حضرت کے چند واقعات
Al-Risala, October 1979, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
ہم ذیل میں حضرت صاحب کے متعلق چند روایات درج کرتے ہیں جن سے صاف معلوم ہو جائے گا کہ خداوند تعالیٰ نے ان کو کیسی کیسی خوبیاں عطا کی تھیں ۔
ایک یہودی کا کسی مسلمان سے جھگڑا ہو گیا اور فیصلہ آں حضرت پر چھوڑ آگیا ۔ حضرت نے بے رو رعایت تحقیقات کی اور فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا۔ اور مسلمانوں کی ناراضگی کی مطلق پروا نہ کی۔
ایک شخص کو چوری کے الزام میں گرفتار کر کے ان کے سامنے پیش کیا گیا۔ کئی بڑے بڑے آدمیوں نے اس کی سفارش کی مگر آں حضرت نے انصاف کو مد نظر رکھ کر سفارشوں کی مطلق پروا نہ کی ۔ اور حکم دے دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے لئے یہ ہی حکم دیتا کہ اس کے ہاتھ کاٹ دئے جائیں۔
ایک دفعہ ایک یہودی کا کچھ روپیہ حضرت کو دینا تھا۔ وہ یہودی تقاضا کرنے آیا اور سخت کلامی کرنے لگا۔ حضرت عمر رضی کو اس پر بہت غصہ آیا مگر حضرت صاحب نے فرمایا۔ اے عمر رض یہ بات ٹھیک نہیں۔ تجھے چاہئے تھا کہ ہم دونوں کو نصیحت کرتا کہ قرض خواہ کو نرمی سے مطالبہ کرنا چاہئے ۔ اور مجھے نیکی سے روپیہ واپس کرنا چاہئے۔ حضرت نے یہودی کو روپیہ ادا کر دیا۔