اچانک موت
Al-Risala, September 1979, pp. 41–44
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں حادثات کے ذریعہ اچانک موتیں بہت بڑھ (گرین کارڈ) مل گیا۔ ۱۰ مارچ کو وہ اسٹریٹ نمبر ۴۱ (نیو یارک) میں اپنے فلیٹ سے نکلے۔ ان کے ہاتھ میں ایک سوٹ کیس تھا جس میں ۱۰ لاکھ سے ۲۰ لاکھ تک مالیت کے جواہرات تھے۔ وہ نیو یارک کے ایک بڑے جوہری کے یہاں ان کے بلانے پر جا رہے تھے مگر وہ اس سفر الدسال ستمبر ۱۹۷۵ء ۲۷ مارچ ۱۹۷۷ء کو ٹینیر یف (Tenerife) کے ہوائی اڈہ پر رن وے پر دو جمبو جیٹ ٹکرا گئے ساس کے نتیجہ میں ۵۸۱ مسافر یک لخت جل کر مر گئے ۔ آدمی دنیا میں اس طرح رہتا ہے جیسے وہ مستقل جئے گا۔ حالانکہ وہ اچانک ایک روز اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔
لاہور(پاکستان) کی ایک خاتون کینسر اور ذیاجیطس کے مرض میں مبتلا تھی۔ اس کے بھائی نے جی بی سی ریڈیو پر سناکہ ہندوستانی وزیرِاعظم مسٹر مرار بی ڈیسائی نے اس قسم کے مریضوں کا مجرب قدرتی علاج یہ بتایا ہے کہ وہ کثرت سے انگور کھائیں ۔ مذکورہ پاکستانی کو یہ نسخہ پسند آیا۔ تاہم چند باتیں اس کو وضاحت طلب معلوم ہوئیں: تازہ انگور نہ ملنے کی صورت میں کیا خشک انگور کھایا جاسکتا ہے ، کیا انگور کے طریق علاج پر عمل کرتے ہوئے انسولین (دوا) بھی مریضہ کو دی جاسکتی ہے ۔ مذکورہ پاکستانی نے مسٹر مرار بی ڈیسائی کو خط لکھا کہ وہ ان امور کے بارے میں اس کو ہدایات دیں۔ چند دن بعد ہندوستانی وزیرِاعظم کی میز پر جوڈاک رکھی گئی اس میں مذکورہ خط بھی شامل تھا۔ وزیرِاعظم اس کو پڑھ کر فورا حرکت میں آگئے ۔ مگر خط کے مطابق پاکستانی خاتون کی حالت بہت نازک تھی ۔ اس کو فی الفور' امداد پہنچانا ضروری تھا۔ خط کے ذریعہ بھیجا جاتا ہے تو اس کو منزل مقصود تک پہنچنے میں کئی دن لگ جائیں گے۔ مذکورہ پاکستانی کے لیٹر ہیڈنے اس مسئلہ کو حل کر دیا جس پر اس کا لاہور کا ٹیلی فون نمبر درج تھا وزیرِاعظم نے فیصلہ کیا کہ وہ خط کے بجائے ٹیلی فون سے اپنا جواب پہنچائیں گے۔
عام حالات میں ہندوستان سے پاکستان ٹیلی فون ملانے میں کئی روز لگ جاتے ہیں۔ مگر اس وقت صورت حال مختلف ہوتی ہے جب کہ وزیرِاعظم ہندوستان خود ٹیلی فون کر رہا ہو۔ اگلے ہی لمحہ لاہور میں مذکورہ شخص کے ٹیلی فون کی گھنٹی بج ہندوستان کے وزیرِاعظم نے بسرعت اپنا قیمتی مشورہ پڑوسی ملک کے شہری تک پہنچا دیا تھا۔ تاہم یہ تیز رفتار امداد کام پاکستانی خاتون اس سے پہلے دنیا سے رخصت ہو چکی تھی۔
پاکستانی مریضہ کے بھائی کو ہندوستانی وزیرِاعظم کی اس عنایت نے بہت متاثر کیا۔ اس نے وزیرِاعظم کو شکریہ کا خط لکھا۔ خط میں درج تھا :
I am much obliged and overwhelmed by your nobility. You are every inch a gentleman. The members of my family and I are all appreciation for you. I do not tire of telling my friends: here is the finest specimen of humanity and The Times of India, May "میں آپ کی شرافت سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہوں اور آپ کا بہت شکر گزار ہوں ۔ آپ ایک ایک انچ ایک اعلیٰ انسان ہیں ۔ میں اور میرے گھر کے سب لوگ آپ کے بے حد قدر داں ہیں ۔ میں اپنے دوستوں کو یہ بتاتے ہوئے نہیں تھکتا : یہ انسان اور انسانیت کی ایک اعلیٰ ترین مثال ہے ۔ “ (ٹائمز آف انڈیا ۲۲ مئی ۱۹۷۹)
