Al-Risala · October 1979

اسلام ہر زمانہ کے انسان کے لئے

Al-Risala, October 1979, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام آج کے زمانہ میں قابلِ عمل نہیں ہے، اسلام جدید حالات میں رہنمائی نہیں دے سکتا۔ اس قسم کے شبہات کی ایک وجہ غیر اسلامی تہذیب سے مرعوبیت ہے۔ مگر اسی درجہ کی ایک اور وجہ بھی ہے جو خود اسلام کے داعیوں کی پیدا کی ہوئی ہے۔ یہ ہے اسلام کو ایک تمدنی اور سیاسی نظام کی حیثیت سے پیش کرنا۔ اس میں شک نہیں کہ اہلِ اسلام جب غالب ہوں تو ان کا اپنا ایک تمدنی نظام بھی بنتا ہے۔ مگر تمدنی اور سیاسی نظام قائم کرلئے کی بات اسلام کا دعوتی اشو نہیں ہے، وہ صرف اس کی ایک تنظیمی ضرورت ہے۔ اسلام اپنی اصلی اور ابتدائی حیثیت میں یہ ہے کہ انسان، نہ کہ اسٹیٹ، اللہ کے آگے جھک جائے، انسان اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ اللہ کی یاد اور اللہ کی عبادت گزاری اس کا وظیفہ بن جائے۔ اور یہ کہ ہر انسان اپنے معاملات اور تعلقات میں اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کرنا چھوڑ دے۔ اس کے بجائے وہ اللہ کی مرضی کو اپنا رہنما بنالے۔ اس قسم کے انسان کو وجود میں لانا اسلام کا اصل مقصد ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کی نظامی تحریکوں نے یہ کیا کہ اسلامی تمدنی نظام قائم کرنے کو دعوت کا عنوان قرار دیا۔ انھوں نے فرد کے بجائے سماج کو اپنا نشانہ بنالیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سارا معاملہ بالکل اُلٹ گیا۔

اسلام کا اصل نشانہ فرد ہے۔ مگر اسلام کی نظامی تعبیر میں فطری طور پر اجتماع یا اسٹیٹ اسلام کا اصل نشانہ بن جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسلام ایک ایسی چیز نظر آنے لگتا ہے جس کے وقوع میں آنے کے لئے عوامی سطح پر اتفاق رائے ضروری ہے۔ کیوں کہ اسٹیٹ کی سطح پر کسی نظام کا قیام عوامی تائید کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اب چوں کہ موجودہ زمانہ میں عام طور پر مذہبی ریاست کے بارہ میں تعصب پایا جاتا ہے، اس نے پہلے ہی مرحلہ میں یہ غیر ضروری بحث چھڑ جاتی ہے کہ اسلام قابل عمل ہے یا نہیں۔ بالفاظِ دیگر عوامی اکثریت اس کو قبول کرے گی حالاں کہ اگر فرد کو اسلامی دعوت کا نشانہ بنایا جائے تو اس قسم کے شکوک پیدا ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ فرد کو مخاطب کرنے کا مطلب ایک انسان کی سطح پر ایک واقعہ کو ظہور میں لانے کی کوشش کرنا ہے۔ جب کہ اسٹیٹ کو نشانہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک ایسا واقعہ ظہور میں لانا چاہتے ہیں جو اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام کی بڑی اکثریت اس کی حمایت پر کھڑی نہ ہو جائے، بلکہ ضروری ہے کہ دنیا بھر میں اس کے حق میں عمومی اعتراف کی فضا پیدا ہو جائے۔ کیوں کہ آج کی دنیا میں کسی ایک ملک میں کوئی سیاسی جزیرہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی دعوت کا کام اگر اس طرح کیا جائے کہ شرک کی تردید کرتے ہوئے توحید کو پیش کیا جائے۔ اللہ کی عبادت پر زور دیا جائے۔ دنیا کی زندگی کے مقابلہ میں آخرت کی زندگی کی اہمیت کو بتایا جائے۔ اس حیثیت کی وضاحت کی جائے کہ وہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ اپنے اندر قلبِ سلیم اور نفسِ مطمئنہ کی پرورش کرے تاکہ جنت کی دنیا کا شہری بن سکے۔ یہ بتایا جائے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ دوسرے انسانوں کے درمیان

