موت کے اس پار
Al-Risala, November 1979, pp. 24–42
By Maulana Wahiduddin Khan
موریس رانگنز جو ایک بڑے امریکی ڈاکٹر ہیں، انھوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر اعلان کیا ہے کہہ موت کے دروازے کے دوسری طرف جنت اور جہنم ہیں۔ چاہیے کہ ہر قیمت پر اپنے کو جہنم سے بچانے کی کوشش کریں۔ He was able to escape only after a loud voice boomed, " He instantly "found himself back in his hos- pital bed, being shocked back to
One patient was so shaken by his experience that he quit his job to join the ministry. ڈاکٹر مورس رالنگز نے یہ رائے ان تین سالہ تجربات کی بنا پر قائم کی ہے جو ان کو مریضوں کے آپریشن کے سلسلے میں ان کے تجربہ میں تقریباً ایک سو ایسے مریض آئے جن کے دل کی حرکت آپریشن کے دوران بند ہوگئی۔ چند منٹ کے بعد دوبارہ ان کا دل حرکت میں آگیا ۔ ایسے لوگ گویا موت کے بعد کی دنیا میں داخل ہو کر دوبارہ موجودہ دنیا میں واپس آگئے ۔ ان مریضوں میں سے ۵۰ فی صد نے بتایا کہ وہ ایک بے حد اندھیرے مقام پر پہنچے ووہاں ناقابل برداشت تکلیف تھی۔ بہت سے لوگ چیخ رہے تھے کہ مجھے بچاؤ، مجھے بچاؤ ۔ ان مریضوں کو " موت کے بعد " جو تجربات ہوئے ان میں ہر ایک نے اپنے کو ایک ایسی تاریک سرنگ سے گزرتے ہوئے دیکھا جو بالآخر ایک بہت بڑے عذاب خانہ پر ختم ہوتی تھی۔ مگر ہاں کسی نے ان سے کہا کہ " واپس جاؤ " اور وہ فوراً اپنے جسموں میں لوٹ آئے۔ ڈاکٹر رالنگز کے مریضوں میں ایک شخص اپنے اس تجربہ سے اتنا دہشت زدہ ہوا کہ اس نے اپنی ملازمت چھوڑ دی اور پادری بن گیا۔ ڈاکٹر رالنگز کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات بہت عام ہیں۔ مگر ڈاکٹر لوگ اس کو ” روحانی معاملہ “ کہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر رالنگز نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے : موت کے دروازہ کے اس پار (Beyond Death's Door)
As Many Go to Hell as Heaven الرسالی نومبر ۱۹۷۹ء write the soon-to-be-published book, "Beyond Death's Door." "About 50 percent of the revived persons told of having gone to a place of great darkness, filled with grotesque moaning and writhing bodies, cry- ing out to be rescued from this place with an overwhelming feeling of eerie and nightmarish terror." he said. "Patients also described things that had gone on in the emergen- cy room during the time they were dead - able to give precise information as to what had been said and done while they were
اور جو لوگ علم نہیں رکھتے، انھوں نے کہا: اللہ کیوں نہیں کلام کرتا ہم سے یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں اسی طرح ان کے اگلے بھی انھیں کی سی بات کہہ چکے ہیں، ان سب کے دل ایک جیسے ہیں، ہم نے پیش کر دی ہیں نشانیاں ان لوگوں کے لئے جو یقین کرنے والے ہیں۔ ہم نے تم کو ٹھیک بات لے کر بھیجا ہے، خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ اور تم سے دوزخ میں جانے والوں کی بابت کوئی پوچھ نہیں ہوگی۔ بےود اور نصاریٰ ہرگز تم سے راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کی ملت کے پیرو نہ بن جاؤ۔ تم کہو کہ راہِ اللہ دکھاتا ہے وہی اصل راہ ہے۔ اور اگر بعد اس علم کے جو تم کو پہنچ چکا ہے تم نے ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلہ میں نہ تمھارا کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو پڑھتے ہیں جیسا کہ حق ہے پڑھنے کا۔ یہی لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر۔ اور جو اس کا انکار کرے تو وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔ ۱۲۱ - ۱۱۸ اللہ کے وہ بندے جو اللہ کی طرف سے اس کے دین کا اعلان کرنے کے لئے آئے، ان کو ہر زمانہ میں ایک ہی قسم کے رد عمل سے سابقہ پیش آیا۔ "اگر تم خدا کے نمائندے ہو تو تمھارے ساتھ دنیا کے خزانے کیوں نہیں" یہ شبہ ان لوگوں کو ہوتا جو اپنے دنیا پرستانہ مزاج کی وجہ سے مادی بڑائی کو بڑائی سمجھتے تھے، اس لئے وہ خدا کی نمائندگی کرنے والے میں بھی یہی بڑائی دیکھنا چاہتے تھے۔ جب داعیٔ حق کی زندگی میں ان کو اس قسم کی بڑائی دکھائی نہ دیتی تو وہ اس کا انکار کر دیتے ۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا کہ ایک "معمولی آدمی"، کیوں کر وہ شخص ہوسکتا ہے جس کو زمین و آسمان کے مالک نے اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لئے چُنا ہو۔ اللہ کے ان بندوں کی زندگی اور ان کے کلام میں اللہ اپنی نشانیوں کی صورت میں شامل ہوتا، بالفاظِ دیگر معنوی بڑائیاں پوری طرح ان کے مگر اس قسم کی چیزیں لوگوں کو نظر نہ آتیں، اس لئے وہ ان کو "بڑا" ماننے کے لئے بھی تیار نہ ہوتے۔ دلیل اپنی کامل صورت میں موجود ہو کر بھی ان کے ذہن کا جزو نہ بنتی، کیوں کہ وہ ان کے مزاجی ڈھانچہ کے مطابق نہ ہوتی۔
یہود و نصاریٰ قدیم زمانہ میں آسمانی مذہب کے نمائندے تھے مگر زوال کا شکار ہونے کے بعد دین ان کے لئے ایک گروہی طریقہ ہو کر رہ گیا تھا۔ وہ اپنے گروہ سے وابستہ رہنے کو دین سمجھتے اور گروہ سے الگ ہو جانے کو بے دینی۔ ان کے گروہ میں شامل ہونا یا نہ ہونا ہی ان کے نزدیک حق اور ناحق کا معیار بن دین جب اپنی بے آمیز صورت میں ان کے سامنے آیا تو ان کا گروہی دین داری کا مزاج اس کو قبول نہ کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ آمیز دین کو وہی اختیار کرے گا جس نے اپنی فطرت کو زندہ رکھاہے۔ جن کی فطرت کی روشنی بجھ چکی ہے ان سے کسی قسم کی کوئی امید نہیں۔ دین کو ایسے لوگوں کے لئے قابلِ قبول بننے کی خاطر دین کو بدلا نہیں جا سکتا۔
