Al-Risala · October 1979

اللہ کے ذکر سے ان کے دل دہل جاتے ہیں

Al-Risala, October 1979, pp. 10–11

By Maulana Wahiduddin Khan

انما المؤمنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کا نام آئے تو ان کے قلوبهم واذا تلیت علیهم آیتہ زادتهم ایماناً دل ڈر جائیں اور جب اللہ کا کلام ان کو سنایا جائے وعلی ربهم یتوکلون (انفال ۲) تو ان کا ایمان زیادہ ہو جائے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں یہ آیت ہجرت کے دوسرے سال جنگ بدر کے بعد اتری ہے ۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ بدر کی فتح کے بعد جو مال غنیمت ملا تھا اس کی تقسیم کے سوال پر مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہو گیا ۔ یہ مال اسلامی حکومت کا ہے یا لشکر یوں کا ۔ اس میں مہاجرین کا زیادہ حصہ ہے یا انصار کا ۔ رسول اللہ کی حفاظت کرنے والوں کو زیادہ ملنا چاہئے یا دشمن کا پیچھا کرنے والوں کو ۔ اس قسم کی اختلافی بحثیں جاری تھیں کہ یہ آیت اتری۔ جب بھی باہمی معاملات پیش آتے ہیں تو لوگوں کو ایک دوسرے سے شکایت اور اختلاف پیدا ہو جاتا ہے ۔ ایک شخص معاملہ کو اپنے ذہن سے دیکھتا ہے اور دوسرا اپنے ذہن سے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں میں ٹکراؤ ہو جاتا جیسے جیسے بات بڑھتی ہے، مسئلہ کو غیر جانب دارانہ انداز سے دیکھنے کا مزاج ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگر اصولی اختلاف تھا تو آخری مرحلہ میں وہ ضد، عصبیت، نفرت اور انانیت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ مومن وہ ہے جو شیطان کی طرف سے اس قسم کی فضا پیدا کئے جانے کے باوجود اصلاحِ حال کے لئے تیار رہے۔ مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک شخص سے وقتی تاثر کے تحت جھگڑ اٹھتا ہے۔ اس کے بعد جب اس کو خدا کی یاد دلائی جاتی ہے تو اچانک اس کا دل دہل جاتا ہے۔ وہ شخص جو ایک انسان‘‘ کے مقابلہ میں اپنے کو قوی محسوس کر کے اس کو دبانے پر تلا ہوا تھا، خدا کی عظمتوں اور قوتوں کو سوچ کر سہم جاتا ہے ۔ اب اس کا سر جھک جاتا ہے۔ کے الفاظ کے ذخیرے ختم ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے دلائل کو بھولنے لگتا ہے۔ جو شخص ایک لمحہ پہلے تک اپنے حق پر زور دے رہا تھا، اب اس کو صرف اپنی ذمہ داریاں یاد رہ جاتی ہیں۔ اس سے جب کہا جاتا ہے کہ خدا سے ڈر اور خدا کی زمین میں شکر نہ بن ، تو اس کو فوراً محسوس ہو جاتا ہے کہ فی الواقع بڑائی صرف ایک اللہ کے لئے ہے۔ اس کے سوا جتنے ہیں سب چھوٹے ہیں۔ اس کا دل پکار اٹھتا ہے کہ کہنے والے نے صحیح کہا۔ میرے لئے تواضع کے سوا کوئی دوسرا رویہ درست نہیں۔ حق وانصاف پر قائم رہنے میں دنیوی نقصانات کا خطرہ سامنے آتا ہے یا اپنی ساکھ گرتی ہوئی نظر آتی ہے تو اللہ کی مدد کا یقین اس کے اندر نیا عزم پیدا کر دیتا ہے۔ وہ تمام مصالح کو اس بھروسہ پر نظر انداز کر دیتا ہے کہ اس کا خدا اس کی مدد کرے گا ، اس کا خدا اس کو بے عزت ہونے سے بچائے گا۔ اللہ کی آیتوں کو سن کر ایمان بڑھ جانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی آیت جو حکم دے رہی ہے اس میں اس کو زندگی کا راز دکھائی دینے لگتا ہے۔ ایک بظاہر مصلحت کے خلاف بات خدا کی طرف منسوب ہونے کے بعد

