جب اعمال اکارت ہو جائیں
Al-Risala, October 1979, pp. 19–28
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں اللہ تعالیٰ کے جو قوانین بتائے گئے ہیں، ان میں سے ایک قانون حبط اعمال ہے۔ کے معنی ہیں اکارت جانا۔ پانی والا کوار ہو و اس کا پانی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے تو کہیں گے حبط ماء البئر۔ دین میں حبط اعمال سے مراد یہ ہے کہ آدمی بظاہر نیکیاں کر رہا ہو۔ خوش نما اعمال اس سے ظاہر ہو رہے ہوں۔ آخرت میں وہ بے قیمت ٹھہریں وہاں ان کا کوئی وزن نہ کیا جائے۔ قرآن میں مختلف مقامات پر حبط اعمال کے جو اسباب بتائے گئے ہیں وہ یہ ہیں:
دین کو اختیار کرنے کے بعد دین سے پھر جانا۔ اللہ کی نشانیوں سے انکار، بے انصافی پر روک ٹوک کرنے والوں کے مارنے کے درپے ہو جانا۔ آل عمران ۲۲ ایمان کے تقاضوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرنا۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔ انعام ۸۸ ، زمر ۶۵ دنیا کا نفع اور دنیا کی رونق چاہنا۔ دنیوی نقصان کے اندیشہ سے اسلامی جدوجہد کا ساتھ نہ دینا۔ آخرت میں اللہ سے ملاقات کے معاملہ کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دینا۔ کافرانہ روش پر قائم رہتے ہوئے ظاہری عبادتیں کرنا۔ دنیا کی چیزوں میں غرق ہونا۔ دنیا کو سب کچھ سمجھنا اور اپنی تمام کوششیں اس میں صرف کر دینا۔ اسلام کی ضرورت کے موقع پر بخیلی اور بزدلی دکھانا۔ اللہ کی ناراضی والے راستہ پر چلنا اور اس کی رضا کا حریص نہ ہونا۔ اللہ کے کام میں رکاوٹ ڈالنا اور اس کا مخالف بن کر کھڑا ہونا۔ یہ ایک نہایت سخت معاملہ ہے جو آخرت میں کچھ لوگوں کے ساتھ پیش آئے گا۔ بظاہر وہ "اعمال" کا ڈھیر لے کر آئیں گے۔ انھوں نے دینی عمل کے نام پر دنیا میں بہت کچھ کیا ہو گا۔ حتیٰ کہ بہت سے ظاہر بینوں کی نظر میں وہ دین اور مذہب کے چیمپین بنے رہے ہوں گے۔ مگر آخرت کی دنیا میں ان کے اعمال کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔ کیوں کہ انھوں نے ظاہری دھوم دھام والے دین کو تو خوب اپنایا مگر حقیقی دین سے انہیں دل چسپی نہیں ہوئی ۔ وہ نمائشی دین کے عامل رہے۔ مگر جب نفس پر زد پڑی۔ جہاں مصالح مجروح ہوتے نظر آئے ۔ جب اُن دیکھی آخرت کی خاطر سامنے کے فوائد کو چھوڑنا ہو اٹھ ایسے مواقع پر انھوں نے دین کے تقاضوں کو نظر انداز کر دیا۔ انھوں نے اپنی پسند کا دین اپنایا نہ خدا کی پسند کا۔
اور جب ہم نے تم سے یہ عہد لیا کہ تم اپنوں کے خون نہ بہاؤ گے ۔ اور اپنے لوگوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالو گے۔ نے اقرار کیا اور تم اس کے گواہ ہو۔ پھر تم ہی ہو کہ اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے ہی ایک گروہ کو ان کی بستیوں سے ان کے مقابلہ میں ان کے دشمنوں کی مدد کرتے ہو گناہ اور ظلم کے ساتھ۔ پھر اگر وہ تمھارے پاس قید ہو کر آتے ہیں تو تم فدیہ دے کر ان کو چھڑاتے ہو۔ حالاں کہ خود ان کا نکالنا تمھارے اوپر حرام تھا۔ کیا تم کتاب الہیٰ کے ایک حصہ کو مانتے ہو اور ایک حصہ کا انکار کرتے ہو۔ پس تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ان کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ ان کو دنیا کی زندگی میں رسوائی ہو اور قیامت کے دن ان کو سخت عذاب میں ڈال دیا جائے۔ اور اللہ اس چیز سے بے خبر نہیں جو تم کر رہے ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ پس نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مدد پہنچے گی ۸۴ - ۸۶ قدیم مدینہ کے اطراف میں یہود کے تین قبیلے آباد تھے۔ بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع۔ موسوی شریعت کو مانتے تھے۔ مگر ان کے جاہلی تعصبات نے ان کو الگ الگ گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ سیاست کے تحت وہ مدینہ کے مشرک قبائل۔ اوس اور خزرج کے ساتھ مل گئے تھے۔ بنو نضیر اور بنو قریظہ نے قبیلہ اوس کا ساتھ پکڑ لیا تھا۔ بنو قینقاع قبیلہ خزرج کے حلیف بنے ہوئے تھے۔ اس طرح دو گروہ بن کر وہ آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ جنگ بعاث اسی قسم کی ایک جنگ تھی جو ہجرت نبوی سے پانچ سال پہلے واقع ہوئی ۔ لڑائیوں میں یہود مشرک قبائل کے ساتھ مل کر دو محاذ بنا لیتے ایک محاذ میں شامل ہونے والے یہودی دوسرے محاذ میں شامل ہونے والے یہودیوں کو قتل کرتے اور ان کو ان کے گھروں سے بے گھر کرتے۔ پھر جب جنگ ختم ہو جاتی تو وہ تورات کا حوالہ دے کر اپنے ہم مذہبوں سے چندہ کی اپیلیں کرتے تاکہ اپنے گرفتار بھائیوں کو فدیہ دے کر مشرک قبائل کے ہاتھ سے چھڑایا جا سکے۔ انسان کے جان و مال کے احترام کے بارے میں وہ خدا کے حکم کو توڑتے اور پھر اپنی ظالمانہ سیاست کا شکار ہونے والوں کے ساتھ نمائشی ہمدردی کر کے ظاہر کرتے کہ وہ بہت دیندار ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کو ناحق قتل کر دیا جائے اور اس کے بعد شرعی طریقہ پر اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے شریعت کے اصلی اور اساسی احکام آدمی سے جاہلی زندگی چھوڑنے کے لئے کہتے ہیں۔ وہ اس کی خواہش نفس سے ٹکراتے ہیں۔ وہ اس کی دنیا دارانہ سیاست پر روک لگاتے ہیں، اس لئے آدمی ان احکام کو نظر انداز کرنا ہے۔ وہ حقیقی دین داری کے جوئے میں اپنے کو ڈالنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ البتہ کچھ معمولی اور نمائشی چیزوں کی دھوم مچا کر یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خدا کے دین پر پوری طرح قائم ہے۔ مگر یہ خدا کے دین کا خود ساختہ ایڈیشن تیار کرتا ہے۔ یہ دین کے اتھردی پہلو کو نظر انداز کرتا ہے اور دین کے بعض وہ پہلو جو اپنے اندر دنیوی رونق اور شہرت رکھتے ہیں ان میں دین داری کا کمال دکھانا ہے۔ دین میں اس قسم کی جسارت آدمی کو اللہ کے غضب کا مستحق بناتی ہے نہ کہ اللہ کا انعام کا۔
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح پاک سے اس کی تائید کی۔ تو جب بھی کوئی رسول تمھارے پاس وہ چیز لے کر آیا جس کو تمھارا دل یں چاہتا تھا تو تم نے تکبر کیا۔ پھر ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو مار ڈالا۔ اور یہود کہتے ہیں کہ ہمارے قلوب نہیں بلکہ اللہ نے ان کے انکار کی وجہ سے ان پر لعنت کر دی ہے۔ اس لئے وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔ اور جب آئی اللہ کی طرف سے ان کے پاس ایک کتاب جو سچا کرنے والی ہے اس کو جو ان کے پاس ہے اور وہ پہلے سے کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے۔ پھر جب آئی ان کے پاس وہ چیز جس کو انھوں نے پہچان رکھا تھا تو انھوں نے اس کا انکار کر دیا۔ پس اللہ کی لعنت ہے انکار کرنے والوں پر کیسی بری ہے وہ چیز جس سے انھوں نے اپنی جانوں کا مول کیا کہ وہ انکار کر رہے ہیں اللہ کے اتارے ہوئے کلام کا اس ضد کی بنا پر کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اتارے۔ پس وہ غصہ پر غصہ کما کر لائے اور انکار کرنے والوں کے لئے ذلت کا عذاب ہے ۹۰ - ۸۷ تورات اللہ کی کتاب تھی جو یہود پر اتری۔ مگر دھیرے دھیرے تورات کی حیثیت ان کے یہاں قومی تبرک قومی عظمت اور نجات کی علامت کے طور پر یہود اب بھی اس کو سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ مگر رہنما کتاب کے مقام سے اس کو انھوں نے ہٹا دیا تھا۔ حضرت موسیٰ کے بعد بار بار ان کے درمیان انبیاء اٹھے مثلاً یوشع نبی، داؤد نبی، زکریا نبی، یحییٰ نبی، وغیرہ۔ ان کے آخری نبی حضرت عیسیٰ تھے۔ یہ تمام انبیاء یہود کو یہ نصیحت دینے کے لئے آئے کہ تورات کو اپنی عملی زندگیوں میں شامل کرو۔ مگر تورات کے تقدس پر ایمان رکھنے کے باوجود یہ آواز ان کے لئے تمام آوازوں سے زیادہ ناقابل برداشت ثابت ہوئی۔ وہ خدا کے نبیوں کو نیکی ماننے سے انکار کرتے، حتیٰ کہ ان کو قتل کر ڈالتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تورات کے نام پر وہ جس زندگی کو اختیار کئے ہوئے تھے وہ حقیقتاً نفسانیت اور دنیا پرستی کی ایک نہ زندگی تھی جس کے اوپر انھوں نے خدا کی کتاب کا لیبل لگا لیا تھا۔ خدا کے نبی جب بے آمیز حق کی دعوت پیش کرتے تو ان کو نظر آتا کہ یہ دعوت ان کی مذہبی حیثیت کی نفی کر رہی ہے۔ اب ان کے اندر گھمنڈ کی نفسیات جاگ اٹھتیں ۔ وہ نبیوں کے اعتراف کے بجائے ان کو ختم کرنے کے درپے ہو جاتے۔ یہی معاملہ عرب کے یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا۔ وہ اپنی کتابوں میں آخری رسول کی پیشین گوئی کو دیکھ کر کہتے کہ جب وہ نبی آئے گا تو ہم اس کے ساتھ مل کر کافروں اور مشرکوں کو زیر کریں گے۔ مگر ان کی یہ بات محض ایک جھوٹی تقریر تھی جو اپنے کو مذہب کا پاسبان ظاہر کرنے کے لئے وہ کرتے تھے۔ چنانچہ "وہ نبی" آیا تو ان کی حقیقت کھل گئی۔ ان کے جاہلی تعصبات اپنے گروہ سے باہر کے ایک نبی کا اعتراف کرنے میں رکاوٹ بن گئے۔ قرآن میں آپ کی صداقت کے بارے میں جو واضح دلائل دیئے جا رہے تھے، ان کے جواب سے وہ عاجز تھے۔ وہ کہنے لگے کہ تمھاری ظاہر فریب باتوں سے متاثر ہو کر ہم اپنے اسلاف کا دین نہیں چھوڑ سکتے۔
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کلام پر ایمان لاؤ جو اللہ نے اتارا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ہمارے اوپر اترا ہے۔ اور وہ اس کا انکار کرتے ہیں جو اس کے پیچھے آیا ہے۔ حالاں کہ وہ حق ہے اور سچا کرنے والا ہے اس کا جو ان کے پاس ہے۔ کہو، اگر تم ایمان والے ہو تو تم اللہ کے پیغمبروں کو اس سے پہلے کیوں قتل کرتے رہے ہو۔ اور موسیٰ تمہارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا۔ پھر تم نے اس کے پیچھے بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تم ظلم کرنے والے ہو۔ اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور کوہ طور کو تمہارے اوپر کھڑا کیا۔ جو حکم ہم نے تم کو دیا ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور سنو۔ انھوں نے کہا: ہم نے سنا اور ہم نے نہ مانا۔ اور ان کے کفر کے سبب سے بچھڑا ان کے دلوں میں رچ بس گیا۔ کہو اگر تم ایمان والے ہو تو کسی بری ہے وہ چیز جو تمھارا ایمان تم کو سکھاتا ہے۔ کہو اگر اللہ کے یہاں آخرت کا گھر خاص تمھارے لئے ہے دوسروں کو چھوڑ کر تو تم مرنے کی آرزو کرو اگر تم سچے ہو۔ مگر وہ کبھی اس کی آرزو نہیں کریں گے بہ سبب اس کے جو وہ اپنے آگے بھیج چکے ہیں۔ اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو۔ اور تم ان کو زندگی کا سب سے زیادہ حریص پاؤ گے، ان لوگوں سے بھی زیادہ جو مشرک ہیں۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ ہزار برس کی عمر پائے۔ حالاں کہ اتنا جینا بھی اس کو عذاب سے بچا نہیں سکتا۔ اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔ یہود جو قرآن کی دعوت کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے، اس کی وجہ ان کا یہ احساس تھا کہ وہ پہلے سے حق پر ہیں اور حق پرستوں کی سب سے بڑی جماعت (اسرائیل) سے وابستگی رکھتے ہیں۔ مگر یہ دراصل گروہ پرستی تھی جس کو انھوں نے حق پرستی کے ہم معنی سمجھ رکھا تھا ۔ وہ گروہ ہی حق کو خالص حق کا مقام دے ہوئے تھے۔ ہے کہ حق جب اپنی بے آمیز صورت میں ظاہر ہوا تو وہ اس کو لینے کے لئے آگے نہ بڑھ سکے۔ اگر خالص حق ان کا مقصود ہوتا تو ان کے لئے یہ جاننا مشکل نہ ہوتا کہ قرآن کا آنا خود ان کی مقدس کتاب تورات کی پیشین گوئیوں کے مطابق ہے اور یہ کہ قرآن کے نزول کے بعد اب قرآن ہی کتاب حق ہے نہ کہ ان کا اپنا گروہی مذہب۔ ان کا معاملہ فی الواقع حق پرستی کا معاملہ نہیں، اس کا ثبوت ان کی اپنی تاریخ میں یہ ہے کہ انھوں نے خود اپنے گروہ کے نبیوں (مثلاً حضرت زکریا، حضرت یحییٰ کو قتل کیا جنھوں نے ان کی زندگیوں پر تنقید کی، جو ان کے خلاف گواہی دیتے تھے تاکہ ان کو خدا کی طرف پھر الائیں۔ (نحیمياه ٩: ٢٦) حضرت موسیٰ نے جو معجزات پیش کئے اس کے بعد ان کی نبوت میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا تھا۔ مگر کوہ طور کے چالیس روزہ قیام کے زمانہ میں جب حضرت موسیٰ کا شخصی دباؤ ان کے سامنے نہ رہا تو انھوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ ان کے سر پر پہاڑ کھڑا کر دیا گیا تب بھی صرف وقتی طور پر جان بچانے کے لئے انھوں نے کہہ دیا کہ ہاں ہم نے سنا۔ مگر اس کے بعد ان کی اکثریت بدستور نافرمانی کی زندگی پر قائم رہی۔ اگر وہ سچ مچ خدا پرست ہوتے تو ان کی ساری توجہ خدا کی دنیای طرف لگ جاتی جو موت کے بعد آنے والی ہے۔ مگر ان کا حال یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
کرو کہ جو کوئی خبریل کا مخالف ہے تو اس نے اس کلام کو تمھارے دل پر اللہ کے حکم سے اتارا ہے، وہ سچا کرنے والا ہے اس کا جو اس کے آگے ہے اور وہ ہدایت اور خوش خبری ہے ایمان والوں کے لئے۔ جو کوئی دشمن ہو اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبریل و میکائیل کا تو اللہ ایسے کافروں کا دشمن ہے، اور ہم نے تمھارے اوپر واضح نشانیاں اتاریں اور کوئی ان کا انکار نہیں کرتا مگر وہی لوگ جو فاسق ہیں۔ کیا جب بھی وہ کوئی عہد باندھیں گے تو ان کا ایک گروہ اس کو توڑ پھینکے گا۔ بلکہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول آیا جو سچا کرنے والا تھا اس چیز کا جو ان کے پاس ہے تو ان لوگوں نے جن کو کتاب دی گئی تھی، اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے پھینک دیا گویا وہ اس کو جانتے ہی نہیں۔ ۱۰۱ – ۹۷ قدیم زمانہ میں یہود کی سرکشی کے نتیجہ میں بار بار ان کو سخت سزائیں دی گئیں۔ سنت اللہ کے مطابق ہر سزا سے پہلے پیغمبروں کی زبان سے اس کی پیشگی خبردی جاتی۔ یہ جبر اللہ کی طرف سے جبریل فرشتہ کے ذریعہ پیغمبر کے پاس آتی اور وہ اس سے اپنی قوم کو آگاہ کرتے۔ اس قسم کے واقعات میں اصل سبق یہ تھا کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ اللہ کی نافرمانی سے بچے تاکہ وہ عذاب الہی کی زد میں نہ آجائے۔ مگر یہود ان واقعات سے اس قسم کا سبق نہ لے سکے۔ اس کے بجائے وہ کہنے لگے کہ جبریل فرشتہ ہمارا دشمن ہے۔ وہ ہمیشہ آسمان سے ہمارے خلاف احکام لے کر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ اللہ ۔ نہ جبریل کے ذریعہ مجھ پر وحی کی ہے تو یہود نے کہنا شروع کیا کہ جبریل تو ہمارا پرانا دشمن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوت جو صرف اسرائیل گردہ کا حق تھا، اس کو اسی نے ایک اور قبیلہ کے فرد تک پہنچا دیا۔