اے بنی اسرائیل میرے اس احسان کو یاد کرو جو میں نے تمھارے اوپر کیا اور اس بات کو کہ میں نے تم کو تمام اقوام عالم پر فضیلت دی ۔ اور اس دن سے ڈرو جس میں کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ کسی کی طرف سے کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ کسی کو کوئی سفارش فائدہ دے گی اور نہ کہیں سے ان کو کوئی مدد پہنچے گی ۔ اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو اس نے پورا کر دکھایا۔ اللہ نے کہا میں تم کو سب لوگوں کا امام بناؤں گا۔ ابراہیم نے کہا : اور میری اولاد میں سے بھی۔ اللہ نے کہا : میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچتا بنی اسرائیل کو اس کارِ خاص کے لئے چنا گیا تھا کہ وہ اقوام عالم کو اللہ کی طرف بلائیں اور ان کو اس حقیقت سے آگاہ کریں کہ ان کے اعمال کے بارے میں ان کا مالک ان سے سوال کرنے والا ہے۔ اس کام کی رہنمائی کے لئے ان کے درمیان مسلسل پیغمبر آتے رہے۔ حضرت ابراہیم، یعقوب، یوسف، موسیٰ، داؤد ، سلیمان، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ علیہم السلام وغیرہ۔ مگر بعد کے زمانہ میں جب بنی اسرائیل پر زوال آیا تو انھوں نے اس منصبی فضیلت کو نسلی اور گروہی فضیلت کے معنی میں لے لیا۔ اور اس طرح اس کی بابت اپنے استحقاق کو کھو دیا۔ اسماعیلی خاندان میں نبی عربی کا آنا دراصل بنی اسرائیل کی مقام فضیلت سے معزولی اور اس کی جگہ بنی اسماعیل کے تقرر کا اعلان تھا۔ بنی اسرائیل میں جو لوگ فی الواقع خدا پرست تھے ان کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ نبی عربی جو کلام پیش کر رہے ہیں وہ خدا کی طرف سے آیا ہوا کلام ہے۔ مگر جو لوگ گروہی تعصبات کو دین بنائے ہوئے تھے ان کے لئے اپنے سے باہر کسی فضیلت کا اعتراف کرنا ممکن نہ ہو سکا۔
پیغمبر عربی کے ذریعہ ان کو متنبہ کیا گیا کہ یاد رکھو آخرت میں حقیقی ایمان اور سچے عمل کے سوا کسی بھی چیز کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔ دنیا میں ایک شخص دوسرے شخص کا بار اپنے سر لے لیتا ہے کسی معاملہ میں کسی کی سفارش کام آ جاتی ہے، کبھی معاوضہ دے کر آدمی چھوٹ جاتا ہے، کبھی کوئی مددگار مل جاتا ہے جو پشت پناہی کر کے بچا لیتا ہے۔ مگر آخرت میں اس قسم کی کوئی چیز کسی کے کام آنے والی نہیں۔ آخرت کسی گروہ کی نسلی وراثت نہیں، وہ اللہ کے بے لاگ انصاف کا دن ہے ۔ حضرت ابراہیم کو جو درجہ فضیلت ملا اس کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب وہ کڑی جانچ میں خدا کے سچے فرماں بردار ثابت ہوئے۔ اللہ کی یہی سنت ان کی نسل کے کے بارے میں بھی ہے کہ جو عمل میں پورا اترے گا وہ اس وعدہ الہی میں شریک ہوگا۔ اور جو عمل کے ترازو پر اپنے کو سچا ثابت نہ کر سکے اس کا وہی انجام ہوگا جو اس قسم کے دوسرے مجرمین کے لئے اللہ کے یہاں مقدر ہے ــــــــ حضرت ابراہیم کو نہایت کڑی آزمائشوں کے بعد پیشوائی کا مقام دیا گیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ امامت و قیادت کے منصب کا استحقاق قربانیوں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ قربانی کی قیمت پر کسی مقصد کو اختیار کرنے والا اس مقصد کی راہ میں سب سے آگے ہوتا ہے۔ اس لئے قدرتی طور پر وہی اس کا قائد بنتا ہے۔
اور جب ہم نے کعبہ کو لوگوں کے اجتماع کی جگہ اور امن کا مقام ٹھہرایا۔ اور حکم دیا کہ مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو۔ اور ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھو۔ اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو ، جو ان میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھیں، پھلوں کی روزی عطا اللہ نے کہا جو انکار کرے گا میں اس کو بھی تھوڑے دنوں فائدہ دوں گا۔ پھر اس کو آگ کے عذاب کی طرف دھکیل دوں گا اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے ۱۲۶ - ۱۲۵ ساری دینا کے اہل ایمان ہر سال اپنے وطن کو چھوڑ کر بیت اللہ آتے ہیں۔ یہاں کسی کے لئے کسی ذی حیات پر زیادتی کرنا جائز نہیں۔ حرم کعبہ کو دائمی طور پر عبادت کی جگہ بنا دیا گیا ہے۔ اس مقام کو ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک رکھا جاتا ہے۔ کعبہ کا طواف کیا جاتا ہے۔ دنیا سے الگ ہو کر اللہ کی یاد کی جاتی ہے اور اللہ کے لئے رکوع و سجود کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ دنیا کا سب سے زیادہ خشک علاقہ تھا جہاں رتیلی زمینوں اور پتھریلی چٹانوں کی وجہ سے کوئی فصل پیدا نہیں ہوتی تھی۔ مزید یہ کہ وہ انتہائی طور پر غیر محفوظ تھا۔ چار ہزار برس پہلے حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ اپنے خاندان کو اس علاقہ میں لے جاؤ اور اس کو وہاں بسا دو۔ نے ادنیٰ تامل کے بغیر اس کی تعمیل کی ۔ اور جب خاندان کو اس بے آب و گیاہ مقام پر پہنچا چکے تو دعا کی کہ خدایا میں نے تیرے حکم کی تعمیل کر دی۔ اب تو اپنے بندے کی پکار کو سن لے اور اس بستی کو امن و امان کی بستی بنا دے۔ اور اس خشک زمین پر ان کے لئے خصوصی رزق کا انتظام فرما۔ دعا قبول ہوئی اور اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ علاقہ آج تک امن اور رزق کی کثرت کا نمونہ بنا ہوا ہے۔
