ایک سفر ـــــــــ
Al-Risala, November 1979, pp. 16–30
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۷ ستمبر سے ۱۲ اکتوبر ۱۹۷۹ء تک تقریباً دو ہفتے ریاست جموں وکشمیر میں گزرے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا : جموں، راجوری، دو داسن بالا، بکوری، بدھل، تھنہ منڈی، ڈنہ، دلی کی کثافتوں سے نکل کر جب میں اس سرزمین میں پہنچا تو ایسا محسوس ہوا جیسے میں جہنم کے وس سے نکل کر جنت کے پڑوس میں آگیا ہوں۔ بیشتر وقت راجوری ضلع کے پہاڑی علاقوں میں گزرا ۔ دینی موضوعات پر گفتگوؤں اور تقریروں کا سلسلہ ہر جگہ روزانہ جاری رہا۔ ضلع کے مختلف مقامات سے لوگ آ آکر دو مقامات پر جمعہ کے اجتماعات میں تقریر کی گئی۔
نزد جال سے ہم نے سڑک چھوڑی تو سامنے پہاڑی کے اوپر ایک بڑا درخت اور اس کے پاس مکان دکھائی دے رہا تھا۔ یہ دوداسن بالا تھا جو ہمارے اس سفر کی پہلی منزل تھی۔ کھلے ہوئے سرسبز ماحول کے درمیان ہم نے اوپر چڑھنا شروع کیا۔ ”وہ بستی کہاں ہے جہاں ہم کو پہنچنا ہے“، میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا۔ ”یہی تو وہ بستی ہے جہاں آپ کھڑے ہوئے ہیں“، ساتھی نے جواب دیا ” مگر یہ تو صرف ایک گھر ہے“، میں نے دوبارہ پوچھا۔ ”یہاں اسی طرح کی بستیاں ہوتی ہیں“، اس کے بعد اس نے دکھایا تو سبز پوش پہاڑوں میں دور دور بکھرے ہوئے بہت سے گھر دکھائی دئے۔ یہاں ہر گھر مستقل ہوتا ہے۔ اپنی زمینوں کے ساتھ لوگ گھر بنا لیتے ہیں، خاص وضع کے مکانات، اس سے متصل درخت اور کھیت۔ گویا ہر گھر کی اپنی الگ دنیا ہے۔ یہاں بستی مکانات کے مجموعہ کا نام نہیں ہوتی بلکہ دور دور بکھرے ہوئے مکانات کا نام ہوتی ہے۔ اس طریقے کے بہت سے فائدے ہیں۔ طرح آپس کے جھگڑے کے مواقع بہت کم ہوجاتے ہیں۔ شہری برائیاں پیدا نہیں ہوتیں۔ کھیت اور مکان ساتھ ساتھ ہونے کی وجہ سے کھیتی اور نگرانی بہت آسان ہو جاتی ہے۔ مزید یہ کہ قدرت کا ماحول باقی رہتا ہے، گھنی آبادی کی صورت میں پیدا ہونے والی مصنوعی کثافتیں پیدا نہیں ہوتیں۔ اس علاقہ میں گھر بنانے کا طریقہ عام طور پر یہ ہے کہ دیواریں بنا کر اوپر لکڑی کا فریم بناتے ہیں اور اس کے اوپر مٹی بچھا دیتے ہیں۔ یہ ان کی چھت ہے مٹی کی ان چھتوں کے لئے سب سے زیادہ نقصان کی چیز موتھا گھاس موتھا گھاس کی جڑیں بہت گہرائی تک اتر جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس چھت پر موتھا جم جائے وہ بارش میں ٹپکنے لگتا ہے۔ اس کا علاج یہاں کے لوگوں نے پتھوا کی شکل میں پایا ہے۔ پتھوا کی جڑیں اوپر اوپر پڑ رہتی ہیں۔ کے اوپر کی مٹی میں پتھوا کے چند پودے لگا دیتے ہیں اور اس کے بعد موتھا گھاس دھیرے دھیرے ختم ہو جاتی ہے۔ ہر مسئلہ کا ایک قدرتی حل ہے اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ کسی مسئلہ کے قدرتی حل کو بروئے کار آنے کا موقع دیا جائے۔ جموں وکشمیر ایک سرحدی ریاست ہے اس لئے یہاں فوجیں کثرت سے رکھی گئی ہیں۔ سفر کرنے والا دیکھتا ہے کہ حکومت نے زمین کے بڑے بڑے ٹکڑے فوجی مراکز قائم کرنے کی خاطر اپنے قبضہ میں لے لئے ہیں۔ اس کی وجہ سے یہاں کا زرعی رقبہ پہلے کے مقابلہ میں کم ہو گیا ہے۔ مگر اس نقصان نے ریاست کے لوگوں کے لئے ایک نیا عظیم تر
