Al-Risala · November 1979
ایک تاثر
Al-Risala, November 1979, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر آدمی اپنے سینہ میں ایک بت لئے ہوئے ہے۔ یہ وہ چھپی ہوئی وفاداریاں ہیں جو اللہ کے بالمقابل لوگوں نے قائم کرلی ہیں۔ آدمی اسی وقت تک شریف اور معقول ہے جب تک اس کی چھپی ہوئی شیفتگیوں اور وفاداریوں پر زد نہ پڑے۔ جہاں اس کے اس چھپے ہوئے بت پر زد پڑی وہ فوراً بھڑک اٹھتا ہے۔ وقت وہ اپنے ناقد کے خلاف ہر اس ناانصافی کو جائز ٹھہرا لیتا ہے جو اس کے خدا نے اس کے لئے حرام قرار دیا تھا شکایت اور برہمی کے وقت انصاف پر قائم رہنا تقویٰ کی واحد یقینی پہچان ہے۔ مگر یہی وہ کسوٹی ہے جس پر کوئی پورا اتر تا ہوا نظر نہیں آتا۔ لوگوں نے حق پرستی کے اپنے اپنے معیار بنا رکھے ہیں اور اپنے آپ کی اس خود ساختہ معیار کے مطابق پاک مطمئن ہیں کہ وہ ضرور خدا کے یہاں حق پرست قرار پائیں گے۔