Al-Risala · October 1979

ایک تاثر

Al-Risala, October 1979, pp. 13–15

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ کی زمین پر شاید کوئی اللہ کا پرستار نہیں رہا۔ ہر ایک نے اپنے سینہ میں کوئی نہ کوئی بت چھپا رکھا ہے۔ ہر ایک کسی نہ کسی غیر اللہ کی عقیدت و محبت میں مبتلا ہے۔ وہ اسی وقت تک خدا پرست نظر آتا ہے جب تک اس کی نازک نفسیات کو چھیڑا نہ گیا ہو۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کے چھپے ہوئے بت پر زد پڑتی ہے۔ اس کی عقیدتوں کا غبارہ مجروح ہوتا ہے تو وہ بلبلا اٹھتا ہے ۔ وہ طیش میں آکر اپنا لبادہ اتار پھینکتا ہے ۔ اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ وہ حقیقتہً خدا کا پرستار نہ تھا بلکہ غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھا۔ اگر چہ اوپر سے خدا پرستی کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھا ۔ (۴ ستمبر ۱۹۷۹ء)

قل لا يستوى الخبيث والطيب ولو اعجبك كثرة الخبيث فاتقوا الله يا أولى الالباب لعلكم تفلحون (مائدہ (۱۰۰)

کہہ دو، ناپاک اور پاک برابر نہیں ہو سکتے۔ اگر چہ ناپاک کی کثرت تم کو خوش لگے۔ اے عقل والو اللہ سے ڈرو تا کہ تم کامیاب ہو۔

غیر خدائی بنیادوں پر بظاہر کتنی ہی شان دار ترقی حاصل کر لی جائے وہ بے حقیقت ہے۔ بالآخر ایسی تمام ترقیاں ڈھ جائیں گی اور وہی انسان کامیاب انسان ہو گا جو خدائی بنیادوں پر کھڑا ہوا ہو۔ دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص حقیقی اوصاف رکھنے کے باوجود لوگوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ دنیوی زور کو اپنے گرد جمع نہ کر سکا۔ اسی طرح کچھ لوگ حقیقی اوصاف نہ رکھتے ہوئے بھی عزت اور خوش حالی اور اقتدار کے مالک بن جاتے ہیں، کیوں کہ انھوں نے دنیوی اہمیت کی چیزوں ، مثلاً دولت ، عہدہ، اعوان و انصار کو اپنی پشت پر اکٹھا کر لیا تھا۔ تاہم ایک طیب ہے اور دوسرا خبیث اور خبیث اور طیب دونوں یکساں نہیں ہو سکتے۔ موجودہ مصنوعی صورت حال صرف اس لیے ہے کہ زمین کے مالک نے لوگوں کو آزاد چھوڑ رکھا ہے۔ مگر یہ صورت حال یقینی طور پر عارضی ہے۔ جلد ہی ایسا ہو گا کہ زمین کا مالک اپنے جلال و کمال کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا۔ اس وقت تمام لوگ اپنے اپنے حقیقی مقام پر آ جائیں گے۔ کائنات کے ظاہر ہوتے ہی تمام مصنوعی عظمتیں اچانک مٹ جائیں گی۔ ہر آدمی اس اصل مقام پر پہنچ جائے گا جو فی الواقع اس کا مقام ہے۔ اس وقت کتنے لوگ ، جو دنیا میں شہرت اور عزت کی جنتوں میں بس رہے تھے ، اپنے آپ کو ذلت اور ناکامی کے جہنم میں جلتا ہوا پائیں گے۔ کیوں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ اسی مقام پر تھے۔ اور کتنے لوگ جو مسکینی اور بے بسی کے جہنم میں گرفتار دکھائی دیتے تھے، ہر قسم کی عزتوں اور ترقیوں کی بہشت میں باغ باغ ہو رہے ہوں گے ، کیوں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ جس مقام پر تھے وہ یہی تھا۔ اللہ کا خوف آدمی کو آنے والے وقت سے پہلے اُس حقیقت واقعہ کا احساس کرا دیتا ہے جس کو بے خوف انسان صرف اس وقت جانے گا جب کہ وہ اس سے دوچار ہو چکا ہو گا۔ جب حقیقت واقعہ یہ ہے کہ اس دنیا کا مالک اللہ ہے تو عزت اسی کو حاصل ہوگی جس کو خدا عزت دے اور ذلت اس کے لئے ہوگی جس کو خدا ذلیل کرے۔ یہ احساس جس کے دل میں بیٹھ جائے اس کو دنیا کی تمام شان وشوکت حقیر معلوم ہونے لگتی ہے۔ وہ اقتدار کی گدی پر بیٹھ کر بھی اپنے کو بے زور پاتا ہے، وہ دولت کے انبار کو پا کر بھی اپنے کو محتاج سمجھتا ہے۔ وہ مکمل معنوں میں حقیقت پسند بن جاتا ہے وہ ہر چیز کو اس شکل میں دیکھنے لگتا ہے جیسی کہ وہ حقیقت ہے۔ یہ اہلِ تقویٰ کی کامیابی کا وہ پہلو ہے جو اخروی اعتبار سے ہے۔ وہ حساب کا دن آنے سے پہلے اپنے ارصال (اکتوبر (۱۹۷۰ء)