امکان کھول دیا ہے ۔ فوجی ضرورت کے تحت سارے علاقے میں کثرت سے سڑکاں بنائی گئی ہیں۔ جن کی تقسیم سے پہلے یہاں کے لوگوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ سڑکوں کے اس جال نے تجارت کے زبردست مواقع کھول دئے ہیں۔ زمین کم ہوکر تجارتی زمین بڑھ گئی ہیں۔ مگر مسلمان اکثریت میں ہونے کے باوجود، اس نئے امکان سے فائدہ اٹھانے میں سب سے پیچھے ہیں ۔
اس علاقے میں یہ بات عجیب نظر آئے گی کہ شہروں میں مسلمان غیر معمولی اقلیت میں ہیں۔ جب کہ ان شہروں کے ارد گرد پھیلے ہوئے دیہاتوں میں مسلمانوں کی غیر معمولی اکثریت ہے۔ اور اکثر زراعتی رقبے ان کے قبضہ میں ہے۔ اس فرق کی وجہ مسلمانوں کا تعلیم اور تجارت میں پیچھے ہو جانا ہے۔ شہری علاقے تعلیم اور تجارت کے علاقے ہوتے ہیں اس لئے شہروں میں انھیں لوگوں کو جگہ ملتی ہے جو تعلیمی لیاقت اور تجارتی سرگرمیوں کا ثبوت دے سکیں ۔ مالک ہونے کے باوجود مسلمان جدید دنیا میں بے زمین ہو رہے ہیں۔
وادی کشمیر میں سفر کرنے والے کو ہر طرف سیب اور دوسری چیزوں کے باغات نظر آتے ہیں۔ مگر جموں کے علاقہ میں زیادہ تر دھان اور مکئی کی فصلیں ہی دکھائی دیتی ہیں۔ جہاں تک راقم الحروف کا اندازہ ہے جموں کا علاقہ پھلوں کے باغات کے لئے کم موزوں نہیں۔ پھر اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ آزادی سے پہلے "کشمیر" کے حصہ میں انگریز آباد ہوئے اور انھوں نے باغات لگائے۔ اس سے اس علاقہ میں باغ کی روایت چل پڑی۔ اس کے برعکس "جموں" کے علاقہ میں یہ روایت قائم نہ ہوسکی۔ اس لئے یہ علاقہ قدیم طرز کی زراعت پر قائم رہا۔ باغات کے معاملہ میں پیچھے ہو گیا۔ جموں کا پورا علاقہ پہاڑی نباتات سے بھرا ہوا ہے اور یہاں شہد کی مکھی پالنے کا زبردست امکان موجود ہے۔ مگر اس امکان سے بھی اب تک برائے نام ہی فائدہ اٹھایا جا سکا ہے۔ حکومت کی طرف سے شہد کی مکھی اور اس کے بکس معمولی قیمت پر فراہم کئے جاتے ہیں۔ آدمی کو صرف اتنا کرنا ہے کہ وہ اس قسم کا ایک بکس حاصل کرے اور اس کو اپنے مکان کے پاس رکھ دے۔ بقیہ تمام کام مکھیاں خود اپنے نظام کے تحت انجام دیتی ہیں۔ یہ کام ہر گھر والا انجام دے سکتا ہے۔ مگر یہاں کے لوگ ابھی تک اس امکان سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ دوسری بہت سی صنعتوں کا بھی ہے جو یہاں بہت آسانی سے قائم کی جاسکتی ہیں ۔
کشمیر کا مزدور سر کے بجائے پیٹھ پر سامان لادتا ہے۔ بسا اوقات وہ اپنے اوپر اتنا زیادہ سامان لاد لیتا ہے کہ دیکھنے والے کو اس کے اوپر چھوٹی موٹی گاڑی کا گمان ہونے لگتا ہے۔ حال اور مستقبل سے بے خبر یہ لوگ محنت کو اپنا کام سمجھتے ہیں اور باقی تمام امور کو حالات کے حوالے کئے ہوئے ہیں۔ تاہم خوش قسمت غیر مزدور طبقہ کا معاملہ بھی اس سے بہت زیادہ مختلف نہیں۔ مزدور اگر جاہلانہ بے خبری کا پشتا رہ اپنے اوپر لادے ہوئے ہے تو غیر مزدور لوگ اپنی عالمانہ بے شعوری کا۔ دونوں اپنے خیال کے مطابق ایک ایسے حسین مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو ان کے گمان کے مطابق خود بخود ان کی طرف آجائے گا، اگر چہ اس کے لئے انھوں نے نہ کوشش نہ کی ہو جو دنیا کے پیدا کرنے والے نے اس دنیا کے لئے مقدر کی ہے۔
