مسلمان کی حاجت پوری کرنا بہت بڑی عبادت ہے
Al-Risala, September 1979, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
طبرانی اور بیہقی نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ وہ مدینہ کی مسجد نبوی میں معتکف تھے۔ پاس ایک آدمی آیا اور سلام کر کے بیٹھ گیا۔ عبد اللہ بن عباس رض نے کہا : اے فلاں! تم مجھ کو افسردہ اور غمگین دکھائی اس نے کہا، ہاں اے رسول اللہ کے چچازاد بھائی! میرے اوپر فلاں شخص کا حق ہے اور اس صاحب قبر کی عزت کی قسم، میں اس کی ادائیگی پر قادر نہیں۔ عبد اللہ بن عباس رض نے کہا : کیا میں تمھارے بارے میں اس سے بات آدمی نے کہا ہاں اگر آپ پسند کریں۔ اس کے بعد عبد اللہ بن عباس رض نے اپنے جوتے پہنے اور مسجد سے نکل کر روانہ آدمی نے کہا : شاید آپ بھول گئے کہ آپ حالتِ اعتکاف میں ہیں ۔ عبد اللہ بن عباس رض نے کہا نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے (اور یہ کہتے ہوئے عبد اللہ بن عباس رض کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ : من مشى في حاجة اخيه وبلغ فيها كان خيراله جو شخص اپنے بھائی کی حاجت کے لئے چلا اور اس میں کوشش من اعتكاف عشر سنين (الترغيب والترہیب جلد ۲) کی تو یہ اس کے لئے دس سال کے اعتکاف سے بہتر ہے ۔ مفلس وہ ہے جو آخرت میں مفلس ٹھہرے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے کہا: کیا تم
جنتے ہو کہ مفلس کون ہے ۔ لوگوں نے کہا: ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو نہ کوئی پونجی آپ نے فرمایا : میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزہ ، زکوٰۃ کے ساتھ آئے۔ مگر وہ اس حال میں آئے کہ اس نے کسی کو گالی دی ہے ، کسی پر تہمت لگائی ہے ، کسی کا مال کھایا ہے ، کسی کا خون بہایا ہے ، کسی کو مارا ہے۔ تو اس کی کچھ نیکیاں اس کو ، کچھ نیکیاں اُس کو دے دی جائیں گی۔ اور جب اس کی تمام نیکیاں ختم ہو جائیں گی اور ادائیگی باقی رہے گی تو دوسروں کی بُرائیاں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی اور پھر اس کو آگ میں جھونک دیا جائے گا (مسلم) مشکل وقتوں میں نماز کی طرف دوڑنا حذیفہ اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ غزوہ خندق میں ہماری تعداد تقریباً تین سو تھی۔ یہ ایک نہایت سخت رات تھی۔ جانب ابوسفیان اور ان کی فوج تھی۔ نیچے کی جانب بنو قریظہ تھے جن کی طرف سے ہم اپنے بال بچوں کو بالکل غیر محفوظ سمجھتے بے حد شدید سردی تھی۔ اس کے بعد تیز ہوا چلنے لگی جس میں کڑک چمک تھی ۔ پتھر اُڑ اُڑ کر گر رہے تھے۔ یہ عالم تھا کہ کوئی چیز سجھائی نہ دیتی تھی۔ ایسے حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا کہ خندق کے پار مشرکین کے پڑاؤ کی طرف جاؤ اور ان کی خبر لاؤ کہ وہ واپس جانے کی باتیں کر رہے ہیں یا ابھی جمے ہوئے ہیں) میں لوگوں میں سب سے زیادہ ڈرنے والا تھا اور سردی بھی مجھ کو بہت لگتی تھی (انا من اشد الناس فزعنا د اشد هم قرا) مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پاکراٹھا۔ آپ نے میرے لئے حفاظت کی دعا فرمائی۔ میں اپنے مشن پر روانہ ہوا۔ ابوسفیان کی فوج میں گھوم پھر کر خبر لایا۔ وہ لوگ الرحیل الرحیل (واپس چلو واپس چلو) کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ چادر اوڑھے ہوئے نماز میں مشغول تھے : وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا حز به رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ کوئی سخت امر صلي (البدايه والنہایہ جلد ۳)
معاملہ پیش آتا تو آپ نماز پڑھتے۔