عین مصلحت نظر آتی ہے، ایک بظاہر نقصان کا طریقہ خدا کا حکم بننے کے بعد عین فائدے کی چیز معلوم ہوتا ہے۔ ایک بظاہر نفس پر شاق گزرنے والا معاملہ خدا کی مرضی کا درجہ پانے کے بعد عین مطلوب چیز بن جاتا ہے۔ دنیوی بھروسوں کو نظر انداز کر کے خدا کے بھروسے پر چل پڑتا ہے۔ وہ ظاہری مصالح سے بے پروا ہو کر اپنے آپ کو خدا کے حوالے کر دیتا ہے۔

ایمان کا مطلب ہے کسی چیز کو ماننا، اس کا یقین کرنا۔ اگر آپ کے سامنے ایک پنسل پڑی ہو اور آپ اس کو دیکھ کر کہیں کہ یہ پنسل ہے، تو گویا کہ آپ نے پنسل کے وجود کا اقرار کیا۔ مگر پنسل کی موجودگی کا اقرار آپ کے دل کے اندر کوئی ہل چل نہیں پیدا کرے گا۔ آپ ” یہ پنسل ہے “ کہہ کر بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے آپ اس کے کہنے سے پہلے تھے۔ لیکن اگر آپ کے کمرہ میں اچانک ایک بڑا سانپ نکل آئے اور آپ اس کو دیکھ کر کہیں کہ ” یہ سانپ ہے، تو یہ دوسرا جملہ بھی اگر وہ محض اقرار کا جملہ ہے، مگر یہ آپ کے تمام شعور کو متحرک کر دے گا اور آپ کی شخصیت کو ہلا دے گا۔ کیوں کہ پنسل ایک بے ضرر لکڑی ہے۔ جب کہ سانپ ایک خوفناک جانور ہے اور آپ کی ذرا سی غفلت بھی آپ کو اس کا شکار بنا سکتی ہے۔

”ایمان“، بظاہر منھ سے کچھ الفاظ بولنے کا نام ہے۔ مگر ایمان کا تعلق جس چیز سے ہو اس کی مناسبت سے دل میں اثر پیدا ہونا ضروری ہے۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ میں نے خدا کے وجود کا اقرار کیا، میں اس پر ایمان لایا، تو آپ تمام طاقتوں سے زیادہ بڑی طاقت کا اقرار کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ اس مالک کا ئنات کو جاننے اور ماننے کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں جس کا انجام بھی بہت بڑا ہے اور جس کی سزا بھی بے حد سخت ہے، ایسے خدا کا اقرار، اگر چہ فی الواقع اقرار ہو، تو آپ کی پوری شخصیت کو ہلا دے گا۔ اس کا نام سن کر آپ کا دل دہل اٹھے گا۔ اس کے کلام کے آگے آپ ڈھ جائیں گے ۔

مذکورہ آیت مال غنیمت کا حکم بیان کرنے کے ذیل میں اتری ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ مال غنیمت میں کس کا کتنا مگر اس کا حکم بتانے سے پہلے کہا جاتا ہے کہ ” اللہ سے ڈرو“ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرہ یا اسلامی نظام قائم ہونے کا انحصار سب سے زیادہ کس چیز پر ہے۔ وہ اس پر ہے کہ معاشرہ میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں پیدا ہو جائیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ اگر لوگوں کے اندر اللہ کا ڈر سمایا ہوا نہ ہو تو کسی قسم کا قانونی نفاذ یا کوئی بھی سیاسی یا غیر سیاسی تدبیر معاشرہ کے اندر اسلامی نظام بر پا کرنے کی ضامن نہیں ہوسکتی۔ اگر آپ مینڈکوں کی پنسہری بنانا چاہیں تو وہ کبھی نہیں بنے گی۔ کیوں کہ آپ چند مینڈک پکڑ کر ترازو کے پلہ میں رکھیں گے تو دوسرے چند مینڈک پھدک کر باہر جا چکے ہوں گے۔ یہی حال انسان کا ہے۔ انسان ایک بے حد سرکش مخلوق ہے جو کسی طرح اپنے کو قابو میں آنے نہیں دیتا۔ جو بھی خارجی تد بیر اس کو قابو میں لانے کی کی جاتی ہے اس سے وہ کسی نہ کسی طرح نکل بھاگتا ہے۔ آدمی کو قابو میں لانے والی واحد چیز یہ ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہو اس کو یہ اندیشہ لگا ہوا ہو کہ اگر اس نے بے انصافی کی تو موت کے بعد خدا کا عذاب اس کو پکڑلے گا ۔

Printed page