چند بزرگ آئے ۔ سلام اوپر مصافحہ کے بعد میرا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور دعا کے لئے کہا۔ جب میں آگے بڑھا تو ان کی آواز میرے کان میں آئی : " عالم دا دیدار کرنا ستر سال دی عبادت کے برابر ہے ۔ " اس سے اس علاقہ کے لوگوں کی سادگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ لوگوں کی اس سادگی اور بے خبری نے ان کو بعض سماجی فصلوں کے لئے نہایت زرخیز زمین بنا دیا ہے۔ جموں وکشمیر کی زمین میں بہترین کھیل پیدا ہوتے ہیں، اسی کے ساتھ وہ چند چیزوں کی پیداوار کے لئے موزوں ترین ثابت ہوئی ہے۔ ان میں سے تین چیزیں خاص ہیں۔ مذہبی بدعات، موت اور شادی وغیرہ کے مواقع پر مسرفانہ رسوم، اور انتہائی بے فائدہ قسم کی جذباتی سیاست ۔ یہ دوسری فصلیں اس جنت نظیر سر زمین میں اتنے بڑے پیمانہ پر اگتی ہیں کہ ملک کی دوسری ریاستوں میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ اس قسم کے سماجی جھاڑ جھنکار ہمیشہ جہالت کی زمین پر آگتے ہیں اور ان کو ختم کرنے کی واحد کامیاب صورت یہ ہے کہ قوم کو تعلیم یافتہ بنا کر اس قسم کی تمام فصلوں کو ان کی زمین سے محروم کر دیا جائے ۔ ایک بستی میں میری قیام گاہ کے اوپر ایک پہاڑی ٹیلہ تھا۔ میں نے سوچا کہ اس کے اوپر جا کر بیٹھوں۔ میں چڑھ کر وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کے آگے ایک اور ٹیلہ ہے۔ اب میں نے پھر چڑھنا شروع کیا جب دوسرے ٹیلہ پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کے اوپر ایک اور ٹیلہ ہے۔ میں پھر چڑھا۔ مگر جب اوپر پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کے اور ایک اور اس سے اونچا ٹیلہ ہے۔ " انسان آخری بلندی پر پہنچنا چاہتا ہے مگر وہ آخری بلندی پر نہیں پہنچ " میں نے سوچا اور وہیں ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد ایک آدمی آیا جو وہاں اپنے کھیتوں کی دیکھ بھال کر رہا تھا۔ اس نے کہا: آپ یہاں کیسے آئے۔ میں نے کہا کہ میں دہلی میں رہتا ہوں۔ دہلی کی کثافت اور ہنگامہ مجھ کو اچھے نہیں لگتے۔ اس لئے میں یہاں آگیا تاکہ قدرت کی کھلی فضا میں سکون ححل کروں۔ " اس نے سامنے پھیلی ہوئی سر سبز وادی پر ایک نظر ڈالی اور پھر بولا: " پیداوار اگر وقت وقت پر ہوتی رہے تو اس جیسی کوئی جگہ نہیں۔ سخت گرمی ہوتی ہے اور نہ سخت سردی۔ بارہ مہینے موسم خوش گوار رہتا ہے۔ اس وقت جو سرسبزی آپ دیکھ رہے ہیں یہی یہاں سال بھر رہتی ہے ۔ " یہاں کے لوگ اگر صرف کھیتی پر انحصار نہ کریں بلکہ اسی کے ساتھ باغ بانی کریں اور تعلیم و تجارت میں بھی حصہ لیں تو ان کو حالات سے اس قسم کی شکایت نہ رہے ۔ میدانی علاقوں میں نہروں کے ذریعہ آب پاشی ہوتی ہے۔ مگر پہاڑی علاقوں میں نہریں نکالنا اور نالیاں بنانا ممکن نہیں، کیوں کہ پانی کو نیچے سے اوپر کی طرف چڑھایا نہیں جاسکتا۔ اس مسئلہ کا اصل قدرت نے پہاڑی علاقوں میں بارش کی زیادتی سے کیا ہے، قدرت حالات سے مطابقت کرکے مسئلہ کو حل کرتی ہے مگر ہمارے " لاؤڈ اسپیکر" صرف ایک ہی بات چیخنا جانتے ہیں : حالات سے لڑ کر اپنا مسئلہ حل کرو۔
