حضرت صاحب کی تعلیم
Al-Risala, October 1979, pp. 43–44
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ نے مسلمانوں کے چار فرائض قائم کئے ۔ پچھلے دو ان لوگوں کے لئے ضروری قرار دئے جنھیں روپیہ خرچ کرنے کی طاقت ہو۔
انھوں نے ایک خدا اور صرف ایک ہی خدا کی پرستش کی تعلیم دی۔ وہ یہ تعلیم دیتے تھے کہ سب انسان برابر ہیں اور ان کے حقوق بھی برابر ہیں۔
ایسے شخص کو جو بدی کی زندگی بسر کرتا ہے نماز بھی نہیں بچا سکتی۔ تمھارا چلن ہی ہے جس پر سزا اور جزا کا انحصار ہے۔
اے مسلمانو ! تم دوسروں کے لئے وہی چاہو جو اپنے لئے چاہتے ہو۔ تب ہی تمھارا ایمان ٹھیک ہو سکتا ہے۔
کسی شخص کی ضرورت کو پورا کر دینا تمام عمر خدا کی عبادت کے برابر ہے۔
ایمان کے بعد سب سے بڑی شے خلقت کو آرام پہنچانا ہے۔
جو بڑوں کی تعظیم نہیں کرتا اور بچوں پر شفقت نہیں کرتا وہ میری امت میں نہیں ہے۔ جھگڑا کرنے والا انسان خدا کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت ہے۔
جس نے اپنی زبان اور خواہشات نفسانی کو قابو میں رکھا ہے میں اس کے واسطے جنت کا ضامن ہوتا ہوں۔ تمھارا ہمسایہ اگر تم سے امداد مانگے تو اس کی امداد کرو۔ قرض مانگے تو قرض دو۔ اگر تم سے اسے کوئی کام پڑے تو بیمار ہو تو اس کی مزاج پرسی کرو۔ اور مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جاؤ۔ جب کوئی خوشی کا موقع ہو تو اسے مبارک باد دو۔ جب اس پر کوئی مصیبت نازل ہو تو اس کے ساتھ ہمدردی ظاہر کرو۔ کچھ پرواہ نہیں۔ اگر دنیا کی اور چیزیں تیرے پاس نہ ہوں۔ مگر یہ چیزیں ضرور ہونی چاہئیں (۱) راست گفتاری (۲) دیانت داری (۳) خوش خلقی (۴) حلال کی کمائی۔
خادم کا قصور دن میں ستر دفعہ معاف کرو۔
اللہ تعالیٰ تمھاری صورتوں اور دولت کو نہیں دیکھتا۔ بلکہ تمھارے کاموں اور دلوں کو دیکھتا ہے۔ ہر ایک نیک کام خیرات ہے کسی کو نیک کام کی ہدایت کرنا بھی خیرات ہے۔ بھولے بھٹکے کو راستہ دکھانا۔ کی مدد کرنا۔ راستہ میں سے پتھر اور کانٹے اٹھا دینا۔ پیاسے کو پانی پلا دینا۔ یہ سب خیرات کے کام ہیں۔ اے مسلمانو ! ایک بھائی کو دوسرے بھائی کی عزت کرنا لازمی ہے۔ پرائے مال پر نگاہ رکھنا حرام ہے۔ جو جیسا کرے گا۔ ویسا بھرے گا۔ عورتوں کے ساتھ ہمیشہ نیک برتاؤ کرنا۔ کسی کی حق تلفی نہ کرنا۔ اور کسی پر کسی قسم کا ظلم نہ کرنا۔
خدا ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ سارے جہانوں کا مالک ہے۔ اسی کے قبضے میں سب کچھ ہے۔ وہ قادر مطلق ہے۔
جو چیز اولاد کے لئے بازار سے لاؤ سب سے پہلے لڑکی کو دو۔
جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ بدلہ نہیں لیتا۔
ایسا اشارہ کرنا بھی حرام ہے جس سے دوسروں کو رنج پہنچے۔
نوٹ: یہ مضمون رائے صاحب شری لالہ رگھو ناتھ سہائے بی اے کا لکھا ہوا ہے۔ وہ تقسیم سے پہلے انجمن اتحاد مذاہب (لاہور) کے صدر تھے۔ انھوں نے ۱۹۴۰ء میں پنجاب آرٹ پریس، بیرون موری دروازہ، لاہور سے ایک کتاب شائع کی تھی۔ اس کے ۳۸ صفحات تھے اور اس کا نام تھا: "روشن ستارے"۔ اس کتاب میں دس " نامور مذہبی بزرگوں کے حالات" درج تھے۔ اس کا ایک باب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا۔ یہ باب مکمل طور پر یہاں نقل کیا گیا ہے۔