ماه اکتوبر ۱۹۷۹
Al-Risala, October 1979, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
کو پاس بٹھایا اور اس کو قرضے سے کچھ زیادہ دے کر رخصت کیا۔ اس نیک سلوک کا یہودی پر ایسا اثر ہوا کہ وہ ان کا مرید بن گیا۔
ایک دفعہ آپ اپنے احباب کے ساتھ کہیں دور جنگل میں سیر کو گئے۔ جب کھانا بنانے کی ضرورت پیش آئی تو آپ نے جنگل سے لکڑیاں لانے کا کام اپنے ذمے لیا۔ غرض وہ کبھی اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھتے تھے۔ اور ہمیشہ خواہ کیسا ہی چھوٹا کام ہو۔ کرنے کو تیار ہو جاتے تھے۔
ایک دفعہ ایک شخص کو کسی قصور کے عوض آپ کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہ آپ کو دیکھ کر کانپنے لگا۔ ارے ڈرتا کیوں ہے۔ میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں۔ میں تو ایک غریب قریش عورت کا لڑکا ہوں۔ جو کئی دفعہ غریبی کی وجہ سے سوکھا گوشت کھا کر ہی گزارہ کر لیتی تھی۔
ایک دفعہ کئی صحابی جنگ پر گئے ہوئے تھے۔ ان کے گھر کوئی مرد نہ تھا اور عورتوں کو دودھ دوہنا نہ آتا آپ ہر روز ان کے گھر جاکر دودھ دوہ آیا کرتے تھے۔ اسی طرح غریب عورتیں ان کے پاس آکر مختلف کام بتلا اور وہ اٹھ کر سب کے کام کر آتے تھے۔
ایک دفعہ مدینے کے چند بدو ان کے ہاں مہمان ہو کر آئے۔ ایک بدو کو زیادہ کھانے کی وجہ سے رات کو بہت دست آگئے اور بستر خراب ہو گیا۔ وہ صبح ہی شرم کے مارے اٹھ کر چلا گیا۔ آپ نے اٹھ کر اس کی غلاظت کو اپنے ہاتھوں سے صاف کیا۔ لوگوں نے کہا ہمارے ہوتے ہوئے آپ ایسا کام کیوں کرتے ہیں۔ فرمایا اپنے مہمان کی ہر ایک قسم کی خدمت کا میں ہی ذمہ دار ہوں۔
ایک دفعہ ایک رئیس نے چار اونٹوں پر غلہ لاد کر آپ کے پاس بھیجا۔ حضرت بلال نے غلہ بیچ کر یہودیوں کا قرضہ ادا کیا۔ جب بلال واپس آئے تو پوچھا کیا کچھ غلہ بچا ہے۔ جب یہ معلوم ہوا کہ ابھی غلہ باقی ہے۔ تو فرمایا کہ جب تک باقی غلہ غریبوں میں تقسیم نہ ہو جائے میں گھر میں نہیں جا سکتا۔ چنانچہ اس رات مسجد میں ہی قیام کیا۔ اور اگلے دن تمام غلہ تقسیم کرا کے گھر گئے۔