زمین: اللہ کی عجیب وغریب نعمت
Al-Risala, October 1979, pp. 2–6
By Maulana Wahiduddin Khan
روس نے اپنے خلا میں جہاز (Salyut 6) پر دو خلا باز ولادیمیر لیا خوف اور دلویری ریو مین اور پر بھیجے ۔ کے مطابق ان کو تقریباً چھ ماہ تک خلا میں رہنا تھا۔ آخری ایام میں جب کہ وہ اپنے خلائی سفر کی مدت پوری کرکے اپنے وطن واپس آنے والے تھے، زمینی اسٹیشن سے بات کرنے والے نے ان سے پوچھا: آج کل آپ لوگوں کے احساسات کیا ہیں۔ ایک خلا باز نے خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق، فوراً کہا: What are we dreaming about. Well, we want very much just to put our feet on the ground again. The Indian Express, August 16, 1979 ہم آجکل کیا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ہاں، وہ یہ ہے کہ ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد وہ وقت آئے جب کہ ہم زمین پر دوبارہ اپنا قدم رکھیں۔ یہ دونوں روسی خلا باز ۱۷۵ دن خلا میں چکر لگانے کے بعد زمین پر واپس آئے ہیں۔ تقریباً نصف سال تک بے وزنی کی حالت میں رہنے کے بعد وہ دونوں مد ہوش اور سراسیمہ سے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی نیند غائب ہو گئی ہے۔ خلائی خوف و دہشت کی وجہ سے وہ بہت کم سو سکے تھے۔
زمین کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح بنایا ہے اور اس پر ہمارے لئے جو موافق حالات جمع کئے ہیں وہ ہمارے لئے بہت بڑی نعمت ہیں۔ ساری معلوم کائنات میں انسان جیسی مخلوق کے لئے کوئی بھی دوسرا ٹھکانا اللہ کی اس عظیم نعمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی زمین سے محروم کر دیا گیا ہو، ٹھیک ویسے ہی جیسے فاقہ گزرنے کے بعد آدمی صحیح طور پر جانتا ہے کہ کھانا آدمی کے لئے کیسی قیمتی چیز ہے۔ جب خدا اپنے جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا ۲۱ اگست ۱۹۷۹ء کی خبر ہے کہ چک مگور سے ۳۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک گاؤں میں جنگلی ہاتھیوں کا ایک ریوڑ گھس آیا اور چنگھاڑنے لگا۔ ان کی ہیبت ناک چنگھاڑ کو سن کر قصبہ کی تین عورتیں مرگئیں۔ لوگ جو بچنے کے لئے بھاگ رہے تھے، راستہ میں ٹکرا کر زخمی ہو گئے ۔
یہ ہاتھی کے چنگھاڑ کا حال ہے جو خدا کی ایک ادنی مخلوق ہے۔ پھر اللہ رب العالمین کی چنگھاڑ کا حال کیا ہوگا جب وہ اپنے جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر اس آنے والے دن کو سوچ لے تو اس کی چلتی ہوئی زبان بند ہو جائے جس کے الفاظ کا ذخیرہ آج بظاہر ختم ہونے والا نظر نہیں آتا۔ اس کے اُٹھے ہوئے ہاتھ رک جائیں جس کو اخلاق اور انسانیت کا ہر دعظار رد کرنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔
دنیوی چیزوں کو مقصود بنانے کا نام بے دینی اور آخرت کو مقصود بنانے کا نام دین ہے۔ عام قومیں دنیا کو دنیا کے نام پر کرتی ہیں۔ مسلمان کا بگاڑ یہ ہے کہ وہ دنیا کو دین کے نام پر کرنے لگے۔
