Al-Risala · November 1979

الفاظ پالینا کافی نہیں

Al-Risala, November 1979, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

چند دوست کسی جنگل میں ٹہل رہے تھے۔ اتنے میں ایک تیتر کی آواز آئی جو اپنی مخصوص بولی نکال رہا تھا۔ ان میں ایک مولوی صاحب تھے، فوراً کہنے لگے، دیکھو، تیتر آواز لگا رہا ہے : " سبحان تیری قدرت، یہ صوفی بولا نہیں " وہ کہہ رہا ہے : " ورفعنا لک ذکرک " پنڈت نے کہا نہیں۔ وہ تو صاف کہہ رہا ہے : " سیتارام دسرت" پہلوان بولا ، تم لوگ نہیں سمجھتے۔ وہ کہہ رہا ہے : " کھا گھی کر کسرٹ " قصائی نے کہا نہیں، وہ کہہ رہا ہے : " سر پائے ڈھک کا " کنجڑے نے کہا، تم میں سے کوئی نہیں سمجھا۔ وہ تو کہہ رہا ہے : " لہسن پیاز ادرک " یہ لطیفہ بتاتا ہے کہ آدمی اگر کسی بات کو بیان کرنے کے لئے خوبصورت الفاظ پالے تو اس کو اس دھوکہ میں نہ پڑنا چاہئے کہ اس نے لازمی طور پر حق کو بھی پالیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس نے جو کچھ کہا وہ محض الفاظ کا مجموعہ ہو، حقیقتِ واقعہ سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔

Printed page