BIRDS-EYE
Al-Risala, November 1979, pp. 49–3
By Maulana Wahiduddin Khan
FLY IN BOEING TWICE A WEEK FROM INDIA TO WEST VIA THE GULF DELHI-Landing on Monday BOMBAY-Landing on Wednesday Taking off on Tuesday Taking off on Thursday Flying pleasure beyond compare It's SYRIANAIR For ticketing and reservation contact: Delhi Express Travels (p) Ltd. 13/90 Connaught Circus, New Delhi 110001 Tel: 343205, 344997, 343210 (3 Lines) SYRIAN ARAB AIRLINES 307, Ritz Hotel, Church Gate Bombay 400020 Telephone: 295061/307 Telex: 011-2520
مولانا وحیدالدین خان دو آدمیوں کے درمیان تکرار ہو تو اس کو انصاف پر قائم رکھنے کی صورت صرف ایک ہے ــــ دونوں یہ سمجھیں کہ ان کے درمیان ایک تیسرا بھی ہے اور وہ اللہ ہے زر تعاون سالانہ ۴۴ روپے قیمت فی پرچہ خصوصی تعاون سالانہ ایک سو روپے ایک سو روپے ۲ روپے ۴ روپے بیرونی ممالک سے ۵ ڈالر امریکی ۲ دو روپئے
شماره ۳۶ ☐ نومبر ۱۹۷۹ جميعه بلڈنگ $\square$ قاسم جان اسٹریٹ $\square$ دهلی 110006 $\square$ فون 262331 حکمت کے موتی جب بادشاہ بھی تنقید سنتے تھے زندگی کھیل تماشانہیں زرہ ہماری خوراک ہیں کل اور آج کا فرق وہم پرستی کہاں تک جاتی ہے عبرت کے لئے مسلمان کل اور آج لفظ پالینا کافی نہیں جنت کے باشندے کون نیا جنم لینا پڑتا ہے کامیابی کا راز بسم الله الرحمن الرحيم کھرا اور کھوٹا الگ دعوتِ حق کا ردِ عمل ستارہ کی دنیا مقابلہ کا طریقہ یہ بھی ہے سیرت کی روشنی میں موت کے اس پار شدت کا سبب بدگمانی سے بچیے ایجنسنی ایک تحریک ہے مطبوعاتِ اسلامی مرکز لائی اسٹیشن خاں پرنٹر پبلشر مسئول نے جہ کے اگسٹ پر نٹرز دہلی سے چھپوا کر دفتر الرساله جميہ بلڈنگ قائم جان اسٹریٹ سے شائع کیا
ایسا کیوں ؟
انجیل کے مطابق، فلسطین کے وہودیوں نے جب حضرت مسیح کی پیغمبری کو ماننے سے انکار کر دیا تو فر میں انھوں نے کو کا فرقرار دے کر مار ڈالنے کی سازش کی۔ ان کے مذہبی سردار نے کہا: وہ قتل کے لائق ہے۔ پر انھوں نے اس کے منھ پر تھوکا اور اس کے مک مارے ۔ جب صبح ہوئی تو سب سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں نے یسوع کے خلاف مشورہ کیا کہ اسے مار ڈالیں ۔ وہ اسے باندھ کر لے گئے اور پیلاطس حاکم کے حوالے کیا۔ کا دستور تھا کہ عید پر لوگوں کی خاطر ایک قیدی جسے وہ چاہتے تھے چھوڑ دیتا تھا۔ اس وقت برابا نام کا ان کا ایک مشہور ڈاکو قیدی تھا۔ پس جب وہ اکھٹے ہوئے تو پیلاطس نے ان سے کہا: تم کسے چاہتے ہو کہ میں تمھاری خاطر چھوڑ دوں۔ برابا ڈاکو کو یا یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے۔ کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ انھوں نے اس کو حسد سے پکڑوایا ہے۔ کہا برابا کو۔ پیلاطس نے ان سے کہا پھر یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے کیا کروں۔ سب نے کہا وہ مصلوب ہو۔ اس نے کہا اس نے کیا برائی کی ہے۔ مگر وہ اور بھی چلا کر کہنے لگے وہ مصلوب ہو۔ جب پیلاطس نے دیکھا کہ کچھ بن نہیں پڑتا بلکہ الٹا بلو ہو جاتا ہے تو پانی لے کر لوگوں کے روبرو اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا: میں اس راست باز کے خون سے بری ہوں۔ سب لوگوں نے جواب میں کہا: اس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر۔ اس پر اس نے برابا کو ان کی خاطر چھوڑ دیا اور یسوع کو کوڑے لگوا کر حوالہ کیا کہ مصلوب ہو۔ اس پر حاکم کے سپاہیوں نے یسوع کو قلعہ میں لے جا کر ساری پلٹن اس کے گرد جمع کی اور اس کے کپڑے اتار کر اسے قرمی چوخہ پہنایا اور کانٹوں کا تاج بنا کر اس کے سر پر رکھا اور ایک سرکنڈا اس کے ہاتھ میں دیا اور اس کے آگے گھٹنے ٹیک کر اسے ٹھٹھوں میں اڑانے لگے کہ اے یہودیوں کے بادشاہ آداب۔ اور اس پر تھوکا اور ہی سرکنڈالے کر اس کے سر پر مارنے لگے ۔ اور جب اس کا ٹھٹھا کر چکے تو چونہ کو اس پر سے اتار کر پھر اس کے کپڑے اسے پہنائے اور مصلوب کرنے کو لے گئے ۔ (متی باب ۲۷)
