ہم زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہیں
Al-Risala, September 1979, pp. 45–47
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم انسانوں کے درمیان اپنی جگہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ حالاں کہ عنقریب ہم خدا سے دوچار ہونے والے ہیں۔ ہم دنیا میں عزت اور کامیابی ڈھونڈ رہے ہیں ۔ حالاں کہ بہت جلد ہم آخرت میں داخل ہونے والے ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہے مگر ہر شخص زندگی کے مسائل میں الجھا ہوا ہے، موت کے مسائل کے لئے فکر مند ہونے کی ضرورت کوئی محسوس نہیں کرتا۔ وہ اسلام جس نے اصحاب رسول کو سراسیمہ بنا دیا تھا وہ اسلام آج لوگوں کو صرف قناعت اور بے فکری کا تحفہ دے رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ قرآن کے الفاظ میں اس کی وجہ ترزمین (فاطر ۸) ہے۔ ہر آدمی کو کچھ ایسے الفاظ مل گئے ہیں جن سے وہ اپنی غیر اسلامیت کی خوبصورت اسلامی توجیہ کر سکے۔ ہر آدمی نے اپنے گرد خوش خیالیوں کا ایک گھروند بنا لیا ہے اور اس کے اندر وہ جی رہا ہے۔ اس کو یہ احساس نہیں کہ موت کا دھماکہ اچانک اس کے گھروندے کو توڑ دے گا اور اس کے بعد اس کے پاس ایک تنکا بھی نہ ہوگا جس سے وہ خدا کے غضب کے مقابلہ میں اپنا بچاؤ کر سکے۔ ایک قائد ملت ایک مسلمان کے اوپر ظلم کرتا ہے مگر اس کو اپنے ظالم ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ کیوں کہ وہ جلسوں میں اور اخبارات کے صفحات میں اپنے کو اسلام کا چیمپین بنا ہوا دیکھتا ہے۔ اس کے لئے ناقابل قیاس ہو جاتا ہے کہ ایک شخص جو دنیا میں ناخدا ئے ملت بنا ہوا دکھائی دے رہا ہو وہ آخرت میں ظالم ملت کی حیثیت سے اٹھایا جائے۔ ایک لیڈر مسلمانوں کے درمیان ایسی سیاست چلاتا ہے جس سے مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کا خون بہاتے ہیں۔ ملک کی دینی لاز تعمیری سرگرمیاں تہس نہس ہو جاتی ہیں۔ دنیا کی نظر میں اسلام کی یہ تصویر قائم ہوتی ہے کہ اسلام دہشتوں کا مذہب ہے جو آپس میں لڑائی جھگڑے کے سوا اور کچھ نہیں سکھاتا۔ اس کے با وجود لیڈر کی راتوں کی نیند نہیں چھنتی۔ اس کا دن کا سکون غارت نہیں ہوتا۔ کیوں کہ وہ دیکھتا ہے کہ اپنی زبان و قلم کے ذریعہ اس نے جو اشاعتی کارنامے انجام دئے ہیں وہ اس کو لاکھوں معتقدین کے درمیان نجات دہندہ اسلام بنائے ہوئے ہیں۔ اپنی علمی اور تقریری خدمات کی بدولت وہ ایک اسلامی ہیرو کی سی زندگی گزار رہا ہے۔ ایسی حالت میں اس کے لئے ناقابل فہم بن جاتا ہے کہ خدا کے یہاں اس کو بے قیمت ۔ قرار دے دیا جائے ، دنیا میں اعزازات پانے والا آخرت میں صرف محرومی کی خندق میں ڈال دیا جائے۔ اسی طرح ایک شخص وعدہ خلافی کرتا ہے ، اپنے پڑوسی کو ستاتا ہے۔ اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا نہیں کرتا۔ لین دین میں اس کے معاملات لوگوں سے صاف نہیں ہیں۔ اس کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ جنت اس کے لئے رزرو جیسے اس کی وجہ یہ ہے۔ کہ وہ دیکھتا ہے کہ میں نماز روزہ کا اہتمام کر رہا ہوں ۔ حج کی سعادت بھی میں نے حاصل کرلی ہے۔ مسجد اور مدرسہ کے چندہ دہندگان میں بھی میرا نام چھپا ہوا ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے ایک دین دار آدمی کا بھی یہ انجام ہو سکتا ہے کہ آخرت میں وہ بے دین قرار دے کر خدا کی رحمتوں سے دور پھینک دیا جائے۔
حقیقی خدا پرستی جو آخرت میں آدمی کے کام آئے گی وہ یہ ہے کہ آدمی اس طرح اللہ سے ڈرنے لگے کہ وہ
