب کی خاطر دوبارہ اس طرح مل جائے گا جیسے کہ اس کے ساتھ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