Al-Risala · November 1979

اقربا نوازی نہیں

Al-Risala, November 1979, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

ابن ابی شیبہ، احمد، ابن ابی الدنیا، ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے اسلم سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ دیکھا کہ عبداللہ بن ارقم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے امیر المومنین! بیت المال میں جلولا کے آئے ہوئے کچھ زیور اور چاندی کے برتن ہیں۔ آپ ان کو دیکھ لیجیے اور ان کے سلسلہ میں ہم کو ہدایات دیجئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب مجھ کو فارغ دیکھنا تو مجھ کو بتانالا۔ عبداللہ بن ارقم رفتہ رفتہ ایک روز آئے اور کہا: آج میں آپ کو فارغ دیکھ رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ پھر آپ بیت المال گئے اور زیوروں اور برتنوں کو نکلوا یا۔ سامان نکال کر آپ کے سامنے رکھا گیا۔ آپ نے ان کو دیکھ کر سورہ آل عمران کی آیت ام پڑھی اور فرمایا:

انا نستطيع الا ان نفرح بما زينت لنا ، یہ چیز جو ہمارے لئے مزین کی گئی ہے، ہمارے بس میں نہیں فاجعلنا ننفقہ فی حق واعوذ بك کہ ہم ان کو دیکھ کر خوش نہ ہوں۔ تو ہم کو ایسا بنا دے من شره کہ ہم اس کو حق میں خرچ کریں اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس کے شر سے۔

راوی کہتے ہیں کہ اسی دوران میں عمر رضی اللہ عنہ کا ایک بچہ آگیا جس کو عبدالرحمن بن بہیہ کہا جاتا تھا۔ بچہ نے کہا میرے باپ ! ایک انگوٹھی مجھ کو دے دیجیے۔ آپ نے فرمایا :

اذهب الی امك تسقيك سويقا (پ اپنی ماں کے پاس جاؤ، وہ تم کو ستو پلائے گی) راوی کہتے ہیں: پس خدا کی قسم انھوں نے بچہ کو کچھ نہیں دیا۔

Printed page