یہودیوں نے اپنی تاریخ کے مطابق ، یسعیاہ نبی، یرمیاہ نبی، زکریا نبی، یحیی نبی کو قتل کیا۔ عیسیٰ مسیح کو بھی اپنے خیال کے مطابق قتل کر ڈالا۔ تاہم اللہ نے آنجناب کو بچالیا۔ اسی طرح انھوں نے سیکڑوں کی تعداد میں اپنی قوم کے صالحین کو قتل کیا۔ یہ غیر معمولی سنگ دلی ان سے کیوں ظاہر ہوئی۔ اس کی وجہ صرف ایک تھی: تنقید کو برداشت نہ کرنا۔ انبیاء اور ان کے سچے پیرو یہود کی برائیوں پر ٹوکتے تھے اور ان کو انصاف کی تلقین کرتے تھے ( ویقتلون الَّذِینَ یأمرون بالقسط، آل عمران (۲۱) یہود نے اپنی بے دین زندگی پر دین کا لیبل لگا رکھا تھا۔ داعیانِ حق جب اس کی حقیقت کھولتے تو وہ بگڑ جاتے۔ یہی صورت حال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت پیش آئی۔ یہود اپنے آپ کو اس حیثیت سے پیش کرتے تھے کہ وہ آسمانی ہدایت کے حامل ہیں ۔ وہ نبیوں کی اولاد ہیں۔ یہ دین خداوندی کے نمائندے ہیں۔ ایسی حالت میں ان کو محسوس ہوا کہ قرآن کی دعوت ان کی دینی حیثیت کو بے اعتبار بنا رہی ہے۔ وہ ان کو دینی پیشوائی کی گدی سے
اتار رہی ہے۔ وہ آپ کی دعوت کے سخت مخالف ہو گئے۔ حتی کہ مشرکین سے بھی زیاوہ (مائوہ۔ ۸۲) مکہ کے مشرکین نے یہودی علماء سے پوچھا : دینا خیرا من محمد (ہمارا دین اچھا ہے یا محمد کا دین) یہودیوں نے جواب دیا بل دینکم خیر من دینه (تمھارا دین محمد کے دین سے اچھا ہے) انھوں نے آپ کو اور آپ کی دعوت کو ختم کرنے کے لئے ہر نا جائز کو اپنے لئے جائز کر لیا۔ سازش، ظلم، عہد شکنی، بے انصافی، قتل یہ سب چیزیں ان کی شریعت میں حرام تھیں مگر اسلام کی دعوت کو مٹانے کے لئے یہ سب چیزیں ان کے لئے حلال بن گئیں۔ آسمانی کتاب کے حامل گروہ میں یہ قساوت (سخت دلی) کیسے آتی ہے کہ وہ ڈاکوؤں کو گوارا کرے اور ایک بے ضرر بنوہ خدا کو عدالت میں گھسیٹے ۔ وہ کفار و مشرکین کا استقبال کرے اور اللہ کی طرف بلانے والے شخص کا بدترین دشمن بن جائے۔ وہ خدائی ہدایت کے نام پر قیادت حاصل کرے اور جب خدائی ہدایت پر عمل کرنے کے لئے کہا جائے تو دہ کہنے والے کے لئے بھیڑے سے زیادہ بے رحم ثابت ہو۔ وہ دین خداوندی کو دنیوی کو دنیاوی کار بار بنائے اور جب اس پر اسے ٹوکا جائے تو دہ اس کو ذبح کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ اس کے سامنے کھلے کھلے دلائل اور نشانیاں آئیں مگر وہ بے پروائی کے ساتھ ان کو نظر انداز کردے ۔ اس بدترین قساوت کی وجہ، قرآن کے مطابق، دہ خود ساختہ عقیدہ ہے جو اس کو خدا کی پکڑ سے بے خوف بنا دیتا ہے :
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً یہ اس سبب سے کہ انھوں نے کہا کہ ہم کو آگ نہیں مَّعْدُودَاتٍ وَغَرَّهُمْ فِي دِينِهِمْ مَّا كَانُوا چھوئے گی بجز چند گنے ہوئے دنوں کے۔ جو کچھ یہ گھڑتے ہیں اس نے ان کو ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔
دینی تعلیمات کا خود ساختہ مطلب نکال کر یہود نے یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ جنت ان کے لئے لکھی جا چکی ہے۔ ان کے انبیاء اور بزرگ اس وقت تک جنت میں نہ جائیں گے جب تک تمام اسرائیلیوں کو جنت میں داخل نہ کر لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "جہنم کی آگ اسرائیلی گنہگاروں پر کوئی قدرت نہیں رکھتی "؛ اور بالفرض کسی بداعمالی کی وجہ سے دوزخ میں جانا ہوا تو وہ صرف چند دن (زیادہ سے زیادہ چالیس دن) کے لئے ہوگا۔ اس قسم کا عقیدہ جب کسی گروہ میں پیدا ہو جائے تو اس کے اندر سے عذاب آخرت کا کھٹکا نکل جاتا ہے۔ وہ ظلم اور سرکشی کے لئے بے حد جری ہو جاتا ہے۔ اس کو جب کسی سے عداوت ہوتی ہے تو اس کو ذلیل اور ناکام کرنے کے لئے وہ کسی حد پر کیوں کہ آدمی کو روکنے والی چیز جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کا اندیشہ ہے اور اس سے وہ پہلے ہی محفوظ ہو چکا ہے۔
آدمی ہمیشہ ایسی آواز کا دشمن ہو جاتا ہے جس میں اس کو اپنی حیثیت کی نفی ہوتی ہوئی دکھائی دے۔ اور جب معاملہ دینی حیثیت کی نفی کا ہو تو آدمی کا رد عمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ کیوں کہ ایسی صورت میں نہ صرف دنیوی حیثیت مجروح ہوتی بلکہ آخرت کا انعام بھی مشتبہ ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