کو حساب کی ترازو میں کھڑا کر لیتے ہیں۔ خدا کے مقابلہ میں اپنی عاجزانہ حیثیت کو اس وقت سے پہلے تسلیم کر لیتے ہیں جب کہ خدا اپنے جلال و جبروت کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا اور کسی کے لئے ماننے کے سوا چارہ نہ ہوگا ۔ غیب میں جو شخص اس طرح اللہ کا اقرار کرلے وہ امتحان میں پورا اترا ۔ آخرت میں جب اللہ اپنے جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا تو ایسے بندوں کو وہ اپنی رحمتوں سے مالا مال کر دے گا اور یہی اصلی اور حقیقی کامیابی ہے۔ مگر اللہ نے اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ اگر خدا کے بندوں کی کوئی قابل لحاظ تعداد تقویٰ کی اس روش کو عملاً اختیار کرلے تو اس کی کامیابیوں کا آغاز اسی موجودہ دنیا سے شروع ہو جاتا ہے۔ دنیا ئیں خدا کی دنیا ہیں اور جو حقیقت پسندانہ اوصاف آدمی کی آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہیں، وہی حقیقت پسندانہ اوصاف دنیا کی کامیابی کو بھی یقینی بناتے ہیں۔ نہ انسان کو ذاتی طور پر کوئی اختیار حاصل نہیں۔ دراصل اللہ کی نصرت ہے جو کسی کو کامیاب بناتی ہے۔ اللہ کی نصرت ہی آدمی کو آخرت میں کامیاب بنائے گی اور وہی آدمی کی دنیا کو بھی کامیاب بنانے والی ہے۔ فرق یہ ہے کہ آخرت میں آدمی کے انفرادی عمل کے مطابق اس کو کامیابی دی جائے گی۔ ایک شخص اگر ذاتی طور پر سچا مومن ہے تو محض اپنے ذاتی ایمان کی بدولت وہ آخرت کی کامیابی کا مستحق قرار پا جائے گا۔ مگر دنیا میں اہل ایمان کی کامیابی (غلبہ) کا انحصار اجتماعی ایمان پر ہے۔ یعنی دنیا کی زندگی میں اہل ایمان کو اسی وقت غلبہ اور سربلندی حاصل ہوتی ہے جب کہ وہ قابل لحاظ تعداد میں سچی خدا پرستی کی شرائط کو پورا کر رہے ہوں ۔

دنیا میں سربلندی حاصل کرنے کے لئے کس قسم کے افراد کا مجموعہ درکار ہے۔ اس کے لئے ایسے افراد درکار ہیں جو اپنے آپ کو اس مقام پر رکھنے کے لئے راضی ہو جائیں جو کہ باعتبار حقیقت ان کا مقام ہے۔ اللہ کے مقابلہ میں آدمی کا مقام عجز ہے۔ اس لئے ہر آدمی اللہ کے مقابلہ میں اپنے آپ کو مکمل طور پر عاجز محسوس کرے۔ اور خودرائی سے اپنے کو پاک کرلے۔ بندے کے مقابلہ میں آدمی کا مقام برابری کا ہے۔ ہر آدمی کا باعتبار حقیقت وہی درجہ ہے جو کسی دوسرے آدمی کا ہے۔ عزت، دولت، اقتدار یا نسلیت اور قومیت کی بنا پر ایک آدمی اور دوسرے آدمی میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے دو آدمیوں میں اس قسم کا فرق کتنا ہی زیادہ پایا جائے مگر دونوں آدمی اپنے کو یکساں درجہ کا انسان سمجھیں، کوئی شخص نہ احساس کمتری کا شکار ہو اور نہ احساس برتری کا۔ ان اوصاف کے پیدا ہونے کا سر چشمہ صرف ایک ہے اور وہ اللہ کا خوف ہے۔ اللہ سے ڈرنے والوں میں یہ خصوصیات سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ اسی لئے وہ دنیا کا نظام بھی سب سے زیادہ بہتر طور پر سنبھال سکتے ہیں۔ اور اس لئے وہ سب سے زیادہ اللہ کی نصرت کے مستحق بنتے ہیں۔ ان کا تقویٰ ان کو عجلت پسندی ، ذاتی نمود و نمائش، باہمی عداوت اور بے انصافی سے پاک کر دیتا ہے۔ ان کے حوصلے اور تمنائیں دنیوی چیزوں کے بجائے اخروی چیزوں میں لگ جاتی ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ اوصاف پیدا ہو جائیں ان کو خدا کی اس دنیا میں کوئی چیز کامیاب ہونے سے روک نہیں سکتی۔

Printed page