مومن کو دنیا میں اس طرح رہنا ہے کہ وہ بار بار یا د کرتا رہے کہ خواہ وہ دنیا کے کسی گوشہ میں ہو اس کو بہر حال ایک روز لوٹ کر خدا کے یہاں جانا ہے۔ وہ جن انسانوں کے درمیان رہے ، بے ضرر بن کر رہے۔ وہ زمین کو خدا کی عبادت کی جگہ سمجھے اور اس کو اپنی کثافتوں سے پاک رکھے۔ اس کی پوری زندگی خدا کے گرد گھومتی ہو۔ وہ بظاہر دنیا میں رہے مگر اس کا دل اپنے رب میں اٹکا ہوا ہو۔ وہ ہمہ تن اللہ کے آگے جھک پھر یہ کہ دین جس چیز کا تقاضا کرے ، خواہ وہ ایک " چٹیل میدان " میں بیوی بچوں کو لے جا کر ڈال دنیا ہو، بندہ پوری وفاداری کے ساتھ اس کے لئے راضی ہو جائے ۔ اور جب تعمیل حکم کر چکے تو خدا سے مدد کی درخواست عجب نہیں کہ خدا اپنے بندے کی خاطر چٹیل بیابان میں رزق کے چشمے جاری کر دے ۔
دنیا کی رونق ، خواہ کسی کو دین کے نام پر ملے ، اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اللہ نے اس کو امامت و پیشوائی کے منصب کے لئے قبول کر لیا ہے۔ دنیا کی چیزیں صرف آزمائش کے لئے ہیں جو سب کو ملتی ہیں۔ یہ ہے کہ کسی بندے کو قوموں کے درمیان خدا کی نمائندگی کے لئے منتخب کر لیا جائے ۔
اور جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے : اے ہمارے رب ! قبول کر ہم سے، یقیناً جو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔ اے ہمارے رب ہم کو اپنا فرماں بردار بنا اور ہماری نسل میں سے اپنی ایک فرماں بردار امت اٹھا اور ہم کو ہمارے عبادت کے طریقے بتا اور ہم کو معاف فرما، تو معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ اے ہمارے رب اور ان میں ان ہی میں کا ایک رسول اٹھا جو ان کو تیری آیتیں سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔ بے شک تو زبردست حکمت والا ہے اللہ کا یہ فیصلہ تھا کہ وہ حجاز کو اسلام کی دعوت کا عالمی مرکز بنائے۔ اس مرکز کے قیام اور انتظام کے لئے حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کا انتخاب ہوا۔ بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی زبان سے جو کلمات نکل رہے تھے وہ ایک اعتبار سے دعا تھے اور دوسرے اعتبار سے وہ دور رخوں کا اپنے آپ کو اللہ کے منصب بے میں دے دینے کا اعلان تھا۔ ایسی دعا خود مطلوب الہی ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ پوری طرح عرب کے خشک بیابان سے اسلام کا ابدی چشمہ پھوٹ نکلا۔ بنی اسماعیل کے دل اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر اپنے دین کی خدمت کے لئے نرم کر دیئے ۔ ان کے انور سے ایک طاقت در اسلامی دعوت برپا ہوئی۔ ان کے ذریعہ سے اللہ نے اپنے بندوں کو وہ طریقے بتائے جن سے وہ خوش ہوتا ہے اور اپنی رحمت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ پھر انھیں کے اندر سے اس آخری رسول کی بعثت ہوئی جس نے تاریخ میں پہلی بار یہ کیا کہ کار نبوت کو ایک مکمل تاریخی نمونہ کی صورت میں قائم کر دیا۔
نبی کا پہلا کام تلاوت آیات ہے۔ آیت کے معنی نشانی کے ہیں یعنی وہ چیز تو کسی چیز کے اوپر دلیل بنے۔ انسان کی فطرت میں اور باہر کی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت کی بے شمار نشانیاں رکھ دی ہیں۔ کی صورت میں ہیں۔ پیغمبر ان اشارات کو کھولتا ہے ۔ وہ آدمی کو وہ نگاہ دیتا ہے جس سے وہ ہر چیز میں اپنے رب کا جلوہ دیکھنے لگے ، کتاب سے مراد قرآن ہے۔ نبی کا دوسرا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کی وحی کا محیط بنتا ہے اور اس کو خدا سے لے کر انسان تک پہنچاتا ہے حکمت کا مطلب ہے بصیرت ۔ جب آدمی خدا کی نشانیوں کو دیکھنے کی نظر پیدا کر لیتا ہے ، جب وہ اپنے ذہن کو قرآن کی تعلیمات میں ڈھال لیتا ہے تو اس کے اندر ایک فکری روشنی جل اٹھتی وہ اپنے آپ کو حقیقت کے ہم شعور بنا لیتا ہے۔ وہ ہر معاملہ میں اس صحیح فیصلہ تک پہنچ جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ تزکیہ کا مطلب ہے کسی چیز کو غیر موافق عناصر سے پاک کر دینا تاکہ وہ موافق فضا میں اپنے فطری کمال کو پہنچ سکے ۔ نبی کی آخری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسے انسان تیار ہوں جن کے سینے اللہ کی عقیدت کے سوا ہر عقیدت سے خالی ہوں۔ ایسی روحیں وجود میں آئیں جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہوں، ایسے افراد پیدا ہوں جو کائنات سے وہ ربانی رزق پاسکیں جو اللہ نے اپنے مومن بندوں کے لئے رکھ دیا ہے۔
اور کون ہے جو ابراہیم کے دین کو پسند کرے مگر وہ جس نے اپنے آپ کو احمق بنا لیا ہو۔ حالاں کہ ہم نے اس کو دنیا میں چن لیا تھا اور آخرت میں وہ صالحین میں سے ہوگا۔ جب اس کے رب نے کہا کہ اپنے آپ کو حوالے کر دو تو اس نے کہا: میں نے اپنے آپ کو رب العالمین کے حوالے کیا اور اسی کی نصیحت کی ابراہیم نے اپنی اولاد کو اور اسی کی نصیحت کی یعقوب نے اپنی اولاد کو۔ اے میرے بیٹو! اللہ نے تمھارے لئے اسی دین کو چن لیا ہے۔ کے سوا کسی اور حالت پر تم کو موت آئے۔ کیا تم موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا۔ جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے۔ انھوں نے کہا: ہم اسی خدا کی عبادت کریں گے جس کی عبادت آپ اور آپ کے بزرگ ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق کرتے آئے ہیں، وہی ایک معبود ہے اور ہم اس کے فرماں بردار ہیں۔ یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی۔ اس کو ملے گا جو اس نے کمایا اور تم کو ملے گا جو تم نے کمایا۔ اور تم سے ان کے کئے ہوئے کی پوچھ نہ ہوگی ۱۳۱ - ۱۳۰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت عین وہی تھی جو حضرت ابراہیم کی دعوت تھی۔ مگر یہود، جو حضرت ابراہیم کا پیرو ہونے پر فخر کرتے تھے، آپ کی دعوت کے سب سے بڑے مخالف بن گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی جس دین ابراہیم کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے وہ " اسلام"، تھا۔ یعنی اللہ کے لئے کامل حوالہگی کو قرآن کے مطابق یہی حضرت ابراہیم کا دین تھا اور اپنی اولاد کو انھوں نے اسی کی وصیت کی۔ کے برعکس یہود نے حضرت ابراہیم کی طرف جو دین منسوب کر رکھا تھا اس میں حوالہگی و سپردگی کا کوئی سوال اس میں آزادانہ زندگی گزارتے ہوئے محض سستے تخیلات کے تحت جنت کی ضمانت حاصل ہو جاتی تھی۔ پیغمبر عربی کے لائے ہوئے دین میں نجات کا دار و مدار تمام تر عمل پر نہ تھا، جب کہ یہود نے "اللہ کے مقبول بندوں کی جماعت سے وابستگی اور عقیدت کو نجات کے لئے کافی سمجھ لیا تھا۔ اول الذکر کے نزدیک دین آسمانی ہدایات کا نام تھا اور ثانی الذکر کے نزدیک محض ایک گرد ہی مجموعہ کا جو نسلی روایات اور قومی تخیلات کے تحت ایک خاص صورت میں بن گیا تھا۔
ماضی یا حال کے بزرگوں سے اپنے کو منسوب کر کے یہ اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ ہمارا انجام بھی انھیں کے ساتھ ہوگا۔ ہمارے عمل کی کمی ان کے عمل کی زیادتی سے پوری ہو جائے گی۔ یہود اس خوش فہمی کو یہاں تک لے گئے کہ انھوں نے "نجات متوارث کا عقیدہ وضع کر لیا۔ انھوں نے اپنی تمام امیدیں اپنے بزرگوں کے تقدس پر قائم کرلیں۔ مگر یہ نفسیاتی فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہر ایک کے آگے وہی آئے گا جو اس نے کیا۔ ایک سے نہ دوسرے کے جرائم کی پوچھ ہوگی اور نہ ایک کو دوسرے کی نیکیوں میں سے حصہ ملے گا۔ ہر ایک اپنے کئے کے مطابق اللہ کے یہاں بدلہ پائے گا۔ " تم نہ مرنا مگر اسلام پر"، یعنی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنے میں رکاوٹیں آئیں گی تمھاری تمناؤں کی عمارت گرے گی۔ پھر بھی تم آخر وقت تک اس پر قائم رہنا۔ الرسائل (نمبر ۱۱۹۷)
اور کہتے ہیں کہ یبندی یا نصرانی بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔ کہو کہ نہیں، بلکہ ہم تو پیروی کرتے ہیں ابراہیم کے دین کی جو اللہ کی طرف یکسو تھا اور وہ شریک کرنے والوں میں نہ تھا۔ کہو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر ایمان لائے جو ہماری طرف اتاری گئی ہے اور اس پر بھی جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد پر اتاری گئی اور جو ہوسیٰ اور عیسیٰ کو اور جو ملا سب نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔ پھر اگر وہ ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے مو تو بے شک وہ راہ پا گئے اور اگر وہ پھر جائیں تو اب وہ ضد میں ہیں۔ پس تمھاری طرف سے اللہ ان کے لیے کافی ہے اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ کہو ہم نے لیا اللہ کا رنگ اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔ کہو کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو حالاں کہ وہ ہمارا رب بھی ہے اور تمھارا رب بھی۔ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال ہیں اور ہم خالص اس کے لیے ہیں۔ کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد سب یہودی یا نصرانی کہو کہ تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ۔ اور اس سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اس گواہی کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس آئی ہوئی ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں۔ یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی ۔ اس کو ملے گا جو اس نے کمایا اور تم کو ملے گا جو تم نے کمایا۔ اور تم سے ان کے کئے ہوئے کی پوچھ نہ ہوگی ۱۴۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس دین کی طرف بلاتے تھے وہ وہی ابراہیمی دین تھا جس سے یہود و نصاریٰ اپنے کو منسوب کئے ہوئے تھے۔ پھر وہ آپ کے مخالف کیوں ہو گئے۔ وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی کی دعوت کے مطابق دین یہ تھا کہ آدمی اپنی زندگی کو اللہ کے رنگ میں رنگ لے، وہ ہر طرف سے یکسو ہو کر اللہ والا ہو جائے۔ اس کے برعکس یہود کے یہاں دین بس ایک قومی فخر کے نشان کے طور پر باقی رہ گیا تھا۔ پیغمبر عربی کی دعوت سے ان کی پر فخر نفسیات پر زد پڑتی تھی، اس لئے وہ آپ کے دشمن بن گئے۔
جو لوگ گروہی فضیلت کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ اپنے سے باہر کسی صداقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں وہ اپنے گروہ کے پیغمبرانِ خدا کو تو مانیں گے مگر اسی خدا کا ایک پیغمبر ان کے گروہ سے باہر آئے تو وہ اس کا انکار کر دیں گے۔ دین کے نام پر وہ جس چیز سے واقف ہیں وہ صرف گروہ پرستی ہے۔ اس لئے وہی شخصیتیں ان کو شخصیتیں نظر آتی ہیں جو ان کے اپنے گروہ سے تعلق رکھتی ہوں۔ مگر جس شخص کے لئے دین خدا پرستی کا نام ہو وہ خدا کی طرف سے آنے والی ہر آواز کو پہچان لے گا اور اس پر لبیک کہے گا۔ یہود کے علماء کے لئے یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ پیغمبر عربی اللہ کے آخری رسول ہیں اور ان کی دعوت سچی خدا پرستی کی دعوت ہے۔ مگر اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر انھوں نے لوگوں کے سامنے ایک ایسی حقیقت کا اعلان نہیں کیا جس کا اعلان کرنا ان کے اوپر خدا کی طرف سے فرض کیا گیا تھا۔
