جب بادشاہ بھی تنقید سن کر برہم نہیں ہوتے تھے
Al-Risala, November 1979, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
سلطان بایزید ایک ترک بادشاہ گزرا ہے۔ اس کے زمانہ میں مولاناشمس الدین رومی حاكم عدالت تھے۔ ان کے یہاں ایک مقدمہ آیا جس میں خود سلطان بایزید گواہ تھا۔ جب مقدمہ پیش ہوا اور بادشاہ گواہی دینے کے لئے آیا تو مولانا شمس الدین رومی نے کہا: سلطان بایزید کی شہادت معتبر نہیں ہے ، اس لئے ان کی شہادت قبول نہیں کی جا سکتی۔ بادشاہ کو غصہ آگیا۔ اس نے پوچھا اس کا سبب کیا ہے۔ مولانا شمس الدین رومی نے کہا کہ آپ نماز میں جماعت کے پابند نہیں ہیں اور جو شخص باجماعت نماز کی ادائیگی میں کوتاہ ہو اس کی گواہی معتبر نہیں۔ سلطان بایزید نے اپنی غلطی کا فوراً اعتراف کرلیا۔ بادشاہ وقت کی حیثیت سے سارا اقتدار اس کے پاس تھا اور وہ قاضی کے خلاف کارروائی کر سکتا تھا۔ مگر اس نے قاضی صاحب کی اس صاف گوئی پر خوشی کا اظہار کیا اور اس کے بعد پابندی کے ساتھ نماز کے لئے مسجد میں حاضر ہونے لگا۔ سلطان نے ایک موقع پر کہا: مجھے فخر ہے کہ میری سلطنت میں ایسے ایمان دار اور انصاف پسند قاضی موجود ہیں جو بادشاہ کے آگے بھی حق کا اظہار کرنے سے نہیں رکتے۔