عرب کارکستان : پٹرول سے بھی زیادہ بڑی دولت
Al-Risala, January 1979, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
سورج کی گرمی کو قابو میں لاکر اس کو استعمال ذخیرہ لا محدود نہیں ہے۔ چنانچہ اس نے اس سلسلے کیا جاسکتا ہے، یہ بات انسان کو بہت عرصہ سے معلوم میں بڑے پیمانہ پر تحقیقات شروع کر دی ہیں مگر اس صنعت کو ترقی دینے میں ایک خاص رکاوٹ اس صحرائی ریاست کو ہر سال ۳۵۰۰ سے یہ تضاد تھا کہ وہ ممالک جو آفتابی حرارت کی زیادہ لے کر … سہ گھنٹے تک گرم سورج حاصل رہتا ہے۔ مقدار رکھتے ہیں وہ سب سے کم ترقی یافتہ تھے ۔ وہ اس طرح جو گرمی اس کو ملتی ہے اس کا اوسط روزانہ تقریباً اتنے ذرائع نہیں رکھتے تھے کہ اس صنعت کو ترقی دینے ۵۵۰ کیلوریز فی مربع سنٹی میٹر (550 cals/cm2/day) کی قیمت ادا کر سکیں۔ دوسری طرف دہ قومیں جو ترقی ہے، سعودی عرب کا سورج، طور پر اس کے لئے یافتہ ہیں اور وسائل کی مالک ہیں وہ اکثر سرد ممالک تیل سے بھی زیادہ بڑی دولت ہے۔ سعودی عرب کا میں اور زمین کے منطقہ حارہ سے دور واقع ہیں۔ مگر خیال ہے کہ ۲۰۰۰ء تک وہ آفتابی انرجی کے معاملہ اب صورت حال بدل گئی ہے۔ عرب ممالک جو گرم صحراؤں میں خود کفیل ہو جائے گا۔ یہ انرجی مختلف کاموں میں کے مالک ہیں، پٹرول نے ان کو دولت سے بھی مالا مال استعمال ہوگی۔ مثلاً سمندر کے پانی کو میٹھا بنانا جو کر دیا ہے۔