اب بے وقوف لوگ کہیں گے کہ مسلمانوں کو کس چیز نے ان کے قبلہ سے پھیر دیا۔ کہو کہ مشرق اور مغرب اللہ ہی وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔ اور جس قبلہ پر تم تھے، ہم نے اس کو صرف اس لئے ٹھہرایا تھا کہ ہم جان لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اس سے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ یہ بات بھاری ہے مگر ان لوگوں پر جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو ضائع بے شک اللہ لوگوں کے ساتھ شفقت کرنے والا مہربان ہے۱۴۳-۱۴۲ قبلہ کا تعلق مظاہر عبادت سے ہے نہ کہ حقیقت عبادت سے۔ قبلہ کا اصل مقصد عبادت کی تنظیم کے لئے ایک عمومی رخ کا تعین کرنا ہے۔ ہر سمت اللہ کی سمت ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لئے جو سمت بھی مقرر کردے وہی اس کی پسندیدہ عبادتی سمت ہوگی، خواہ وہ مشرق کی طرف ہو یا مغرب کی طرف۔ مگر لمبی مدت تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے عبادت کرنے کی وجہ سے قبلہ اول کو تقدس حاصل ہو گیا تھا۔ چنانچہ ۵۳ ھ میں جب قبلہ کی تبدیلی کا اعلان ہوا تو بہت سے لوگوں کے لئے اپنے ذہن کو اس کے مطابق بنانا مشکل ہو گیا۔ یہود نے اس کو بہانہ بنا کر آپ کے خلاف طرح طرح کی باتیں پھیلانی شروع کیں۔ بیت المقدس ہمیشہ سے نبیوں کا قبلہ رہا ہے۔ پھر اس کی مخالفت کیوں ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ساری تحریک یہود کی ضد میں چلائی جارہی ہے۔ کوئی کہتا کہ یہ مدعی رسالت خود اپنے مشن کے بارے میں متحیر و متردد ہیں، کبھی کعبہ کی طرف رخ کر کے عبادت کرنے کو کہتے ہیں اور کبھی بیت المقدس کی طرف کسی نے کہا: اگر کعبہ ہی اصل قبلہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے جو مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے ان کی نمازیں بے کار گئیں، وغیرہ۔ مگر جو سچے خدا پرست تھے ، جو مظاہر میں اٹکے ہوئے نہیں تھے ، ان کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ اصل چیز قبلہ کی سمت نہیں ، اصل چیز خدا کا حکم ہے۔ اللہ کی طرف سے جس وقت جو حکم آجائے وہی اس وقت کا قبلہ ہوگا۔ روایات میں آتا ہے کہ ہجرت کے تقریباً سترہ ماہ بعد جب قبلہ کی تبدیلی کا حکم آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ میں نماز ادا کر رہے تھے۔ حکم معلوم ہوتے ہی آپ نے اور مسلمانوں نے عین حالت نماز میں اپنا رخ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف کر لیا۔ یعنی شمال سے جنوب کی طرف۔ قبلہ کی تبدیلی ایک علامت تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو امامت سے معزول کر کے امت محمدی کو اس کی جگہ مقرر کر دیا ہے۔ اب قیامت تک بیت المقدس کے بجائے کعبہ خدا کے دین کی دعوت اور خدا پرستوں کے باہمی اتحاد کا عالمی مرکز ہو گا۔ "وسط" کے معنی بیچ کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اللہ کے پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچانے کے لئے درمیانی وسیلہ ہیں۔ اللہ کا پیغام رسول کے ذریعہ ان کو پہنچا ہے۔ اب اس پیغام کو انھیں قیامت تک تمام قوموں کو پہنچاتے رہنا ہے، اسی پر دنیا میں بھی ان کے مستقبل کا انحصار ہے اور اسی پر آخرت کا بھی۔
ہم تمھارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ پس ہم تم کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس کو تم پسند کرتے ہو، اب اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیر دو۔ اور تم جہاں کہیں بھی ہو، اپنے رُخ کو اسی کی طرف کرو۔ اور اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ان کے رب کی جانب سے ہے۔ اور اللہ بے خبر نہیں اس سے جو وہ کر رہے ہیں اور اگر تم ان اہل کتاب کے سامنے تمام دلیلیں پیش کر دو تب بھی وہ تمھارے قبلہ کو نہ مانیں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کر سکتے ہو۔ اور نہ وہ خود ایک دوسرے کے قبلہ کو مانتے ہیں۔ اور اس علم کے بعد جو تمھارے پاس آچکا ہے، اگر تم ان کی خواہشوں کی پیروی کرو گے تو یقیناً تم ظالموں میں ہو جاؤ گے جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ اور ان میں سے ایک گروہ حق کو چھپا رہا ہے حالانکہ وہ اس کو جانتا ہے۔ حق وہ ہے جو تیرارب کہے۔ پس تم ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ جن امور میں ابھی وحی نہ آئی ہو ان میں آپ پچھلے انبیاء کے طریقہ کی پیروی کرتے تھے۔ اسی بنا پر آپ نے ابتداً بیت المقدس کو قبلہ بنایا تھا جو حضرت سلیمان کے زمانہ سے بنی اسرائیل کے پیغمبروں کا قبلہ رہا ہے۔ یہود کو جب اللہ تعالیٰ نے دین کی امامت و پیشوائی سے معزول کیا تو اس کے بعد یہ بھی ضروری ہو گیا کہ دین کو یہود کی روایات سے جدا کر دیا جائے تاکہ خدا کا دین ہر اعتبار سے اپنی خالص شکل میں نمایاں ہو سکے۔ اسی مصلحت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبدیلی قبلہ کے حکم کا انتظار چنانچہ ہجرت کے دوسرے سال یہ حکم آگیا۔ یہود کے انبیاء جو یہود کو خبر دار کرنے کے لئے آئے ، وہ پہلے ہی اس فیصلہ الہی کی بابت یہود کو بتا چکے تھے اور ان کے علماء اس معاملہ کو اچھی طرح جانتے تھے۔ تاہم ان میں صرف چند لوگ (جیسے عبد اللہ بن سلام اور مخیریق رضی اللہ عنہما) ایسے نکلے جنہوں نے آپ کی تصدیق کی اور اس بات کا اقرار کیا کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے دین کا اظہار فرمایا ہے۔ یہود کے نہ ماننے کی وجہ محض ان کی خواہش پرستی وہ جن گروہی خوش خیالیوں میں جی رہے تھے ، ان سے وہ نکلنا نہیں چاہتے تھے۔ اور جو انکار محض خواہش پرستی کی بنا پر پیدا ہو اس کو توڑنے میں کبھی کوئی دلیل کامیاب نہیں ہوتی۔ ایسا آدمی دلائل کے انکار سے اپنے لئے وہ رزق حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کے خالق نے صرف دلائل کے اعتراف میں رکھا ہے۔