یہ سمجھ کر رہے کہ اس کو اپنے کارنامہ حیات کا حساب اللہ کو دینا ہے، تو یہ بات انسان کو اپنی فطرت کی آواز معلوم ہوگی۔ اس پیغام کے بارے میں اس کے اندر یہ شک نہیں ابھرے گا کہ موجودہ زمانہ میں وہ چلنے والی چیز نہیں۔ حالت میں اسلام کو وہ ایک ایسی چیز سمجھے گا جو عین اس وقت ظہور میں آ جاتا ہے جب کہ ایک فرد ذاتی طور پر اس کا اعتراف کر لے۔ جب کہ دوسری صورت میں اسلام ایک ایسی چیز معلوم ہوتا ہے جو کسی ایک شخص کے ارادہ سے ظہور میں نہیں آ سکتا، اس کے لئے ضروری ہے کہ ساری دنیا اس کی حمایت پر کھڑی ہو جائے۔ اللہ کا مطلوب انسان بننے کا معاملہ تمام تر ایک ذاتی ارادہ کا معاملہ ہے۔ آدمی کا اسلام اسی وقت کامل و مکمل ہو جاتا ہے جب کہ اپنی ذاتی زندگی کی سطح پر وہ اسلام کو پوری طرح اختیار کرلے۔

جس طرح پانی ایک گلاس میں ٹھہرتا ہے نہ کہ بسیط فضا میں۔ اسی طرح اسلام ایک فرد انسانی کی روح میں متمکن ہوتا ہے نہ کہ حقیقتاً کسی آفاقی اجتماعیت میں۔ افراد انسانی کی کوئی قابلِ لحاظ تعداد جب اسلام کو اپنا سرمایہ زندگی بنا لے تو ان کے مجموعہ سے بالآخر وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو اسلامی نظام کہا جاتا ہے، تا ہم اسلامی نظام کا قیام اسلامی تحریک کا اصل مقصود نہیں ہے۔ اسلام کا اصل مقصد فردِ فرد کی روح کو خدائی نور سے روشن کرنا ہے تاکہ موت کے بعد جب وہ آخرت کی دنیا میں پہنچے تو وہاں اس کو جنت میں داخلہ مل سکے۔ اسلام کا اصل مقصود انسان کو جنتی دنیا کا شہری بنانا ہے نہ کہ کسی قسم کے دنیوی نظام کا شہری بنانا۔ دنیا میں بہتر نظام قائم کرنے کا تعلق حقیقتاً بہتر نظام سے نہیں بلکہ بہتر انسان سے ہے۔ کسی نظام کو چلانے والے حقیقتاً آدمی ہوتے ہیں نہ کہ کوئی قانونی ڈھانچہ۔ سرکاری عملہ اگر سست ہو تو ایک عمدہ منصوبہ اپنا نشانہ پورا کرنے سے رہ جائے گا۔ رشوت لینے والے سرکاری ملازمین کسی بھی قانونی نفاذ کے عمل در آمد کو رشوت لے کر ناکام بنا دیں گے۔ بد عنوان افسران کسی بھی اصلاحی اسکیم کو ایسی تاویلات و توجیہات کے خانہ میں ڈال دیں گے جس سے اس کو نکالنا صدر اور وزیر اعظم کے لئے بھی ممکن نہ ہوگا۔ ایک مشین کو آپ بٹن دبا کر چلا سکتے ہیں۔ مگر انسان کو چلانے کے لئے ایسا کوئی بٹن نہیں ہے۔ انسان ایک خود مختار مخلوق ہے۔ وہ اسی وقت کسی کام کو حسن وخوبی کے ساتھ ادا کرتا ہے جب کہ وہ خود بھی اس کو کرنا چاہتا ہو۔ اس لئے نظام بنانے کا اصل کام افراد بنانا ہے۔ لوگوں کے اندر خدا کا خوف اور آخرت کی فکر پیدا کرنا بظاہر ایک اخروی کام ہے۔ مگر یہی نظام دنیا کی تعمیر بھی ہے۔ حقیقی معنوں میں آخرت پسند انسان جب قابلِ لحاظ تعداد میں پیدا ہو جاتے ہیں تو انھیں کے شخصی اوصاف کے دنیوی ظہور کا نام اسلامی نظام ہے۔ جن لوگوں کا شعور اتنا بیدار ہو جائے کہ وہ سورج کی روشنی اور ہوا کے جھونکے میں خدا کا پیغام سننے لگیں، انھیں سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کھلے اور چھپے ہر حال میں انصاف پر قائم رہیں اور وہی کریں جو حق کی رو سے انھیں کرنا چاہئے ـــــــــــ یہ اسلام ایک ابدی حقیقت ہے، وہ ہر زمانہ کے انسان کے لئے ہے خواہ وہ پہلی صدی کا انسان ہو یا بیسویں صدی کا انسان۔

Printed page