ایک وزیرِاعظم کے اپنے ملک میں انتہائی وحشیانہ طور پر بے گناہ مردوں اور عورتوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ کی معاشیات کو منظم طور پر برباد کیا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ ان کو دوسرے درجہ کا شہری بنا دیا جاتا ہے مگر وزیرِاعظم کو ان امور میں اپنا حصہ ادا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ البتہ باہر کے ایک شخص کی مصیبت کو سن کر وہ بے تاب ہو جاتا ہے
اور "بجلی کی سرعت" کے ساتھ اس کو اپنی امداد پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے۔ کہ ملک کے اندر ہونے والے ظلم کو مٹانے کے لئے اتنا بہت زیادہ محنت اور قربانی مانگتا ہے ۔ جب کہ باہر کے ایک شخص کی مدد کرنے کے لئے چند لفظ بول دینے کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔
اسی واقعہ میں آپ مسلم قائدین کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ آج ہمارے تمام قائدین کا یہ حال ہے کہ اگر ان کے قریب کا ایک آدمی اپنا ایک حقیقی مسئلے لے کر ان کے پاس جائے تو اس کو حل کرنے سے انھیں کوئی دلچسپی نہ ہوگی۔ اس قسم کے ایک عملی مسئلہ کو حل کرنے میں طرح طرح کی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسئلے کو گہرائی کے ساتھ سمجھنا ، اس کی تمام نزاکتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلسل عملی جدوجہد کرنا ، ان تمام لوگوں کی دشمنی مول لینا جنھوں نے مذکورہ شخص کو مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حتیٰ کہ خود اپنے نفس پر لگام لگانا، کیونکہ اکثر اوقات مسئلہ پیدا کرنے میں خود یہ مسلم قائد بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر شریک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا قائد اس قسم کے مسئلہ پر کبھی دھیان نہیں دیتا۔ ”دور“ پیدا ہونے والے مسئلہ پر وہ فوراً حرکت میں آ جاتا ہے ۔ کیوں کہ یہاں لفظوں کے ذریعہ اس کو وہ کریڈٹ مل رہا ہے جو مذکورہ مثال میں عمل اور قربانی کے ذریعہ ملتا ۔ اس کی یہ انسانی ہمدردی فوراً ایک شان دار بیان کی صورت میں اخبار کے صفحہ اول کی زینت بنتی ہے۔ اس کو موقع ملتا ہے کہ وہ بڑے بڑے لوگوں سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرے ۔ ہوائی جہاز میں اڑ کر جائے واردات پر پہنچے۔ وہ ایک شان دار کانفرنس کرکے اس کے اسٹیج پر ہیرو کے روپ میں نمایاں وہ ریلیف فنڈ کھولے اور دوسروں کی جیب سے پیسے نکال کر اس کا کچھ حصہ اپنی شانِ قیادت قائم کرنے میں خرچ کرے اور کچھ حصہ کو تقسیم کرکے اعانتِ مظلومین کا کریڈٹ لے۔ مزید یہ کہ ان کارناموں میں لیڈر کو اپنے پاس سے کچھ خرچ کرنا نہیں پڑتا۔ ٹیلی فون اور پٹرول اور ہوائی سفر سے لے کر پر تکلف دعوتوں اور عالی شان کانفرنسوں تک سارا بل قوم کی جیب سے ادا ہوتا ہے۔ شاید پوری انسانی تاریخ میں سستی قیادت کا اتنا کامیاب نسخہ کبھی کسی نے دریافت نہیں کیا تھا جو ہمارے قائدین کو خوش قسمتی سے موجودہ زمانہ میں ہاتھ آگیا ہے۔
