Al-Risala · October 1979

آدمی بدل جاتا ہے

Al-Risala, October 1979, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

ترکی کے ابتدائی سلاطین بہت سادہ زندگی گزارتے تھے، حتیٰ کہ دربار میں بھی کسی غیرمعمولی اہتمام کے بغیر بیٹھتے تھے۔ سلطان محمد ثانی (۱۴۸۱-۱۴۵۱) جو فتح قسطنطنیہ کے عظیم کارنامہ کی وجہ سے سلطان محمد فاتح کے نام سے مشہور ہوا، ایک بار اپنے وزیروں کے ساتھ مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس اثنا میں ایک کسان کچھ فریاد لے کر حاضر ہوا۔ یکساں قسم کے لوگوں کے درمیان وہ سمجھ نہ سکا کہ وہ کس سے مخاطب ہو۔ اس نے کہا: "تم میں سے سلطان کون ہے؟ " یہ واقعہ سلطان پر شاق گزرا۔ اس کے بعد اس نے مجلس وزراء میں بیٹھنا بند کر دیا۔ دریچہ کے پیچھے بیٹھ کر اپنے وزیروں کی بحثیں سننے لگا۔ بعد میں یہ اصول بھی برقرار نہ رہ سکا۔ (۱۵۶۶-۱۵۲۰) کے دور سے سلاطین ترکی نے مجلس وزراء میں شرکت بالکل بند کر دی۔ اس کے بعد یہ ہونے لگا کہ صدر اعظم مجلس وزراء کے فیصلے کو سلطان تک پہنچا دیتا اور پھر سلطان اپنا حکم سنا دیتا جو آخری ہوتا۔ آدمی بظاہر اچھا ہوتا ہے مگر جب کوئی جھٹکا پڑتا ہے تو وہ بدل کر دوسرا انسان بن جاتا ہے۔

۱۱ اگست ۱۹۷۹ء کو موروی (گجرات) میں اچانک ایک سیلاب آ یا جس نے پوری بستی کو تہس نہس کر دیا۔ کے کنارے ایک بڑا بند تھا۔ غیر معمولی بارش سے اس کا پانی بہت اونچا ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس نے بند کو توڑ ڈالا۔ ایک مشاہد کے الفاظ میں "تقریباً ۲۰ فٹ اونچی پانی کی دیوار ، اتنی تیزی کے ساتھ بستی کے اندر داخل ہوئی کہ کوئی اس سے بچ نہ سکتا تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر پانی کا یہ طوفان بستی کی تمام چیزوں کو برباد کر کے نکل گیا۔ اندازہ ہے کہ تقریباً ۲۵ ہزار آدمی اس اچانک سیلاب میں مرگئے۔ جب کہ بستی کی کل آبادی تقریباً ۴۰ ہزار بربادی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ دیگر چیزوں کے علاوہ صرف مرکزی حکومت نے فوری امداد کے طور پر پانچ کروڑ روپے حکومت گجرات کو دئے ہیں۔

ایک انگریزی اخبار کے نامہ نگار ارن کمار نے جو چشم دید رپورٹ (ہندوستان ٹائمس ۱۹ اگست ۱۹۷۹ء) شائع کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ بچے ہیں ان میں سے ہر شخص کے پاس بتانے کے لئے ایک پُر درد کہانی ان کو جو صدمہ اور تکلیف پہنچی ہے اس کے احساس سے وہ ابھی تک نکل نہیں سکے ہیں، کچھ کا حال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی گویائی کھو دی ہے۔ وہ بالکل سراسیمہ اور ہکا بکا دکھائی دیتے ہیں: Some have lost their speech and look absolutely dazed and blank. ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ ایک تباہ حال زمیں دار کو اس وقت حیرت ناک خوشی ہوئی جب سرکاری ذمے داروں نے اس کو ۱ ہزار روپے نقد اور ۲۲۵ گرام سونے کے زیورات یہ کہہ کر دئے کہ یہ تمھارے گھر کے اندر سے دستیاب ہوئے ہیں (ہندوستان ٹائمس ۲۰ اگست ۱۹۷۹)

اس طرح کے واقعات جو زمین پر روزانہ ہوتے رہتے ہیں، وہ اس لئے ہوتے ہیں تاکہ آدمی آخرت کے دن کو یاد کرے ۔ آخرت کا عظیم تر سیلاب بھی بالکل اچانک آئے گا۔ بہت سے لوگ اس دن اس طرح برباد ہوں گے کہ ان کے الفاظ کے ذخیرے تک ختم ہو جائیں گے جو دنیا میں ہر آدمی کو نہایت وافر مقدار میں حاصل ہیں ۔ ان کی چلتی ہوئی زبانیں بند ہو جائیں گی ۔ وہ سراسیمہ نظروں سے اپنی ہولناک بربادی کو دیکھیں گے اور کچھ بول نہ سکیں گے۔ دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کو یہ خوش خبری دی جائے گی کہ ہلاکت اور بربادی کے عمومی طوفان نے تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچایا۔ تمھارا بہترین اثاثہ اللہ کے مزید انعام کے ساتھ آج تمھارے حوالے کیا جائے گا۔ ایک ہی سیلاب کچھ لوگوں کو جہنم میں دھکیل دے گا اور کچھ لوگوں کے لئے وہ جنت کی ابدی خوشیوں میں داخلہ کا دن بن جائے گا۔ "سیلاب" سے پہلے آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی ہر ظالمانہ روش کو درست ثابت کرنے کے لئے شان دار الفاظ پالیتا ہے۔ مگر "سیلاب" کی ہولناکی کو دیکھتے ہی اس کا سارا زور ختم ہو جائے گا، اور ایسا معلوم ہوگا گیا یا اس کے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں جن سے وہ اپنی روش کی صفائی پیش کر سکے۔

Printed page