Al-Risala · November 1979

وہ ہماری خوراک ہیں

Al-Risala, November 1979, pp. 6–7

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو مصر سے نکالا اور ان کو لے کر صحرائے سینا میں پہنچے۔ وہ چالیس سال (۱۴۰۰ھ۔ ۱۳۶۰ ق م) تک رہے۔ یہاں کے قیام کے ابتدائی زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آیا کہ فلسطین اور اس کے آس پاس کی زمین تمھارے لئے لکھ دی گئی ہے۔ تم وہاں داخل ہو جاؤ اور اس کو فتح (استثنا ۱: ۸) اس وقت حضرت موسیٰ اپنی قوم کے ساتھ دشت فاران میں خیمہ لگائے ہوئے تھے۔ آپ نے قوم کے بارہ سرداروں کو فلسطین و شام کی طرف بھیجا تا کہ وہ ”زمین کنعاں کی جاسوسی کریں“، یہ علاقہ اس وقت عمالقہ کے قبضہ میں تھا۔ یہ لوگ چالیس دن تک سفر کرتے رہے اور اس کے بعد آکر بتایا کہ وہ لوگ بڑی طاقت والے اور قداؤ ہم اپنی نظروں میں ان کے سامنے ایسے تھے جیسے ٹڈے (گنتی ب ۱۳) یہ سن کر ساری جماعت چلا اٹھی کہ ہم ان سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ انھوں نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ تم اور تمھارا خدا جا کر لڑیں ۔ ہم یہیں رہیں گے (مائدہ ۲۵) اس وقت بنی اسرائیل کی تحقیق کرنے والی جماعت میں سے دو آدمی اٹھے۔ بائبل کی روایات میں ان کا نام یوشع بن نون اور کالب بن یوفنا بتایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا: اگر خدا ہم سے راضی ہے تو ہم کو اس زمین پر لے جائے گا اور یہ زمین جس پر دودھ اور شہد بہہ رہا ہے، ہم کو عنایت کرے گا۔ مگر تم خدا وند سے بغاوت نہ کرو اور نہ تم اس زمین کے لوگوں سے ڈرو۔ وہ تو ہماری خوراک ہیں۔ ان کا سایہ ان سے جا چکا ہے۔ پر خدا وند ہمارے ساتھ ہے (گنتی ب ۱۴) ان دونوں آدمیوں کی بابت قرآن میں جو الفاظ آئے ہیں، وہ یہ ہیں:

قال رجلن من الذین یخافون انعم اللہ علیہما کہا دو آدمیوں نے جو کہ ڈرنے والوں میں تھے، جن پر اللہ ادخلوا علیہم الباب فاذا دخلتموہ فانکم نے انعام کیا تھا، تم ان پر چڑھائی کر کے شہر کے دروازہ تک غلبون وعلی اللہ فتوکلوا ان کنتم مومنین چلو۔ جب تم دروازہ میں قدم رکھو گے اسی وقت غالب (مائدہ ۲۳) آجاؤ گے ۔ اور اللہ کے اوپر توکل کرو، اگر تم اس پر یقین رکھتے ہو قرآن کے اس بیان سے توکل کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ توکل یہ نہیں ہے کہ آدمی کوئی کام نہ کرے، وہ بے کار پڑا رہے اور کہے کہ خدا خود ہی بھیج دے گا۔ توکل اپنی ذات کے بجائے اللہ پر اعتماد کرنے کا نام ہے۔ توکل یہ ہے کہ آدمی کوشش کو اپنی ذمہ داری قرار دے اور نتیجہ کو اللہ کا حق سمجھے۔ وہ اللہ کی ہدایت کی روشنی میں اپنے لئے صحیح راستہ کا انتخاب کرے اور اس پر پوری طرح جم جائے۔ اس کے بعد جد و جہد کی راہ میں مشکلات و مصائب پیش آئیں تو اس یقین کے ساتھ اس پر جمارہے کہ اللہ ضرور اس کا ساتھ دے گا اور اس کو اس منزل تک پہنچائے گا جو اس کی دنیا و آخرت کے لئے بہتر ہے ۔ جو اللہ سے ڈرتا ہے اس کے دل سے ہر چیز کا ڈر نکل جاتا ہے۔ اللہ جس کے ایمان کو قبول کر لیتا ہے اس پر اس کی یہ خصوصی عنایت ہوتی ہے کہ وہ چیزوں کو ان کی حقیقی صورت میں دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اللہ کو پالیتا ہے اور اسی کے ساتھ اللہ کی حکمت کو بھی۔

فرانس کے مشہور ٹاؤن (Rouen) میں ۱۲۰۰ اور ۱۲۲۵ء کے درمیان چھ بار آگ لگی۔ ہر بار پورا شہر جل کر خاک ہوگیا کیوں کہ اس وقت فرانس میں آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ ۱۲۰۰ء تک یورپ کے کسی شہر میں پختہ سڑکیں نہیں پائی جاتی تھیں، لوگ گھر کا کوڑا سڑکوں پر ڈال دیا کرتے تھے جس کی صفائی کے لئے کوئی سرکاری انتظام موجود نہ تھا۔ رات کے وقت کوئی آدمی گھر سے نکلتا تو وہ لالٹین لے کر نکلتا۔ کیوں کہ شہروں میں روشنی کا رواج آج کی طرح پولیس کا انتظام نہ تھا۔ ہر شخص کو اپنی حفاظت خود کرنی پڑتی تھی۔ یہ دور جس کو "قرون وسطیٰ" کا دور کہا جاتا ہے، اس وقت یورپ کے شہروں میں بد نظمی عام تھی، مکانات معمولی مٹی کے ہوتے تھے۔ اس قسم کی تفصیلات پیش کرنے کے بعد عالمی انسائیکلو پیڈیا کا مقالہ نگار لکھتا ہے :

”یہاں قرون وسطیٰ کے شہروں کی بابت جو کچھ لکھا گیا اس کا کوئی جزء اس شان دار تہذیب پر چسپاں نہیں ہوتا جو اس زمانہ میں مسلمانوں نے اسپین میں قائم کی تھی۔ مسلمانوں کا شہر قرطبہ قرون وسطیٰ میں یورپ کا سب سے بڑا شہر تھا، اس کے باشندے اعلیٰ ترین معیار زندگی پر فخر کر سکتے تھے جو یورپ میں کہیں بھی سیکڑوں برس تک موجود نہ تھا“ World Book Encyclopedia (1963) Vol. 12(M) p. 429 مسلمان جو کسی وقت ساری دنیا میں سب سے آگے تھے، آج دنیا بھر میں سب سے پیچھے کیوں ہوگئے ۔ کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ ان کے اندر تعمیری ذہن نہیں، موجودہ زمانہ میں مسلمان اگر چہ بہت بڑے پیمانہ پر سرگرمیاں دکھارہے ہیں۔ مگر یہ سرگرمیاں منفی ذہن کی پیداوار ہیں نہ کہ مثبت ذہن کی پیداوار۔ کے مسلمانوں کو قرآن کے ایجابی فکر نے متحرک کیا تھا، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو جس چیز نے متحرک کیا ہے وہ صرف وہ شکایتیں ہیں جو ان کو دوسری قوموں سے پیدا ہوئی ہیں۔ شکایتی ذہن کے تحت کبھی تعمیری سرگرمیاں وجود میں نہیں آئیں ۔ شکایت اور احتجاج کی زمین پر صرف شور وغل اور منفی ہنگاموں کی فصل اگتی ہے اور وہی آج بہت بڑے پیمانہ پر ہمارے یہاں اگی ہوئی ہے۔

Printed page