اللہ کی طرف سے جب کسی امر حق کا اعلان ہوتا ہے تو وہ ایسے قطعی دلائل کے ساتھ ہوتا ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ اس کی صداقت کو پہچاننے سے عاجز نہ رہے۔ ایسی حالت میں جو لوگ شبہ میں پڑیں وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ خدا سے آشنا نہ تھے اس لئے وہ خدا کی بولی کو پہچان نہ سکے۔ اسی طرح وہ لوگ جو حق کے خلاف کچھ الفاظ بول کر سمجھتے ہیں کہ انھوں نے حق کا اعتراف نہ کرنے کے لئے مضبوط استدلالی سہارے دریافت کر لئے ہیں، بہت جلد ان کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ محض فرضی سہارے تھے جو ان کے نفس نے اپنی جھوٹی تسکین کے لئے وضع کر لئے تھے۔
ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے جدھر وہ منھ کرتا ہے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف دوڑو۔ تم جہاں کہیں ہو گے اللہ تم سب کو لے آئے گا۔ بے شک اللہ سب کچھ کر سکا ہے۔ اور تم جہاں سے بھی نکلو اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کرو۔ یہ حق ہے، تمہارے رب کی طرف سے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں۔ اور تم جہاں سے بھی نکلو اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کرو اور تم جہاں بھی ہو اپنے رخ اسی کی طرف رکھو تا کہ لوگوں کو تمہارے اوپر کوئی حجت باقی نہ رہے، سوا ان لوگوں کے جو ان میں بے انصاف ہیں۔ پس تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ اور تاکہ میں اپنی نعمت تمہارے اوپر پوری کر دوں۔ اور تاکہ تم راہ پا جاؤ۔ جس طرح ہم نے تمہارے درمیان ایک رسول تم ہی میں سے بھیجا جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور تم کو پاک کرتا ہے اور تم کو کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اور تم کو وہ چیزیں سکھا رہا ہے جن کو تم نہیں جانتے تھے۔ پس تم مجھے کو یاد رکھو میں تم کو یاد رکھوں گا۔ احسان مانو، میری ناشکری مت کرو ۱۵۲ - ۱۲۸ کعبہ کو قبلہ مقرر کیا گیا تو یہودیوں اور عیسائیوں نے اس قسم کی بحثیں چھیڑ دیں کہ مغرب کی سمت خدا کی سمت ہے یا مشرق کی سمت۔ وہ اس مسئلہ کو بس رخ بندی کے مسئلہ کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے۔ مگر یہ ان کی نا سمجھی تھی۔ کعبہ کو قبلہ مقرر کرنے کا معاملہ سادہ طور پر ایک عبادتی رخ مقرر کرنے کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک علامت تھی کہ اللہ کے بندوں کے لئے اس سب سے بڑے خیر کے اترنے کا وقت آگیا ہے جس کا فیصلہ بہت پہلے کیا جا چکا تھا۔ یہ ابراہیم (علیہما السلام) کی دعا کے مطابق نبی آخر الزماں کا ظہور ہے۔ اب وہ آنے والا آگیا ہے جو انسان کے اوپر اللہ کی ابدی ہدایت کا دروازہ کھولے اور اس کی نعمت ہدایت کو آخری حد تک کامل کر دے ۔ جو دین اللہ کی طرف سے بار بار بھیجا جاتا رہا مگر انسانوں کی غفلت و سرکشی سے ضائع ہوتا رہا، اس کو اس کی پوری صورت میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دے۔ خدا کا دین جواب تک محض روایتی افسانہ بنا ہوا تھا اس کو ایک حقیقی واقعہ کی حیثیت سے انسانی تاریخ میں شامل کر دے۔ وہ دین جس کا کوئی مستقل نمونہ قائم نہیں ہو سکتا تھا اس کو ایک زندہ عملی نمونہ کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے رکھ دے۔ یہ ہدایت الہی کی تکمیل کا معاملہ ہے نہ کہ مختلف سمتوں میں سے کوئی زیادہ "مقدس سمت" مقرر کرنے کا۔
کعبہ کی تعمیر کے وقت ہی یہ مقدر ہو چکا تھا کہ آخری رسول کے ذریعہ جس دین کا ظہور ہوگا اس کا مرکز کعبہ ہوگا پچھلے انبیاء لوگوں کو مسلسل اس کی خبر دیتے رہے۔ اس طرح اللہ کی طرف سے کعبہ کو تمام قوموں کے لئے قبلہ مقرر کرنا گویا نبی آخر الزماں کی حیثیت کو ثابت شدہ بنانا تھا۔ اب جو سنجیدہ لوگ ہیں ان کے لئے اللہ کا یہ اعلان آخری حجت ہے۔ اور جو لوگ آخرت سے بے خوف ہیں ان کی زبان کو کوئی بھی چیز رکنے والی ثابت نہیں ہو سکتی۔ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہی ہدایت کا راستہ پاتے ہیں۔ اللہ کو یاد رکھنا ہی کسی کو اس کا مستحق بناتا ہے کہ اللہ اس کو یاد رکھے۔ اللہ سے خوف رکھنا ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ اللہ اس کو دوسری تمام چیزوں سے بے خوف کر دے۔
