Al-Risala · September 1979

ان کی عبادت تھی سوچنا اور عبرت پکڑنا

Al-Risala, September 1979, pp. 33–35

By Maulana Wahiduddin Khan

ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے سامنے سے دو بیل گزرے۔ دونوں پر بوجھ لدا ہوا تھا۔ ایک کھڑا رہا، دوسرا بیٹھ گیا۔ اس کو دیکھ کر ابو دردار نے کہا: اس میں بھی عبرت ہے (ان فی ھذن المعتبرا، صفة الصفوۃ، جلد اصفہ ۴۵۸) عون بن عبد اللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ میں نے ام الدرداء سے پوچھا کہ ابوالدرداء کا سب سے افضل عمل کیا ہوتا تھا۔ جواب دیا تفکر اور عبرت (التفکر والاعتبار، ابونعیم فی الحلیة) محمد بن واسع کہتے ہیں کہ ابو ذر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد بصرہ سے ایک شخص آیا اور ام ذر سے ملا۔ اس نے پوچھا کہ حضرت ابو ذر کی عبادت کا حال بتائیے ۔ ان کی اہلیہ نے جواب دیاوہ اکثر سارے دن تنہا بیٹھے ہوئے غور وفکر کرتے رہتے تھے (کان اجمع النہار خاليای تفکر، ابونعیم) خشوع ظاہری آداب کا نام نہیں حضرت عائشہ رضی نے ایک بزرگ کو دیکھا۔ وہ بہت مضمحل حالت میں چل رہے تھے۔ آپ نے پوچھا ان کا کیا حال رہا۔ جواب دیا گیا یہ قراء میں سے ہیں (یعنی قرآن پڑھنے پڑھانے والے اور تعلیم و عبادت میں مشغول رہنے والے ہیں، یہ سن کر حضرت عائشہ رضی نے کہا: "عمر سید القراء تھے۔ مگر ان کا یہ حال تھا کہ جب چلتے تو زور سے چلتے۔ جب بولتے تو قوت کے ساتھ بولتے اور جب پیٹتے تو خوب پیٹتے "۔

جائز چیزوں سے روزہ رکھ کر ناجائز چیزوں سے افطار کرنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ دو عورتوں نے روزہ رکھا اور دونوں ساتھ بیٹھ کر دوسروں کی غیبت و شکایت کرتی رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی بابت معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: انهما لم يصوما ۔ وكيف صام من ظل هذا اليوم ياكل ان دونوں نے روزہ نہیں رکھا۔ اس کا روزہ کیسے ہو گیا لحوم الناس (ابوداؤد، بیہقی)

جو روزہ رکھ کر لوگوں کے گوشت کھاتا ہے۔

ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں:

ان هاتين صامتا عما احل اللہ لهما وافطرتا ان دونوں عورتوں نے اس چیز سے روزہ رکھا جو اللہ علی ما حرم اللہ عليهما۔ جلست احداهما الی نے ان کے لئے حلال کیا تھا اور پھر دونوں نے اس چیز الاخری فجعلتا تا کلان من لحوم الناس سے افطار کر لیا جو اللہ نے دونوں کے لئے حرام کیا تھا۔ (ترغیب و ترہیب جلد ۳) ایک ان میں سے دوسری کے پاس بیٹھ گئی اور دونوں لوگوں کے گوشت کھاتی رہیں ۔

نماز کے بعد کچھ دیر نماز کی کیفیت طاری رہنا چاہئے ابو رمثہ رضہ کہتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے نماز پوری کر کے سلام پھیرا۔ جو شروع سے نماز میں شریک تھا۔ فورا سنت پڑھنے کے لئے کھڑا ہو گیا۔ عمر فاروق رضہ کو دیکھ کر اس شخص کے پاس پہنچے اس کے مونڈھوں کو پکڑ کر جھنجھوڑا اور کہا کہ بیٹھو ، اہل کتاب اسی لئے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا ، (یعنی ایک نماز ختم کر کے فوراً دوسری نماز شروع کر دیتے تھے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اوپر اٹھائی اور فرمایا: ابن خطاب ! اللہ کے تمھارے ذریعہ سے حق و ثواب تک پہنچایا (ابو داؤد) خدا کو سنانے کے لئے بلند آواز کی ضرورت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے سوال کیا : اقریب ربنا فنناجیہ ام بعید فننادیہ ہمارا رب ہم سے قریب ہے کہ اس سے ہم سرگوشی کریں یا دور ہے کہ ہم اس کو پکاریں۔ اس کے جواب میں قرآن میں آیت اتری: جب میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو ان کو بتا دو کہ میں ان سے قریب ہوں۔ پکارنے والا جب مجھ کو پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کو سنتا ہوں اور اس کا جواب دیتا ہوں ،، (بقرہ - ۱۸۶) صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری سے منقول ہے : رفع الناس اصواتهم بالدعاء فی بعض الاسفار، فقال لهم النبی صلی اللہ علیہ وسلم یا ایھا الناس اربعوا علی انفسکم فانکم لا تدعون اصم ولا غائبا ان الذی تدعونه سمیع قریب ، اقرب الی احد کم من عنق راحلتہ ایک سفر میں دعا کے موقع پر لوگوں نے اپنی آوازیں بلند کیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو اپنے اوپر نرمی کرو کیوں کہ تم کسی بہرے یا غیر حاضر کو نہیں پکار رہے ہو ۔ تم جس کو پکار رہے ہو وہ سننے والا قریب ہے۔ تمھاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تم سے قریب ہے۔

دین بے فائدہ ہے اگر اس کا مقصد دنیا حاصل کرنا ہو۔

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ تَعَلَّمَ عِلْماً مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، عز و جل لا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضاً مِنَ الدُّنيا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الجَنَّةِ يوم القيامة (ابو داؤد) حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وہ علم جس سے اللہ کی رضا چاہی جاتی ہے اس کو جس شخص نے دنیا حاصل کرنے کے لئے سیکھا تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔

اور جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت کو نہیں مانتے ایک چھپا ہوا پردہ کر دیتے اور ان کے دلوں کے اوپر اوٹ رکھ دیتے ہیں کہ اس کو نہ سمجھیں۔ اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دیتے ہیں۔ اور جب قرآن میں تم اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک کر اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں (بنی اسرائیل: ۴۵-۴۶) زندگی کی دو صورتیں ہیں، ایک وہ زندگی جو خدا پرستی اور آخرت پسندی کے تحت ہے اور دوسری وہ جو خود پسندی اور دنیا پرستی کے تحت بنے۔ دونوں زندگیاں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہیں۔ ممکن ہے دونوں کے درمیان ظاہری طور پر زیادہ فرق نظر نہ آئے۔ مگر باعتبار حقیقت دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ تحت آخرت رخی زندگی پیدا ہوتی ہے اور دوسرے کے تحت دنیا رخی زندگی۔ ایک صورت میں آدمی کا خدا اس کے اوپر غالب رہتا ہے اور دوسری صورت میں اس کا اپنا نفس۔ ایک اس فکر میں مبتلا ہوتا ہے کہ آخرت کے دن اس کی رسوائی نہ ہو اور دوسرے کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان اس کی عزت اور مقام محفوظ رہے۔ خلاف تنقید سن کر اپنا احتساب کرنے لگتا ہے اور دوسرا اپنے خلاف تنقید سن کر بپھر اٹھتا ہے۔ ایک خدا اور رسول کے حکم کے آگے جھکنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور دوسرا خود اپنی ذات کو خدا اور رسول کے مقام پر رکھ دیتا ہے۔ ایک ظاہری دنیا سے گزر کر حقائق کو اپنے سامنے رکھتا ہے اور دوسرا ہمیشہ ظاہری چیزوں میں اپنے کو الجھائے ہوئے ایک کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ "حقیقت مجھ سے ماورا ہے اور مجھے اپنے آپ کو حقیقت کے مطابق بنانا چاہئے" اس کے برعکس دوسرا خود اپنے کو حقیقتِ اعلیٰ کا مقام دئے ہوئے ہوتا ہے، وہ اپنی ذات کو معیار حق سمجھتا ہے نہ کہ اپنے سے باہر کسی چیز کو۔

جو لوگ خود پسندی اور دنیا پرستی کی بنیاد پر اپنی زندگیاں بنائے ہوئے ہوں، ان کے سامنے جب بے لاگ حق کا پیغام آتا ہے تو ان کا عجیب حال ہوتا ہے۔ ان کی مخصوص نفسیات ان کے لئے ایک قسم کا روک بن جاتی ہے۔ حق کو ماننے میں ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے مفادات پر ضرب پڑ رہی ہے۔ ان کو اپنی دنیا ویران ہوتی نظر آتی ہے۔ ان کو ایسا لگتا ہے گویا حق کا اعتراف کرتے ہی ان کے سر سے برتری کا تاج اتر جائے گا۔ حق کو ماننا اپنی زندگی کے پورے ڈھانچہ کو بدلنے کے ہم معنی نظر آنے لگتا ہے۔ ایسے شخص کو محسوس ہوتا ہے کہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں تو میں عزت کامیابی کے تخت پر بیٹھا ہوا ہوں۔ اگر میں اس کو چھوڑ کر حق کا طریقہ اختیار کروں تو میں لوگوں کے درمیان بے حیثیت ہو کر رہ جاؤں گا۔ یہ نفسیات ایک قسم کا پردہ بن کر اس کے اور حق کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔ مخصوص ذہنی کیفیت کی وجہ سے وہ حق کو اس کی اصل صورت میں دیکھ نہیں پاتا اور اس کی آواز کو اس کی پوری معنویت کے ساتھ سن نہیں پاتا۔ اپنی اس نفسیات کے زیر اثر وہ حق کو نظر انداز کر دیتا ہے، کبھی شعوری طور پر اور زیادہ تر غیر شعوری طور پر۔

Printed page