یہ کیفیت جب مزید ترقی کرتی ہے تو حال یہ ہو جاتا ہے کہ اخلاقی دیوالیہ پن میں مبتلا ہونے والے لوگ ”طاقتور اخلاقی قیادت کا نعرہ لگاتے ہیں جن کے دل کے دروازے حق کو قبول کرنے کے لئے بند ہو چکے ہوتے ہیں وہ عوام کے دلوں پر دستک دینے کے لئے دوروں اور تقریروں کا طوفان برپا کرتے ہیں، جو اپنے دائرہ اختیار میں بدترین ظلم کو جائز کئے ہوئے ہوتے ہیں وہ خدا کی زمین کو ظلم سے پاک کرنے کا جھنڈا لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ جن کی روحیں شرپسندی سے معمور ہوتی ہیں وہ خیر پسندوں کو منظم کرکے ملک کی کایا پلٹ دینے کا منصوبہ بناتے ہیں ۔ جن کے سینے اپنے مخالفین کے خلاف نفرت اور انتقام سے بھرے ہوتے ہیں وہ دوسروں کو یہ پیغام دینے کے لئے قافلہ در قافلہ نکلتے ہیں کہ اپنے مخالفین کے ساتھ انصاف اور انسانیت کا برتاؤ کرو۔
یہ جھوٹی قیادت صرف اس وقت تک ہے جب تک دنیا کی بساط الٹی نہیں جاتی۔ جب صور پھونکا جائے گا اور موجودہ دنیا کی بساط الٹ دی جائے گی تو تمام جھوٹی رونقیں اس طرح باطل ہو جائیں گی جیسے کہان کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔
مولانا وحید الدین خاں کی کتابوں کے بعض عربی ترجمے (مطبوعہ قاہرہ) محدود تعداد میں مکتبہ الرسالہ کے پاس موجود ہیں جن کی تفصیل یہ ہے الاسلام یتحدی (ساتواں ایڈیشن) ۲۶۳ صفحات قیمت ۲۰ روپے الدین فی مواجہۃ العصر (چوتھا ایڈیشن) ۱۱۲ صفحات ۱۰ روپے حكمۃ الدين (دوسرا ایڈیشن) ۸۷ صفحات ۸ روپے الاسلام والعصر الحدیث (دوسرا ایڈیشن) ۷۷ صفحات ۸ روپے مسئولیات الدعوة (تیسرا ایڈیشن) ۳۹ صفحات ۲ روپے نحو تدوین جديد للعلوم الاسلاميۃ ۲۶ صفحات ۲ روپے امکانات جديدة للدعوة ۳۴ صفحات ۴ روپے محصول ڈاک بذمہ خریدار - قیمت مکمل سٹ مع محصول ڈاک ۵۵ روپے - پوری رقم پیشگی روانہ فرمائیں عرب ممالک میں عرب ممالک میں ملازمت کے خواہش مند لوگوں کے لئے مفید اور ضروری معلومات سے بھر پور ایک گائیڈ تیار کی گئی ہے جس میں سعودی عرب، کویت، دبئی، بحرین، قطر، عمان عراق، ایران اور لیبیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کے آٹھ سو سے زیادہ پتے دیئے گئے ہیں اور وہ طریقہ بتائے گئے ہیں کہ آپ گھر بیٹھے درخواست بھیج کر کسی کو بھی پیسہ دیئے بغیر براہ راست اپنی پسند ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔ کل قیمت ۱۹ روپے بذریعہ منی آرڈر بھیج کر منیر گائیڈ منگوالی پی نہیں بھیجا جائے گا۔
FOREIGN EMPLOYMENT GUIDES Chhatta Shaikh Mangloo (Opp.: Jamal Press) Jama Masjid, مذہب اور سائنس از مولانا وحید الدین خاں قیمت ۴/ = صفحات ۷۲ = قرآن کا مطلوب انسان ازمولانا وحیدالدین خاں جمعيت بلند تلی تم حان اسٹریٹ دہلی۔