منافقین کے بارے میں
Al-Risala, October 1979, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
منافق وہ ہے جو بظاہر مسلمانوں میں شامل ہو (حدید (۱۴) مگر حقیقتاً وہ اسلام پر یقین نہ رکھتا ہو۔ منافق دنیا کی زندگی میں مسلمانوں سے ملا ہوا رہتا ہے مگر آخرت میں اس کا حشر کافروں کے ساتھ ہوگا (نساء ۱۴۰) حتی کہ بتایا گیا ہے کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے (نساء ۱۴۵)۔ منافق کی خصوصیات قرآن سے اس سلسلہ میں حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں : اسلام کا نام لیتے ہوئے غیر اسلام کو اختیار کرنا۔ زبان سے خوب اسلام ظاہر کرنا مگر اندر سے خالی ہونا۔ اسلامی فرائض خدا کے بجائے لوگوں کو دکھانے کے لئے ادا کرنا۔ اسلام اور غیر اسلام کے درمیان مذبذب رہنا۔ دنیوی تکلیفوں سے ڈرنا اور خدا کے عذاب سے نہ ڈرنا۔ اسلام کے لئے قربانی کا سوال ہو تو عذرات پیش کرکے اس سے الگ ہو جانا۔ آل عمران ۱۶۷ اللہ کی راہ میں پیسہ خرچ کرنے میں بخیل ہونا۔ سچے اہل ایمان کو دوست بنانے کے بجائے ریا کاروں کو دوست بنانا۔ اللہ کی مدد کا یقین نہ ہونا اور اپنی تدبیروں پر زیادہ بھروسہ کرنا۔ دین کی راہ میں سماج کے دباؤ سے دبنا سے نہ خدا کے خوف سے۔ اپنے ساتھیوں سے مدد کے جھوٹے وعدے کرنا۔ نفع کے وقت اسلام کا ساتھ دینا اور نقصان کا اندیشہ ہو تو دور ہٹ جانا۔ خدا کے بھروسہ پر اپنی زندگی ڈال دینے کو بے وقوفی سمجھنا۔ زمین میں اصلاح کے بجائے فساد پیدا کرنا۔ بظاہر مسلمانوں میں رہنا مگر اندر اندر اسلام دشمنوں سے ملا ہونا۔ منافق کی پوری زندگی دو عملی کی زندگی ہوتی ہے۔ وہ اندر سے بالکل کھولا ہوتا ہے۔ مگر اپنی دنیا پرستی کی وجہ سے وہ اپنے گردو پیش ایسی ظاہری رونقیں جمع کر لیتا ہے کہ عام لوگ اس کے بارے میں دھوکے میں آجاتے ہیں۔ اس کا سب کو خوش کرنے کا مزاج اس کی باتوں میں ایک مصنوعی خوبصورتی پیدا کر دیتا ہے (منافقون (۴) حتی کہ بعض اوقات وہ اپنی حقیقت کو چھپانے میں اتنا زیادہ کامیاب ہو جاتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی بھی اس کی غیر اسلامی حالت سے باخبر نہیں ہوتا (توبہ (۱۰۱) مگر اس قسم کی کوئی بھی چیز منافق کے کام آنے والی نہیں۔ ظاہری کامیابیوں کے باوجود اس کو دنیا میں حقیقی اطمینان نصیب نہیں ہوتا (منافقون ۳) اور آخرت میں اس کو بدترین عذاب میں ڈال دیا جائے گا (حدید (۱۵)