اس قسم کی بے معنی باتیں وہی لوگ کرتے ہیں جو فسق اور بے قیدی کی زندگی گزار رہے ہوں۔ حال یہ تھا کہ وہ نفس پرستی، آبائی تقلید، نسلی اور قومی عصبیت کی سطح پرجی رہے تھے۔ اور کچھ نمائشی قسم کے مذہبی کام کرکے ظاہر کرتے تھے کہ وہ عین دین خداوندی پر قائم ہیں۔ جو لوگ اس قسم کی جھوٹی دین داری میں مبتلا ہوں وہ سچے اور بے آمیز دین کی دعوت سن کہ ہمیشہ بگڑ جاتے ہیں۔ کیوں کہ ایسی دعوت ان کو ان کے مقام افتخار سے اتارنے کے ہم معنی نظر آتی ہے۔ وہ مشتعل نفسیات کے تحت ایسی باتیں بولنے لگتے ہیں جو نحو و صرف کے اعتبار سے درست ہونے کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ فرشتوں کا آنا اور رسولوں کا مبعوث ہونا سب مکمل طور پر خدائی منصوبہ کے تحت ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جب دلائل یہ ظاہر کر رہے ہوں کہ پیغمبر عربی کے پاس وہی چیز آئی ہے جو ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ پر آئی تھی اور وہ پچھلے آسمانی صحیفوں کی پیشین گوئیوں کے عین مطابق ہے تو یہ صریح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ بہت سی باتیں یہ ظاہر کرنے کے لئے بولتا ہے کہ وہ ایمان پر قائم ہے۔ حالاں کہ وہ باتیں صرف اس کا ثبوت ہوتی ہیں کہ آدمی کا ایمان اور خدا پرستی سے کوئی تعلق نہیں۔
اور وہ اس چیز کے پیچھے پڑ گئے جس کو شیاطین سلیمان کی سلطنت پر لگا کر پڑھتے تھے۔ حالاں کہ سلیمان نے کفر نہیں کیا بلکہ یہ شیاطین تھے جنہوں نے کفر کیا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور وہ اس چیز میں پڑ گئے جو بابل میں دو فرشتوں، ہاروت اور ماروت پر اتاری گئی، جب کہ ان کا حال یہ تھا کہ جب بھی کسی کو اپنا یہ فن سکھاتے تو اس سے کہہ دیتے کہ ہم تو آزمائش کے لئے ہیں۔ پس تم کافر نہ بنو۔ مگر وہ ان سے وہ چیز سیکھتے جس سے مرد اور اس کی عورت کے درمیان جدائی ڈال دیں۔ حالاں کہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر اس سے کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ اور وہ ایسی چیز سیکھتے جو ان کو نقصان پہنچائے اور نفع نہ دے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو کوئی اس چیز کا خریدار ہوا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ کیسی بری چیز ہے جس کے بدلے انھوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔ اس کو سمجھتے۔ اور اگر وہ مومن بنتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کا بدلہ ان کے لئے بہتر تھا، کاش وہ اس کو سمجھتے۔ ۱۰۳ - ۱۰۲ آسمانی کتاب کے حامل کسی گروہ کا بگاڑ ہمیشہ صرف ایک ہوتا ہے: نجات آخرت جس کا انحصار تمام تر عمل صالح پر رکھا گیا ہے، اس کا راز یہ علمی میں تلاش کر لینا ۔ اللہ کا کلام حقیقت عمل کی پکار ہے۔ مگر جب قوم پر زوال آتا ہے تو اس کے افراد مقدس کلام کے لکھ لینے یا زبان سے بول دینے کو ہر قسم کی برکتوں کا پراسرار نسخہ سمجھ لیتے ہیں۔ یہی وہ نفسیاتی زمین ہے جس کے اوپر سحر اور کہانت اور عملیات وجود میں آتے ہیں۔ چھومنتر جیسی چیزوں سے جنت حاصل کرنے والے دنیا کو بھی چھو منتر کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ بزرگوں سے عقیدت کو نجات کا ذریعہ سمجھنے والے ارواح سے تعلق قائم کر کے اپنے دنیوی مسائل حل کرنے لگتے ہیں۔ اور اوراد ووظائف کے طلسماتی اثرات پر یقین کرنے والے سیاسی چمتکار دکھا کر ملت کی تعمیر اور اسلام کے احیاء کا منصوبہ بناتے ہیں۔
