--- The Birthday of my soul
Al-Risala, November 1979, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی بات دینی معاملہ میں بھی صحیح ہے۔ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والا آدمی جب دین کی پہچان حاصل کرتا ہے اور خدا و آخرت کو اپنی زندگی میں شامل کرتا ہے تو یہ اتنا بڑا واقعہ ہوتا ہے کہ اس کو ”نیا جنم“ سے کم کسی لفظ سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔
وہ انسان کون ہے جو اس طرح دوسری بار جنم لیتا ہے۔ یہ وہ انسان ہے جو اپنی پیدا شدہ روح کو دوبارہ ایک ایسے انسان کی صورت میں تخلیق کرتا ہے جو خود آگہی کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جو روایتی عقیدہ کے بجائے شعوری فیصلہ کے تحت بنا ہو۔ جو پورے معنوں میں ایک سنجیدہ انسان ہو۔ جو اپنے ذہن کو نفسیاتی پیچیدگیوں کے گہر سے نکال کر حقیقت کی براہ راست روشنی میں لے آئے۔ جس کا فکر خارج رخی فکر کے بجائے اندر رخی فکر بن گیا ہو۔ خلاصہ یہ کہ جو اپنی تلاش سے اپنے پیدا کرنے والے کو پالے۔ جس کی نظر کی گہرائی اس نوبت کو پہنچ جائے کہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کو دیکھنے لگا ہو۔ ایسا انسان جب چڑیوں کے چہچہے سنتا ہے تو اس میں اس کو حمد الہی کے نغمے سنائی دینے لگتے ہیں۔ جب وہ درخت کے پتوں کو ہلتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہ جنت کی فضاؤں میں لہلہار ہے ہیں۔ کسی کو خدا کی مدد ملنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو مادی چوٹ نہیں لگے گی۔ اگر ایسا ہوتا تو رسول اور آپ کے اصحاب پر فاقے نہ گزرتے اور تلواروں کے زخم نہ لگتے۔
اس میں شک نہیں کہ مادی چوٹ انسان کے اوپر بہت سخت ہے، اور اس بنا پر بندہ کو اپنے رب سے ہمیشہ راحت و عافیت ہی کی دعا کرنی چاہئے۔ مگر مادی چوٹ ہی وہ چیز ہے جو آدمی کی روحانیت کو زندہ کرتی ہے۔ دنیا کی زندگی میں یہی وہ واحد تجربہ ہے جو لطیف احساسات کو بیدار کر کے انسان کو اس نفسیاتی مقام پر پہنچاتا ہے جہاں وہ ملاء اعلیٰ کا مشاہدہ کر سکے اور عرفان و آگہی کے اس قیمتی خزانہ کو پا سکے جو ہمارے مالک نے مادی دنیا کے ماورا ہمارے لئے چھپا رکھا ہے۔