اے ایمان والو، صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو مروہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تم کو خبر نہیں۔ اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔ ۱۵۴ - ۱۵۳ دین یہ ہے کہ آدمی اپنے خالق کو اس طرح پالے کہ اس کی یاد میں اور اس کی شکر گزاری میں اس کے صبح و شام بسر ہونے لگیں۔ اس قسم کی زندگی ہی تمام خوشیوں اور لذتوں کا خزانہ ہے۔ مگر یہ خوشیاں اور لذتیں اپنی حقیقی صورت میں آدمی کو صرف آخرت میں ملیں گی۔ موجودہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے انعام کے لئے نہیں بنایا بلکہ امتحان کے لئے بنایا ہے، یہاں ایسے حالات رکھے گئے ہیں کہ خدا پرستی کی راہ میں آدمی کے لئے رکاوٹیں پڑیں تاکہ معلوم ہو کہ کون اپنے اظہار ایمان میں سنجیدہ ہے اور کون سنجیدہ نہیں ـــــــ نفس کے محرکات، بیوی بچوں کے تقاضے، دنیا کی مصلحتیں، شیطان کے وسوسے، سماجی حالات کا دباؤ، یہ چیزیں فتنہ کی صورت میں آدمی کو گھیرے رہتی آدمی کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ ان فتنوں کو پہچانے اور ان سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے ذکر وشکر کے تقاضے پورا کرے۔
ان امتحانی مشکلات کے مقابلہ میں کامیابی کا واحد ذریعہ نماز اور صبر ہے۔ یعنی اللہ سے لپٹنا اور ہر قسم کی ناخوش گواریوں کو برداشت کرتے ہوئے بالارادہ حق کے راستہ پر جمے رہنا۔ جو لوگ ناموافق حالات سامنے آنے کے باوجود نہ بدکیں اور بظاہر غیر اللہ میں نفع دیکھتے ہوئے اللہ کے ساتھ اپنے کو باندھے رہیں وہی دہ لوگ ہیں جو سنت الہی کے مطابق کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے۔
حق کی راہ میں مشکلات و مصائب کا دوسرا سبب مومن کا تبلیغی کردار ہے۔ تبلیغ و دعوت کا کام نصیحت اور تنقید کا کام ہے۔ اور نصیحت اور تنقید ہمیشہ آدمی کے لئے سب سے زیادہ مبغوض چیز رہی ہے، ان میں بھی نصیحت سننے کے لئے سب سے زیادہ حساس وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے دنیا کے کاروبار کو دین کے نام پر کر رہے ہوں۔ کی ذات اور اس کے پیغام میں ایسے تمام لوگوں کو اپنی حیثیت کی نفی نظر آنے لگتی ہے۔ داعی کا وجود ایک ایسی ترازو بن جاتا ہے جس پر ہر آدمی تل رہا ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ داعی بنا پھٹڑ کے چھتہ میں ہاتھ ڈالنے کے ہم معنی بن جاتا ایسا آدمی اپنے ماحول کے اندر بے جگہ کر دیا جاتا ہے۔ اس کی معاشیات برباد ہو جاتی ہے۔ اس کی ترقیوں کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ حتی کہ اس کی جان تک خطرہ میں پڑ جاتی ہے۔ مگر وہی آدمی راہ پر ہے جس کو بے راہ بتا کر ستایا جائے۔ وہی پاتا ہے جو اللہ کی راہ میں کھوئے۔ وہی جی رہا ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان دے دے۔ آخرت کی جنت اسی کے لئے ہے جو اللہ کی خاطر دنیا کی جنت سے محروم ہو گیا ہو۔
صفا و مروہ بے شک اللہ کی یادگاروں میں سے ہیں۔ پس جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ ان کا طواف کرے اور جو کوئی شوق سے کچھ نیکی کرے تو اللہ قدر داں ہے، جاننے والا ہے۔ چھپاتے ہیں ہماری اتاری ہوئی کھلی نشانیوں کو اور ہماری ہدایت کو، بعد اس کے کہ ہم اس کو لوگوں کے لیے کتاب میں کھول چکے ہیں تو وہی لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور ان پر لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔ جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کرلی اور بیان کیا تو ان کو میں معاف کردوں گا اور میں ہوں معاف کرنے والا، بے شک جن لوگوں نے انکار کیا اور اسی حال میں مر گئے تو وہی لوگ ہیں کہ ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور آدمیوں کی سب کی لعنت ہے۔ اسی حال میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ ان پر سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ ان کو ڈھیل دی جائے گی۔ ۱۵۸ - ۱۶۲ حضرت ابراہیم کا وطن عراق تھا۔ اللہ کے حکم سے وہ اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کو لا کر اس مقام پر چھوڑ گئے جہاں آج مکہ ہے۔ اس وقت یہاں نہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ پیاس کا تقاضا ہوا تو ہاجرہ پانی کی تلاش میں نکلیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ صفا اور مروہ نامی پہاڑیوں کے درمیان دوڑتی رہیں۔ سات چکر لگانے کے بعد ناکام لوٹیں تو دیکھا کہ ان کی قیام گاہ کے پاس ایک چشمہ پھوٹ نکلا ہے۔ یہ چشمہ بعد کو زمزم کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو بتاتا ہے کہ اللہ کا معاملہ اپنے بندوں سے کیا ہے۔ اللہ کا کوئی بندہ اللہ کی راہ میں ٹھہرتے ہوئے اس حد تک چلا جائے کہ اس کے قدموں کے نیچے ریگستان اور بیابان کے سوا کچھ نہ رہے تو اللہ اپنی قدرت سے ریگستان میں اس کے لئے رزق کے چشمے جاری کردے گا ۔ حج اور عمرہ میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا مقصد اسی تاریخ کی یاد کو تازہ کرنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات میں اللہ کی نشانیاں اتنی واضح تھیں کہ یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ آپ کی زبان پر اللہ کا کلام جاری ہوا ہے۔ مگر یہودی علماء نے آپ کا اقرار نہیں کیا۔ ان کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ پیغمبر عربی کو مان لیں تو ان کی مذہبی بڑائی ختم ہو جائے گی۔ ان کی جمی ہوئی تجارتیں اجڑ جائیں گی۔ اپنی کامیابی کا راز انھوں نے حق کو چھپانے میں سمجھا، حالاں کہ ان کی کامیابی کاراز حق کے اعلان میں تھا۔ حق کی طرف بڑھنے میں وہ اپنے آپ کو بے زمین ہوتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہی وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ جو بندہ حق کی خاطر بے زمین ہو جائے وہ سب سے بڑی زمین کو پا لیتا ہے، یعنی اللہ رب العالمین کی نصرت کو۔