یہوداپنے زوال کے بعد جب بے عملی اور توہم پرستی کی اس کیفیت میں مبتلا ہوئے تو ان کے درمیان ایسے لوگ پیدا ہوئے جو سحر وکہانت کی دکان لگا کر بیٹھ گئے۔ ان ظالموں نے اپنے کاروبار کو چمکانے کے لئے اپنے اس فن کو حضرت سلیمان کی طرف منسوب کر دیا۔ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ سلیمان کو جنوں اور ہواؤں تک پر جو غیر معمولی اقتدار حاصل تھا وہ سب علم سحر کی بنا پر تھا اور یہ سلیمانی علم بعض جنوں کے ذریعہ ہم کو حاصل ہو گیا ہے۔ طرح حضرت سلیمان کی طرف منسوب ہو کر عملیات کا فن یہود کے اندر بڑے پیمانے پر پھیل گیا۔ حضرت لوط کی قوم مباشرت ہم جنس کی برائی میں مبتلا تھی، اس لئے ان کے یہاں خوبصورت لڑکوں کی صورت میں فرشتے آئے۔ اسی طرح یہود کی آزمائش کے لئے بابل میں دو فرشتے بھیجے گئے جو درویشوں کے بھیس میں عملیات سکھاتے تھے۔ تاہم وہ کہتے رہتے تھے کہ یہ تمھارا امتحان ہے۔ مگر اس انتباہ کے باوجود وہ اس فن پر ٹوٹ پڑے۔ حتیٰ کہ انھوں نے اس کو ناجائز مقاصد میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔
اے ایمان والو تم راعنا نہ کہو بلکہ اُنظرنا کہو اور سنو۔ اور کفر کرنے والوں کے لئے درد ناک سزا ہے۔ نے انکار کیا، خواہ اہل کتاب ہوں یا مشرکین، وہ نہیں چاہتے کہ تمھارے اوپر تمھارے رب کی طرف سے کوئی بھلائی اترے۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے چن لیتا ہے۔ اللہ بڑے فضل والا ہے۔ ہم جس آیت کو موقوف کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کے مثل دوسری لاتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور تمھارے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے سوالات کرو جس طرح اس سے پہلے موسیٰ سے سوالات کئے گئے۔ اور جس شخص نے ایمان کو کفر سے بدل لیا وہ یقیناً سیدھی راہ سے بھٹک گیا (۱۰۸-۱۰۳)
کسی کو خدا کی طرف سے سچائی ملے اور وہ اس کا داعی بن کر کھڑا ہو جائے تو لوگ اس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس کی دعوت میں لوگوں کو اپنی حیثیت کی نفی دکھائی دینے لگتی ہے۔ یہود کے لئے مخالفت کا یہ سبب مزید شدت کے ساتھ موجود تھا۔ کیوں کہ وہ پیغمبری کو اپنا قومی حق سمجھتے تھے۔ لئے یہ بات ناقابل برداشت تھی کہ ان کے گروہ کے سوا کسی اور گروہ میں خدا کے پیغمبر کا ظہور ہو۔ کی دعوت کے بارے میں طرح طرح کی مذہبی بحثیں چھیڑتے تاکہ لوگوں کو اس شبہ میں ڈال دیں کہ آپ جو کچھ پیش کر رہے ہیں وہ محض ایک شخص کی ذاتی اپج ہے۔ وہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی چیز نہیں ہے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ قرآن میں بعض قانونی احکام تو رات سے مختلف تھے۔ ان کو دیکھ کر وہ کہتے کہ کیا خدا حکم دینے میں غلطی کرتا ہے کہ ایک بار ایک حکم دے اور اس کے بعد اسی معاملہ میں دوسرا حکم بھیجے ۔ اس طرح کے شبہات یہود نے اتنی کثرت سے پھیلائے کہ خود مسلمانوں میں کچھ ساوہ مزاج لوگ ان کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرنے لگے۔ مزید یہ کہ یہود جب آپ کی مجلس میں بیٹھتے تو ایسے الفاظ بولتے جن سے آپ کا بے حقیقت ہونا ظاہر ہوتا۔ مثلاً ” ہماری طرف توجہ کیجیے“ کے لئے عربی زبان میں ایک محفوظ لفظ اُنظر نا تھا۔ مگر وہ اس کو چھوڑ کر راعنا کہتے۔ کیونکہ تھوڑا سا کھینچ کر اس کو راعینا کہہ دیا جائے تو اس کے معنی” ہمارے چرواہے“ کے ہو جاتے ہیں، اسی طرح کبھی الف کو دبا کر دہ اس کو راعِن کہتے جس کے معنی احمق کے ہوتے ہیں ہدایت کی گئی کہ (۱) گفتگو میں صاف الفاظ استعمال کرو، مشتبہ الفاظ مت بولو جس میں کوئی برا پہلو بھی نکل سکتا ہو (۲) جو بات کہی جائے اس کو غور سے سنو اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرو (۳) سوال کی کثرت آدمی کو سیدھے راستہ سے بھٹکا دیتی ہے، اس لئے سوال وجواب کے بجائے عبرت اور نصیحت کا ذہن پیدا کرو (۴) اپنے ایمان کی حفاظت کرو ۔ ایسا نہ ہو کہ کسی غلطی کی بنا پر تم اپنے ایمان ہی سے محروم ہو جاؤ (۵) دنیا میں کسی کے پاس کوئی خیر دیکھو تو حسد اور جلن میں مبتلا نہ ہو، کیوں کہ یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جو اس کے فیصلہ کے تحت اس کے ایک بندے کو پہنچا ہے۔
بہت سے اہل کتاب دل سے چاہتے ہیں کہ تمھارے مومن ہو جانے کے بعد وہ کسی طرح پھر تم کو کافر بنا دیں، اپنے حسد کی وجہ سے، باوجودیکہ حق ان کے سامنے واضح ہو چکا ہے۔ پس معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آ جائے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو تم اللہ کے پاس پاؤ گے ۔ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ یقیناً اس کو دیکھ رہا ہے ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہودی ہوں یا عیسائی ہوں، یہ محض ان کی آرزوئیں کہو کہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔ بلکہ جس نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیا اور وہ مخلص بھی ہے تو ایسے شخص کے لئے اجر ہے اس کے رب کے پاس، ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ کوئی غم ۱۰۹ ۔
قرآن کی آواز اگرچہ بہت سے لوگوں کے لئے ناموس آواز تھی۔ تاہم انھیں ایسے لوگ بھی تھے جو اس کو اپنے دل کی آواز پا کر اس کے دائرہ میں داخل ہوتے جا رہے تھے۔ یہ صورت حال یہود کے لئے ناقابل برداشت کیوں کہ یہ ایک ایسی چیز کی ترقی کے ہم معنی تھی جس کو وہ بے حقیقت سمجھ کر نظر انداز کئے ہوئے تھے۔ نے یہ کیا کہ ایک طرف مشرکین کو ابھار کر ان کو اسلام کے خلاف جنگ پر آمادہ کر دیا۔ دوسری طرف نئے اسلام لانے والوں کو طرح طرح کے شبہات اور مغالطے میں ڈالتے تاکہ وہ قرآن اور صاحب قرآن سے بدظن ہو جائیں اور دوبارہ اپنے آبائی مذہب کی طرف واپس چلے جائیں۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر یہود کے خلاف اشتعال پیدا ہونا فطری تھا۔ مگر اللہ نے اس سے ان کو منع فرما دیا۔ حکم ہوا کہ یہود سے بحث مباحثہ یا ان کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی موجودہ مرحلہ میں ہرگز نہ کی جائے۔ اس معاملہ میں تمام تر اللہ پر بھروسہ کیا جائے اور اس وقت کا انتظار کیا جائے جب اللہ تعالی حالات میں ایسی تبدیلی کر دے کہ ان کے خلاف کوئی فیصلہ کن کارروائی کرنا ممکن ہو جاۓ۔ بروقت مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ صبر کریں اور نماز اور زکوٰۃ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائیں۔ صبر آدمی کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ رد عمل کی نفسیات کے تحت منفی کارروائیاں نماز آدمی کو اللہ سے جوڑتی ہے۔ اور اپنے مال میں دوسرے بھائیوں کو حق دار بنانا وہ چیز ہے جس سے باہمی خیر خواہی اور اتحاد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
