پھولوں کا سفر آگ کا سفر بن گیا
Al-Risala, September 1979, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
ستیہ نارائن گپتا (۱۹۷۹-۱۹۵۲) جے پور کے ایک جواہرات کا کاروبار کرنے والے خاندان کے چشم و یہ خاندان افریقہ اور برازیل سے قیمتی پتھر درآمد کرتا ہے اور اس کو تیار کر کے دنیا بھر میں فروخت کرتا ہے مسٹر گپتا نے بی اے کیا اور قانون کی ڈگری لی۔ اب وہ امریکہ گئے تا کہ وہ اپنے برآمدی کاروبار کو مزید ترقی دے سکیں۔ امریکہ میں ان کو مستقل قیام کا ویزا ان کے گلے میں ہار ڈالتے۔ چنا نے بھی ان پر ہار ڈالے ۔ مگر یہ پھولوں کا نہیں بلکہ آگ کا ہار تھا۔ دوست اور عزیز اپنے محبوب کو جلتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ مگر وہ ان کے لئے کچھ نہ کر سکے۔ ۷۴ سال کے خوبصورت مسکراتے ہوئے چہرے کو آگ نے اس طرح نگل لیا جیسے کہ اس کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔ مسٹر گپتا کے مکان میں آگ لگتی تو فائر بریگیڈ کی گاڑیاں منٹوں میں اس کو بجھانے کے لئے پہنچ جاتیں۔ یہاں خود مکان کا مالک جل رہا تھا اور کوئی نہیں تھا جو اس کو بچائے ، دوبارہ اس کو اس کے شان دار روپ میں کھڑا کر سکے۔