Al-Risala · November 1979

زندگی کھیل تماشانہیں

Al-Risala, November 1979, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

لارڈ ماؤنٹ بیٹن (۱۹۰۰ - ملکہ وکٹوریہ کی پوتی کے لڑکے تھے۔ ان کو اپنی زندگی میں ہر قسم کی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ان کو شاہ سمندر (Sea Lord) کا خطاب ملا۔ مگر سمندر کی لہریں ہی ان کے لئے موت کا پیغام ثابت ہوئیں ۔ وہ ایک خصوصی کشتی کے ذریعہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے درمیان سفر کر رہے تھے کہ ان کی کشتی میں دھماکا ہوا اور وہ فوراً ہی مرگئے۔ اپنی عمر کے آخری حصہ میں انھوں نے ایک بار بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا :

I've enjoyed the fun of life, and I'm only sorry I won't be there to see the fun of the funeral. میں نے زندگی کے تماشے کا لطف اٹھایا۔ اب مجھ کو صرف یہ افسوس ہے کہ میں اپنے جنازہ کے جلوس کو دیکھنے کا لطف نہ اٹھا سکوں گا (ٹائمس آف انڈیا ۹ ستمبر ۱۹۷۹) لوگ زندگی اور موت کو بس ایک قسم کا کھیل کاش ان کو معلوم ہوتا کہ زندگی ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور موت اس سے بھی زیادہ سنجیدہ

خدا کے آگے جھکنے کی علامت یہ ہے کہ آدمی معقولیت کے آگے جھک جائے۔ جو شخص معقولیت کے آگے نہ جھکے، وہ خدا کے آگے بھی جھکا ہوا نہیں ہے۔ خواہ بظاہر وہ کتنا ہی خدا پرستی کی نمائش کرتا ہو۔ آرسال نمبر ۱۹۶۹

Printed page