مسلمانوں کا بگاڑ اس قسم کا کبھی نہیں ہو گا کہ وہ دین کا نام لینا چھوڑ دیں۔ ایسا بگاڑ نہ پچھلی امتوں میں کبھی ہوا اور نہ مسلمانوں میں کبھی ہونے والا ہے۔ مسلمانوں کا بگاڑ یہ ہے کہ وہ دنیا پرستی کی راہ پر چل پڑیں اور اس کو دین کا عنوان بتائیں ۔ دین حقیقۃً آخرت رخی زندگی کا عنوان ہے نہ کہ دنیا رخی زندگی کا۔
مسلمانوں کا بگاڑ یہ ہے کہ وہ دین کو اپنی آل اولاد اور کاروبار میں برکت کا سستا آسمانی نسخہ سمجھنے لگیں ۔ دوسری قوموں کی طرح اپنے قومی اور معاشی مسائل پر ہنگامے کھڑے کریں اور اعلان کریں کہ ہم خیر امت کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کی تحریکیں چلائیں اور دعویٰ کریں کہ وہ اس خدائی مشن کے لئے متحرک ہوئے ہیں جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر دنیا میں بھیجے تھے۔
دوسری قومیں جو کام دنیا داری کے نام پر کر رہی ہیں، اسی کو مسلمان دین داری کے نام پر کرنے لگیں تو اس کی وجہ سے وہ کام دین کا کام نہیں بن جائے گا۔ دنیا کا فائدہ، دنیا کی عزت اور دنیا کے اقتدار کے پیچھے دوڑنا اور اپنی ان سرگرمیوں کو دینی الفاظ میں بیان کر کے اس کو دین کا کام ظاہر کرنا، مسلمانوں کو خدا کے یہاں کسی انعام کا مستحق نہیں بلکہ ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ کرتا ہے۔ اپنی اس قسم کی سرگرمیوں کے ذریعہ وہ سرے سے مجرم بن رہے ہیں۔ ایک دنیا پرستی کو اختیار کرنا، دوسرے دینی تعلیمات کو غلط معنی پہنانا اور اس طرح اہل عالم کے سامنے دین کی غلط گواہی دینا۔
دین اصل میں خدا پرستی اور آخرت طلبی کا نام ہے۔ دین داری یہ ہے کہ آدمی کی زندگی آخرت رخی زندگی بن جائے۔ وہ جن حالات میں ہو اور جن ذمہ داریوں کے درمیان اپنے آپ کو پائے ان میں وہ خدا پرستی اور انصاف کے طریقہ پر قائم رہے۔ وہ ہمیشہ اللہ کو یاد رکھے۔ اور دنیا میں جو معاملہ کرے یہ سوچ کر کرے کہ بالآخر اس کو اپنی تمام کارروائیوں کے لئے اللہ کے سامنے جواب دینا ہے۔ کسی بھی قسم کی خوش اعتقادی ہم کو آخرت میں خدا کی پکڑ سے بچا نہیں سکتی اور نہ اسلام کے نام پر تقریری مشاعرے ہم کو خدا کے یہاں خادم اسلام کا مقام عطا کر سکتے ہیں ۔
کی وہ بدکے ہوئے جنور ہیں جو وپس آن نہیں جنتے ـــــــ فَمَ لَهُمْ عَنِ التَّذْکِرَۃِ مُعْرِضِیْنَ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَۃٌ ا فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃِ ا بَلْ یُرِیْدُ کُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً ا کَلَّا بَلْ لَّا یَخَافُونَ الْاٰخِرَۃَ ا کَلَّا اِنَّہٗ تَذْکِرَۃٌ ا فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہٗ ا (مدثر، آخر)
ان کو کیا ہوا کہ نصیحت سے منہ پھیرتے ہیں۔ جیسے کہ وہ بد کے ہوئے گدھے ہیں جو شور سن کر بھاگ کھڑے ہوئے ہیں۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کو کھلے ہوئے ورق دئے جائیں۔ ہر گز نہیں۔ بلکہ وہ آخرت سے ہر گز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے۔ پھر جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔ اللہ اپنے دین کی پیغام بری کے لئے ہمیشہ ایسے شخص کو چنتا ہے جس کے جاننے والے اس کو ایک پسندیدہ شخص کی حیثیت سے جانتے ہوں۔ جس کی صالحیت اور صلاحیت کی وجہ سے اس کے لوگوں نے اس کے بارے میں اونچی اونچی امیدیں باندھ رکھی ہوں (ہود ۶۲) مگر جب وہ حق کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو اچانک لوگ اس سے بدک جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی دعوت بے آمیز حق کی دعوت ہوتی ہے اور بے آمیز حق انسان کے لئے ہمیشہ سب سے زیادہ مبغوض چیز رہا ہے۔ پیغمبری کی بے آمیز دعوت ان تمام لوگوں کو متوحش کر دیتی ہے جو ملاوٹی دین یا خود ساختہ مذہب کے اوپر اپنی زندگی کی تعمیر کئے ہوئے تھے۔ انسان کی گمراہی کبھی یہ نہیں رہی ہے کہ وہ ناحق کا علم بردار بن کر کھڑا ہوا ہو۔ انسان کی گمراہی یہ ہے کہ وہ حق کے ساتھ ناحق کو ملائے ہوئے ہو۔ وہ حق کا نام لے مگر اسی کے ساتھ اپنی عقیدتوں اور وفاداریوں، کو اس نے ناحق کے لئے خاص کر رکھا ہو۔ پیغمبری کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو ہر ایک کو اس میں اپنا حقیقی چہرہ نظر آنے لگتا ہے۔ ہر ایک کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس کے اس نازک مقام پر ضرب لگارہی ہے جہاں وہ حقیقۃً جی رہا تھا۔ ___ کسی کو اپنی شخصیت کا بت گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ کسی کو اپنے دلائل کا غبارہ ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے، کسی کو اپنی شان وشوکت بے رونق ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ کسی کو ایسا لگتا ہے کہ اگر اس نے اس حق کو مان لیا تو اس کو اپنے بنے بنائے ڈھانچہ کو اجاڑ دینا پڑے گا۔ ان وجوہ سے لوگ اس کی آواز سے اس طرح بدک جاتے ہیں جیسے کوئی تصویری شیر اچانک زندہ ہو کر کھڑا ہو جائے اور لوگ اس کے مہیب وجود کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوں۔
تا ہم بد کے ہوئے لوگ اپنے کو بر سر حق ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کی باتیں نکالتے ہیں: سچائی کے اعلان کے لئے کیا اسی معمولی شخص کا انتخاب کیا جانا تھا، اس کے بجائے ان " اکابر " کا انتخاب کیوں نہ کیا گیا
جن کی کبریائی مسلم ہو چکی ہے۔ اگر یہ سچائی ہے تو وہ ایک ہی شخص پر کیوں اتری، ہم میں سے ہر شخص کے پاس خدا کا ایک کھلا خط کیوں نہ آگیا۔ مگر یہ سب کوئی واقعی مطالبہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ حق اور ناحق کو جاننے کے معاملہ میں وہ سنجیوہ نہیں ہیں۔ ان کے حالات نے ان کو جس مذہب تک پہنچادیا ہے، اس کو وہ پکڑے ہوئے اپنے ذوق اور مزاج کے لحاظ سے انھوں نے ایک دین گھڑ لیا ہے اور کوئی ہم خیال لوگوں کو اپنے گرد جمع کرکے اس کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے مفاد اور اپنی حیثیت کو باقی رکھنے کے معاملہ میں سنجیدہ ہیں اس لئے اس کے تقاضے وہ خوب سمجھ لیتے ہیں۔ اس کے برعکس حقیقی سچائی کے معاملہ میں وہ سنجیدہ نہیں، اس لئے روشن دلائل اور واضح تصدیقات کے باوجود وہ ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ دنیا کے اندیشہ کو وہ جس طرح محسوس کرتے ہیں اسی طرح دہ آخرت کے اندیشے کو محسوس کرتے تو صورت حال بالکل مختلف ہوتی۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو فوراً نہیں بدکتے۔ وہ ابتدائے دعوت کو پسند کرتے ہیں۔ وہ داعی کے اعلیٰ اسلوب اور اس کے پیغام کی عمومی کشش کی وجہ سے اس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ مگر وہ اپنی نصیحتی کمزوری سے اوپر اٹھے ہوئے نہیں ہوتے۔ چنانچہ کچھ نہ کوئی وقت ایسا آجاتا ہے جب کہ وہ کسی چیز کو اپنے خلاف مزاج پا کر بدک جاتے ہیں اور پھر ایسا بھاگتے ہیں کہ واپسی کا نام نہیں لیتے۔ جب کبھی ان کے ان تعصبات پر زد پڑتی ہے جن کو انھوں نے عرصہ سے پال رکھا ہے۔ جب ان کی چھپی ہوئی وفاداریوں میں سے کسی وفاداری کو ٹھیس پہنچ جاتی ہے۔ جب دعوت ان کی اس "انا" کو چھو دیتی ہے جس کو وہ خدا پرستی کے ظاہری پردہ کے پیچھے چھپائے ہوئے تھے تو اچانک وہ متوحش ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے اوپر نظر ثانی کرنے کے بجائے خود دعوت کو قابل نظر ثانی سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ کسی شخص کی زندگی میں بہت نازک لمحہ ہوتا ہے۔ اگر اس کی فطرت زندہ ہے تو وہ زور کرے گی اور ابتدائی توحش کے بعد دوبارہ وہ حق کی رسی کو پہلے کی طرح مضبوطی سے پکڑے گا اور اگر فطرت کی چنگاری بجھ چکی ہے تو وہ ایک بار بدکنے کے بعد بدکتا ہی جائے گا اور پھر کبھی واپس نہیں ہوگا۔ اللہ نے یہ دنیا امتحان کے لئے بنائی ہے۔ اس لئے حق کو یہاں بالکل عیاں شکل میں پیش نہیں کیا جاتا، بلکہ اس پر شبہ کا پردہ رکھ کر اس کو پیش کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے شخص کی زبان سے بلند ہوتا ہے جو خود انھیں جیسا ایک انسان ہوتا ہے۔ پیغام کو انسانی زبان میں بیان کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہمیشہ یہ امکان رہتا ہے کہ آدمی اس کو رد کرنے کے لئے کچھ خوبصورت الفاظ تراش لے۔ اس آواز کو ہمیشہ ظاہری حیثیت سے غیر اہم حلقوں سے اٹھایا جاتا ہے تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ آدمی معنوی حقیقتوں کو اہمیت دیتا ہے یا ظاہری تماشوں کو۔ حق کا پیغام ایک نصیحت ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ نفسیات ہی کی زبان میں سامنے لایا جاتا ہے نہ کہ کسی مجبور کر دینے والے اسلوب میں۔ بہت سے دلائل محض غافل قلب سے نکلے ہوئے بے معنی الفاظ ہوتے ہیں نہ کہ حقیقتہ دلائل ۔ جو آخرت سے ڈرنے والے ہیں وہ اس احساس کے تحت بولتے ہیں کہ ان کی ہر بات کا سننے والا سب سے پہلے خدا ہے۔ وہ الفاظ رکھتے ہوئے بھی بے الفاظ ہو جاتے ہیں۔ کجا کہ اپنی ظالمانہ روش کو درست ثابت کرنے کے لئے الفاظ کا قاموس دہرانے لگیں۔
سابق صدر امریک جان ایف کینیڈی نے ایک بار لاوٹے (Lyautey) کا حوالہ دیتے ہوئے اس کا اپنا ایک قصہ نقل کیا تھا۔ اس کے الفاظ یہ تھے :
(1) once asked (my) gardener to plant a tree. The gardener objected that the tree was slow growing and would not reach the maturity for a hundred years. (I) replied: "In case there is no time to loose, plant it in the afternoon.............."
Chartered Accountant (Supplement)