سب سے بڑا اتحاد
Al-Risala, January 1979, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
میرے سامنے دیوار پر بیت اللہ کی تصویر ہے۔ وسیع مسجد کے درمیان کعبہ کی عمارت ہے اور اس کے چاروں طرف لاکھوں انسان گول دائرہ میں اپنے رب کے آگے جھکے ہوئے عبادت کر رہے ہیں۔ یہ سالانہ اجتماعی نماز ہے جو ہر بار حج کے مہینہ میں دنیا بھر کے ۲۵۔ مسلمان مکہ میں جمع ہو کر ادا کرتے ہیں اور جس کا فوٹو لیا جا سکتا ہے۔ لیکن تصور کی آنکھ سے دیکھیے تو یہی واقعہ اس سے زیادہ بڑے پیمانہ پر ہر روز پانچ بار ہوتا ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور اس طرح گویا ہر روز پانچ بار روئے زمین پر لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وہ مرکزی نقطہ جس کے گرد دنیا بھر کے خدا پرستوں کا قائم ہوتا ہے۔
بعد کے دور میں لوگوں کی ہلاکت کا سب سے بڑا سبب باہمی اختلافات عن عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج الی قتلی احد فصلی علیہم علیہ وسلم جنگ احد کے آٹھ سال بعد احد کے مقام پر بعد ثمان سنین کالمودع للاحیاء والأموات گئے اور وہاں شہید ہونے والوں کے لئے دعا فرمائی۔ ثم طلع الی المنبر فقال : انی بین ایدیکم فرط و ایسی دعا جو کوئی رخصت ہوتے وقت کرتا ہے۔ انا شہید علیکم ۔ وإن موعدکم الحوض و انی منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ میں تمھارے لئے میر منزل لا نظر الیہ من مقامی ھذا ۔ وانی واللہ ما ہوں اور تمھارے لئے پر گواہ ہوں۔ اور تم سے میری اخاف علیکم ان تشرکوا بعدی ولكن اخاف علیکم ملاقات کی جگہ حوض ہے۔ اس حوض کو میں یہیں سے الدنیا ان تنافسوا فیہا وتقتتلوا فتہلکوا كما ھلکت دیکھ رہا ہوں۔ اور خدا کی قسم مجھے یہ اندیشہ نہیں کہ من كان قبلكم ۔ قال عقبہ فکانت آخر ما رأیت تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی المنبر تم دنیا کی حرص میں پڑ جاؤ گے اور آپس میں لڑو گے (بخاری و مسلم) اور ہلاک ہوگے جس طرح پچھلی امتیں ہلاک ہوئیں۔