Al-Risala · October 1979

جو آگے تھا وہ پیچھے ہو گیا

Al-Risala, October 1979, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

فرانسیسی مورخ والٹیئر نے لکھا ہے کہ پہلی گھڑی جس سے یورپ واقف ہوا وہ مسلم خلیفہ ہارون الرشید کی گھڑی تھی جو اس نے ۸۰۷ء میں بطور تحفہ فرانس کے بادشاہ شارلیمان کو بھیجی۔ یورپ کے لئے وہ اس زمانہ میں بالکل نئی چیز تھی۔ کے لوگوں نے جب اس کو دیکھا تو وہ حیران ہو کر رہ گئے۔ مگر سترھویں صدی میں جب مشینی دور شروع ہوا اور اسپرنگ کلاک وجود میں آیا تو اس کا موجد یورپ تھا۔ اب صورت حال بالکل بدلی ہوئی تھی۔ یورپ کے تاجرا سپرنگ دار گھڑیاں یورپ سے لے آتے اور ہندوستان کے مغل شہزادے ان کو شوق کے ساتھ خریدتے اور کثرت سے یورپ کے حکمرانوں نے بغداد کے مسلم کاریگروں کی بنائی ہوئی گھڑیوں کو نہ صرف حیرت کے ساتھ لیا بلکہ ان کو سمجھ کر ان کو ترقی دینے کی کوشش میں لگ گئے۔ اس کے برعکس مغل حکمرانوں نے کبھی یہ سمجھنے کی کوشش نہ کی کہ اسپرنگ کلاک کیا چیز ہے۔ وہ صرف اتناہی جانتے تھے کہ یورپی تاجروں کے ذریعہ ان کو مہنگے داموں خرید لیں یا بطور تحفہ وصول کرکے ان کو اپنے محل کی زینت بنائیں۔

Printed page