ایک پہاڑ پر لمبی تھکا دینے والی چڑھائی چڑھنے کے بعد ہم ہموار میدان میں پہنچے تو اس پر چلنا ایسا معلوم ہوا جیسے آدمی چل ہی نہ رہا ہو۔ یہی معاملہ زندگی کی جدوجہد کا ہے۔ زندگی کی جدوجہد اپنی ابتدا میں ایک مشکل سفر ہے۔ لیکن سفر کی ابتدائی مشکلوں کو برداشت کر لیا جائے تو بعد کا سفر اسی طرح آسان ہو جاتا ہے جیسے مشکل چڑھائی کے
بعد ہموار میدان میں چلنا۔ ممگر عام طور پر لوگ ابتدائی مشکلات سے گھبرا کر اپنا سفر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لئے" ہموار میدان ، کبھی ان کے حصہ میں نہیں آتا۔
میں نے ایک کشمیری نوجوان منظور گلشن بی اے (پیدائش ۱۹۵۶) سے کہا کہ شر ایک منفی کارروائی ہے اور منفی کارروائی ہمیشہ کسی ردعمل کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ اگر آپ ایسا عمل نہ کریں جو اپنا کوئی رد عمل پیدا کرنے والا ہو تو یقینی طور پر آپ دوسروں کے شر سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ " پھر میں نے گلشن صاحب سے پوچھا: " یہ بتائے، کیا مسلمان اس نقطہ نظر کو قبول کر سکتے ہیں؟ " وہ فورا بولے : "نہیں ! " میں نے پوچھا کیوں۔ انہوں نے کہا: اس لئے کہ مسلمان کا مزاج ڈکٹیٹرانہ ہوتا ہے اس لئے اس قسم کی باتیں اس کو اپیل نہیں کرتیں۔ جو بات اپنی سادگی میں کہہ دی وہی دراصل مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں شاعر اور مقرر قسم کے لیڈروں نے مسلمانوں کا مزاج انتہائی حد تک بگاڑ دیا ہے۔ شاعر اور خطیب کو حقائق سے بحث نہیں ہوتی۔ پرشور الفاظ اور ردیف و قافیہ کی تک بندیوں سے معرکہ سر کرتا رہتا ہے۔ اس قسم کی تقریبًا سو سالہ ذہنی تربیت نے مسلمانوں کو حد درجہ جذباتی بنا دیا ہے۔ خیالی احساس برتری کے سوا ان کے پاس کوئی اور سرمایہ نہیں۔ طرح حقائق کے ڈھانچہ میں اپنے کو دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ مزاجی بگاڑ مسلمانوں کی تمام انفرادی اور اجتماعی ناکامیوں کا واحد سبب ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس مزاج کی اصلاح ہو سکتی ہے یا نہیں۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مزاج کی اصلاح کے بغیر آگے کا کوئی کام نہیں کیا جا سکتا۔ اس مزاج کی درستی کے بغیر جو اقدام بھی کیا جائے گا وہ صرف ملت کی بربادی میں اضافہ کا باعث ہوگا۔ قوم کی اسی بے شعوری کا یہ نتیجہ ہے کہ جو شخص بھی اسلام یا ملت اسلام کے نام پر کوئی شور و شر کرنے کے لئے اٹھتا ہے اس کو بہت سے ساتھ دینے والے مل جاتے ہیں حالانکہ ہونا چاہیے کہ بے معنی شور و شر کرنے والے اکیلے رہ جائیں اور قوم کے اندر صرف ان آوازوں کو تعاون ملے جو حقیقی تعمیر کی طرف پکارنے والی ہوں۔
میں سطح سمندر سے چھ ہزار فٹ کی بلندی پر گھاس کی قدرتی مخمل پر بیٹھا ہوں۔ ہر طرف آفاقی مناظر پھیلے ہوئے سبزہ سے ڈھکی ہوئی پہاڑیاں، قدرتی چشموں کی موسیقی، فرحت بخش ہوا کے جھونکے، سورج کی سہانی کرنیں، نیلا آسمان اور اس میں سفید بادل کی گلکاریاں۔ چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں، تمدن کے ہنگاموں سے دور قدرت کی ایسا معلوم ہوا جیسے کائنات کا حسین چہرہ اپنے حسین تر خالق کا آئینہ بن گیا ہو۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا: خدایا تو اس سے زیادہ ہے کہ میں اپنے لفظوں میں تجھ کو بیان کر سکوں۔ میں نے تیری حمد میں جو کچھ کہا وہ جھوٹ تھا، کیوں کہ میں نے تجھ کو بیان نہیں کیا بلکہ تجھ کو گھٹا دیا۔ میں نے تیری عبادت کی گر میں نے تیری عبادت نہیں کی کیونکہ تو اس سے برتر ہے کہ کوئی تیری عبادت کا حق ادا کر سکے۔