نئے اسلام لانے والوں سے وہ کہتے کہ تم کو اپنا آبائی مذہب چھوڑنا ہے تو یہودیت اختیار کرو یا پھر عیسائی بن جاؤ۔ کیونکہ جنت تو یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے ہے جو ہمیشہ سے نبیوں اور بزرگوں کی جماعت فرمایا کہ کسی گروہ سے وابستگی کسی کو جنت کا مستحق نہیں بناتی۔ جنت کا فیصلہ آدمی کے اپنے عمل کی بنیاد پر کیا جاتا ہے نہ کہ گروہی فضیلت کی بنیاد پر۔ احسان کے معنی ہیں کسی کام کو اچھی طرح کرنا۔ اسلام میں اچھا ہونا یہ ہے کہ اللہ کے لئے آدمی کی حوالگی اتنی کامل ہو کہ ہر دوسری چیز کی اہمیت اس کے ذہن سے حذف ہو جائے۔ تعصبات، شخصی وفاداریاں اور دنیوی مصالح کوئی بھی چیز اس کے لئے اللہ کی آواز کی طرف دوڑ پڑنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
اور یہود نے کہا کہ نصاریٰ کسی چیز پر نہیں اور نصاریٰ نے کہا کہ یہود کسی چیز پر نہیں۔ اور وہ سب آسمانی کتاب اسی طرح ان لوگوں نے کہا جن کے پاس علم نہیں، انہیں کا سا قول۔ پس اللہ قیامت کے دن اس بات کا فیصلہ کرے گا جس میں یہ جھگڑ رہے تھے۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں کو اس سے روکے کہ وہاں اللہ کے نام کی یاد کی جائے اور ان کو اجاڑنے کی کوشش کرے۔ ان کا حال تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ مسجدوں میں اللہ سے ڈرتے ہوئے داخل ہوں۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بھاری سزا ہے۔ اور مشرق اور مغرب اللہ ہی کے لئے ہے۔ تم جدھر رخ کرو اسی طرف اللہ ہے۔ یقیناً اللہ وسعت والا ہے، علم والا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنایا ہے۔ وہ اس سے پاک ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ اسی کے حکم بردار ہیں سارے۔ وہ آسمانوں اور زمین کا وہ جب کسی کام کا کرنا ٹھہرالیتا ہے تو بس اس کے لئے فرما دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے یہود نے نبیوں اور بزرگوں سے وابستگی کو حق کا معیار بنایا۔ اس وجہ سے ان کو اپنی قوم حق پر اور دوسری قومیں باطل پر نظر آئیں۔ نصاریٰ نے اپنے اندر یہ امتیاز دیکھا کہ اللہ نے اپنا "اکلوتا بیٹا"، ان کے مکہ کے مشرکین اپنی یہ خصوصیت سمجھتے تھے کہ وہ اللہ کے مقدس گھر کے پاسبان ہیں۔ اس طرح ہر گروہ نے اپنے حسب حال حق و صداقت کا ایک خود ساختہ معیار بنا رکھا تھا اور جب وہ اس معیار کی روشنی میں دیکھتا تولا محالہ اس کو اپنی ذات بر سر حق اور دوسروں کی ہر سر باطل نظر آتی۔ مگر ان کی عملی حالت جس چیز کا ثبوت دے رہی تھی وہ اس کے بالکل برعکس تھی۔ وہ گروہ گروہ بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے کسی کو جب بھی موقع ملتا، وہ عبادت کے لئے بنے ہوئے خدا کے گھر کو اپنے گروہ کے علاوہ دوسرے گروہ پر بند کر دیتا اور اس طرح خدا کے گھر کی ویرانی کا باعث بنتا۔ عبادت خانہ تو وہ مقام ہے جہاں انسان اللہ سے ڈرتے ہوئے اور کانپتے ہوئے اگر یہ لوگ واقعہ خدا والے ہوتے تو کیسے ممکن تھا کہ وہ عبادت کے لئے آنے والے کسی بندے کو روکیں یا اس کو ستائیں۔ وہ تو اللہ کی عظمت کے احساس سے دبے ہوئے ہوتے، پھر ان سے اس قسم کی سرکشی کا صدور کیوں کر ہو سکتا تھا۔
انھوں نے اللہ کو انسان کے اوپر قیاس کیا۔ ایک انسان اگر مشرق میں ہو تو اسی وقت وہ مغرب میں نہیں ہوگا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا بھی اسی طرح کسی خاص سمت میں موجود ہے۔ یقیناً اللہ نے اپنی عبادت کے لئے رخ کا تعین کیا ہے مگر وہ عبادت کی عظیمی ضرورت کی بنا پر ہے نہ اس لئے کہ خدا اسی خاص رخ میں ملتا ہے۔ اسی طرح انسانوں پر قیاس کرتے ہوئے انھوں نے خدا کا بیٹا فرض کر لیا۔ حالاں کہ خدا اس قسم کی چیزوں سے بلند و برتر ہے۔ جو لوگ اس طرح خود ساختہ دین کو خدا کا دین بتائیں، ان کے لئے خدا کے یہاں رسوائی اور عذاب کے سوا اور کچھ نہیں