اس کے صبح و شام کا نگران اور حاکم بن جائے ۔ وہ جو کچھ کرے یہ سمجھ کر کرے کہ وہ خدا کے سامنے ایسا کر رہا ہے۔ اس کو دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر ستانے لگے۔ جب آدمی اس طرح خدا پرست بنتا ہے تو اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ ایک فرد کے معاملہ میں بے انصافی کرنے سے اس طرح ڈرتا ہے جیسے وہ ساری دنیا کے ساتھ بے انصافی کر رہا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان تخریب کا ایک واقعہ دیکھ کر اس طرح سہم جاتا ہے جیسے اس نے سارے مسلمانوں کو تیغ کر دیا ہے۔ کسی شخص کے ساتھ ایک بار بد معاملگی ہو تو وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی تمام عبادات اور قربانیاں باطل ہو گئی ہیں ۔ لوگ خوش فہمیوں میں جی رہے ہیں۔ حالاں کہ یہ صرف حقائق ہیں جو آدمی کے کام آتے ہیں ، خواہ دنیا کا معاملہ ہو یا آخرت کا معاملہ۔
۳ جون ۱۹۷۹ء کو راقم الحروف میرٹھ میں تھا۔ شام کے وقت صدر بازار کی سڑک پر میں اور مولانا شکیل احمد قاسمی ایک ساتھ جارہے تھے۔ اچانک ایک مکان کے آگے کا حصہ ہمارے سامنے گر پڑا۔ اینٹ اور پتھر سڑک پر ڈھیر ہو گئے۔ ہم دونوں بمشکل اس سے پانچ سیکنڈ کی مسافت پر تھے۔ اگر ہم پانچ سیکنڈ آگے ہوتے یا مکان پانچ سیکنڈ بعد گرتا تو یقیناً ہم دونوں اس کی زد میں آجاتے ۔ میں نے سوچا: آدمی اور اس کی موت کے درمیان صرف پانچ سیکنڈ کا کسی بھی آدمی کے لئے ہر لمحہ یہ اندیشہ ہے کہ اس کا ’’پانچ سیکنڈ‘‘ کا سفر پورا ہو جائے اور اچانک وہ اپنے آپ کو دوسری دنیا میں پائے۔
آدمی کے ذہن پر اگر یہ بات چھا جائے کہ اس کے اور موت کے درمیان صرف ”پانچ سیکنڈ“ کا فاصلہ ہے تو اس کی دنیا بدل جائے۔ وہ بالکل دوسرے قسم کا انسان بن جائے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت میں جینے لگے۔ زندگی کا راز یہ ہے کہ آدمی اس بات کو جان لے کہ وہ ہر وقت موت کے کنارے کھڑا ہوا ہے، ایسی موت جس کے معاً بعد آدمی ، حدیث کے لفظوں میں، یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں داخل ہو جاتا ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں جاگرتا ہے۔ آدمی کا ہر قدم اس کو دو انتہائی انجام میں سے کسی ایک انجام کے قریب پہنچا رہا ہے۔ قرآن، درسیات اور ہر قسم کی کتابوں کے لئے بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ، دہلی پھول کی طرح تر و تازہ اگر جلدی امراض یا فساد خون کی شکایت ہو تو چہرہ پژمردہ نظر آتا ہے پھوڑے پھنسی خارش اور داد سے نجات دے کہ جسم اور چہرے کو پھول کی طرح تر و تازہ رکھتا ہے دوا خانہ طبیہ کالج مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
دین کیا ہے ۔ تجدیدِ دین ۔
تاریخ عمِ سابق اسلام دین فطرت مذہب اور جدید چیلنج صفحات: ۲۲۴ قیمت: ۱۳ روپے صفحات ۳۲ قیمت ۵۰/ روپے صفحات ۴۸ قیمت ۴۰/ روپے صفحات ۲۲۴ قیمت ۱۳۵/ روپے تعمیرملت • الاسلام • اسلام دین فطرت • صفحات ۴۸ قیمت ۴۰/ روپے صفحات ۱۷۲ قیمت ۱۲۰/ روپے صفحات ۴۸ قیمت ۴۰/ روپے ظہورِاسلام • زلزلۂ قیامت • اسلامی دعوت • صفحات ۲۰۰ قیمت ۱۲۰/ روپے صفحات ۶۴ قیمت ۳۰/ روپے صفحات ۴۸ قیمت ۴۰/ روپے تاریخ کا سبق • عقلیاتِ اسلام • قرآن کا مطلوب انسان • صفحات ۴۸ قیمت ۴۰/ روپے صفحات ۴۸ قیمت ۴۰/ روپے صفحات ۸۰ قیمت ۴۵/ روپے صفحات ۴۸ قیمت ۱/۵۰ روپے مذہب اور سائنس صفحات ۷۲، قیمت ۴/ روپے صفحات ۴۸ قیمت ۲/۔
سبق آموز واقعات صفحات ۴۸ قیمت ۲/- مكتبة الرسالة جمعيت بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۱۱۰۰۰۶