یہاں کا آفاقی ماحول خدا کے جلال و جمال کو اس طرح نمایاں کر رہا تھا کہ اس کے مقابلہ میں اپنی ہر چیز حقیر اور بے قیمت نظر آئی۔ یہاں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے آدمی خدا کی آفاقی دنیا میں ہے۔ تمام منفی جذبات اور
سطلی داعیات خدا کی وسیع دنیا میں تحلیل ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ خود پرستی کائنات کی عظمتوں کے سامنے اپنا وجود کھوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اللہ کے سوا دوسری تمام عقیدتیں اور پرستاریاں ایسی ہو جاتی ہیں جیسے رب العالمین کی بارگاہ میں ان کو جگہ نہ مل رہی ہو۔ دنیا پرستی یہاں کی جنتی فضاؤں میں ایک ایسی حقیر چیز بن جاتی ہے جس پر آدمی خود شرم محسوس کرنے لگے۔
میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جی چاہتا ہے کہ یہاں ایک تربیتی نظام قائم ہو جس میں لوگ دس دس ، ہیں ہیں کی تعداد میں آکر شریک ہوں۔ یہاں کی آفاقی فضا ہی میں وہ تربیت گاہ بن سکتی ہے جس میں وہ انسان پیدا کرنے کی کوشش کی جائے جو خدا میں جیتے ہوں۔ جو انسانی بستیوں کے بجائے خدائی بلندیوں میں اپنے شعور کی غذا جو فانی دنیا کے بجائے خدا کی ابدی دنیا میں سانس لیتے ہوں ۔ کائنات میں غور و فکر آدمی کو خدا سے جوڑتا ہے۔ جب کہ احکام میں خوض سے صرف ذہنی موشگافیاں وجود میں آتی ہیں۔ ایک کے اور معرفت خداوندی کی غذا ہے اندر دوسرے کے اندر اختلاف و انتشار کا سامان۔ یہ ایک موزوں ترین مقام ہے جہاں خدا کے بندوں کو خدا پرستی کا درس دیا جا سکتا ہے۔ یہاں ہر طرف قدرت چہکتے ہیں جن سے سال بھر شفاف پانی ابلتا ایسے ماحول میں جب کوئی کہنے والا کہے کہ اللہ کا فیضان ہدایت ہر وقت برس رہا ہے، اس میں سے اپنا حصہ لو تو بہتے ہوئے چشمے اپنی دھیمی موسیقی کے ساتھ اس کی تائید کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جب آپ کہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے اس کی بڑائی کو مان کر اس کے آگے جھک جاؤ تو پہاڑوں کی بلندیاں اپنی خاموش زبان میں بول پڑتی ہیں کہ کہنے والے نے سچ کہا۔ جب آپ کہیں کہ ایمان کو اس طرح اپناؤ کہ وہ تمھاری پوری ہستی کو تر و تازہ کرنے کے ہم معنی بن جائے تو چاروں طرف آگے ہوئے سر سبز و شاداب درخت اس قول کی مجسم تفسیر بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب آپ کہیں کہ اختلاف اور شکایت سے اوپر اٹھ کر رہو تو آسمان کی بلندیاں اپنے آفاقی پھیلاؤ کے ساتھ اس کی خاموش تصدیق بن جاتی ہے ۔ خدا سے قریب ہونے کی جگہ خدا کی کھلی ہوئی کائنات ہے مگر لوگ خدا کی قربت کو تنگ و تاریک حجروں میں تلاش کر رہے ہیں۔
از مولانا وحید الدین خان قیمت = ۴/م صفحات = ۷۲ مذہب اور سائنس