حیثیت سے کوئی فائدہ نہ اٹھانا
Al-Risala, November 1979, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
مالک بن اوس بن حدثان بتاتے ہیں کہ شاہ روم کا قاصد عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ایک دینار قرض لیا۔ اس سے عطر خریدا اور اس کو شیشہ کے برتنوں میں رکھا اور قاصد کے ذریعہ اس کو شاہ روم کی بیوی کے پاس بھیجا۔ قاصد یہ تحفہ لے کر ملکہ روم کے پاس پہنچا تو اس نے ان برتنوں کو خالی کیا اور ان کو جواہرات سے بھر کر قاصد سے کہا: ان کو يمون خطاب کی بیوی کے پاس لے جاؤ جب آپ کی بیوی کے پاس وہ برتن آئے تو انھوں نے جواہرات کو نکال کر بستر پر رکھا۔ عمر رضی اللہ عنہ گھر میں آئے تو انھوں نے پوچھا یہ کیا ہے ۔ بیوی نے آپ کو واقعہ کی خبر دی ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے وہ جواہرات لئے اور ان کو بیچا۔ ان میں سے ایک دینار اپنی بیوی کو دیا اور باقی کو بیت المال میں جمع کر دیا ۔ (اخرجه الدینوری فی المجالسة)
سال (نومبر ۱۹۷۹)