جب لفظوں میں معرکے سر ہونے لگیں
Al-Risala, October 1979, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
پندرہ اگست ۱۹۴۷ء کو آنے والے آزادی کے انقلاب نے ملک کی قسمت بدل دی۔ اس جملہ کو ایک حقیقی واقعہ بنانے کے لئے طویل مدت تک بے حساب جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس قسم کی سنجیدہ کوشش اور دیانت دارانہ عمل کے فقدان ہی کا نتیجہ ہے کہ یہ جملہ آزادی کے ۳۲ سال بعد بھی واقعہ نہ بن سکا۔ مگر شاعر کو نہ صورت واقعہ سے بحث ہے اور نہ جدوجہد کی زحمت میں پڑنے کی ضرورت۔ دوہم قافیہ الفاظ کا مل جانا شاعر کو وہ سب کچھ دے دیتا ہے جس سے وہ اس عظیم واقعہ کو 'افاناً ظہور میں لاسکے۔ ایک اردو شاعرہ اگست کے مشاعرہ میں پڑھی جانے والی نظم میں کہتے ہیں: آج کے دن ہی غلامی کی کٹیں زنجیریں آج ہی پائی تھیں خوابوں نے حسیں تعبیریں مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بہت بڑی تعداد میں ایسے ماہرین انقلاب پیدا کئے ہیں جو الفاظ کے ذریعہ ہر روز بڑے بڑے معرکے سر کر رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انقلاب کے بعد بھی حالات نہ بدلیں اور مسائل ویسے ہی کے ویسے باقی رہیں جو انقلاب سے پہلے تھے۔