تاہم اللہ کی رحمت کا دروازہ آدمی کے لئے ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ ابتدائی طور پر غلطی کرنے کے بعد اگر آدمی کو ہوش آجائے اور وہ پلٹ کر صحیح رویہ اختیار کرلے۔ وہ اس امر حق کا اعلان کرے جس کو اللہ چاہتا ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے تو اللہ اس کو معاف کردے گا۔ مگر جو لوگ عدم اعتراف پر قائم رہیں اور اسی حال میں مر جائیں تو وہ اللہ کی رحمتوں سے دور کر دئے جائیں گے۔
اور تمھار ا معبود ایک ہی معبود ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ بڑا مسببان ہے ، نہایت رحم والا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں اور ان کشتیوں میں جو انسانوں کے کام آنے والی چیزیں لے کر سمندر میں چلتی ہیں اور اس پانی میں جس کو اللہ نے آسمان سے اتارا۔ پھر اس سے مردہ زمین کو اور اس نے زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلا دئے۔ اور ہواؤں کی گردش میں اور بادلوں میں جو آسمان و زمین کے درمیان حکم کے تابع ہیں، ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں ۔ انسان کا خدا ایک ہی خدا ہے اور وہی اس قابل ہے کہ وہ انسان کی توجہات کا مرکز بنے۔ اور وہ سب کچھ جو ہم کو زمین پر حاصل ہے وہ اسی لئے ہے کہ ہمارا یہ خدا رحمتوں اور مہربانیوں کا خزانہ ہے۔ کو چاہئے کہ اس کو حقیقی معنوں میں اپنا معبود بنائے۔ وہ اسی کے لئے جئے اور اسی کے لئے مرے اور اپنی تمام امیدوں اور تمناؤں کو ہمیشہ کے لئے اسی کے ساتھ وابستہ کر دے۔ جس طرح ایک چھوٹا بچہ اپنا سب کچھ صرف اپنی ماں کو سمجھتا ہے اسی طرح خدا انسان کے لئے اس کا سب کچھ بن جائے۔
ہمارے سامنے پھیلی ہوئی کائنات اللہ کا ایک عظیم الشان تعارف ہے۔ زمین و آسمان کی صورت میں ایک اتھاہ کارخانہ کا موجود ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ضرور اس کا کوئی بنانے والا ہے۔ طرح طرح کے ظاہری اختلاف اور تضاد کے باوجود تمام چیزوں کا حد درجہ ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ثابت کرتا ہے کہ اس کا خالق و مالک صرف ایک ہے۔ کائنات کی چیزوں میں نفع بخشی کی صلاحیت ہونا گویا اس بات کا اعلان ہے کہ اس کی منصوبہ بندی کامل شعور کے تحت بالارادہ کی گئی ہے۔ بظاہر بے جان چیزوں میں قدرتی عمل سے جان اور تازگی کا آجانا بتاتا ہے کہ کائنات میں موت محض عارضی ہے، یہاں ہر موت کے بعد لازماً دوسری زندگی آتی ہے۔ ایک ہی پانی اور ایک ہی خوراک سے قسم قسم کے جانداروں کا ان گنت تعداد میں پایا جانا اللہ کی بے حساب قدرت کا پتہ دیتا ہے۔ کا مکمل طور پر انسان کو اپنے گھیرے میں لئے رہنا بتاتا ہے کہ انسان پوری طرح اپنے خالق کے قبضہ میں ہے۔ کی تمام چیزوں کا انسانی ضرورت کے مطابق سدھا ہوا ہونا ثابت کرتا ہے کہ انسان کا خالق ایک بے حد مہربان ہستی ہے، وہ اس کی ضروریات کا اہتمام اس وقت سے کر رہا ہوتا ہے جب کہ اس کا وجود بھی نہیں ہوتا۔ کائنات میں اس قسم کی نشانیاں گویا مخلوقات کے اندر خالق کی جھلکیاں ہیں۔ وہ اللہ کی ہستی کا، اس کے ایک ہونے کا، اس کے تمام صفات کمال کا جامع ہونے اتنے بڑے پیمانہ پر اظہار کر رہی ہیں کہ کوئی آنکھ والا اس کو دیکھنے سے محروم نہ رہے اور کوئی عقل والا اس کو پانے سے عاجز نہ ہو۔ دلائل کو وہی شخص پاتا ہے جو دلائل پر غور کرتا ہو۔ وہ سچائی کو جاننے کے معاملہ میں سنجیدہ ہو۔ وہ مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر رائے قائم وہ ظاہری چیزوں میں الجھ کر نہ رہ گیا ہو بلکہ ظاہری چیزوں کے پیچھے چھپی ہوئی باطنی حقیقت کو جاننے کا حریص ہو۔
اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہئے۔ اور جو ایمان والے ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب کو دیکھیں گے کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔ جب کہ وہ لوگ جن کے کہنے پر دوسرے چلتے تھے ان لوگوں سے الگ ہو جائیں گے جو ان کے کہنے پر چلتے تھے۔ عذاب ان کے سامنے ہوگا اور ان کے سب طرف کے رشتے ٹوٹ چکے ہوں گے۔ وہ لوگ جو پیچھے چلے تھے کہیں گے کاش ہم کو دنیا کی طرف لوٹنا مل جاتا تو ہم بھی ان سے الگ ہو جاتے جیسے یہ ہم سے الگ ہو گئے۔ طرح اللہ ان کے اعمال کو انھیں حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ آگ سے نکل نہ سکیں گے ۱۶۷-۱۶۵ آدمی اپنی فطرت اور اپنے حالات کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ ایک خارجی سہارا چاہتا ہے، ایک ایسی ہستی جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے، اور اس کے لئے اعتماد و یقین کی بنیاد ہو۔ کسی کو اس حیثیت سے اپنی زندگی میں شامل کرنا اس کو اپنا معبود بنانا ہے۔ جب آدمی کسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے محبت و عقیدت کے جذبات اس کے لئے خاص ہو جاتے ہیں۔ آدمی عین اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے کہ کسی سے حُبّ شدید کرے، اور جس سے کوئی حب شدید کرے وہی اس کا معبود ہے۔ دنیا میں چوں کہ خدا نظر نہیں آتا اس لئے ظاہر پرست انسان عام طور پر نظر آنے والی ہستیوں میں سے کسی ہستی کو وہ مقام دے دیتا ہے جو دراصل خدا کو دینا چاہئے۔ یہ ہستیاں اکثر وہ سردار یا پیشوا ہوتے ہیں جو کسی ظاہری خصوصیت کی بنا پر لوگوں کا مرجع بن جاتے ہیں۔ آدمی کی فطرت کا خلا جو حقیقتہً اس لئے تھا کہ اس کو رب العالمین سے پُر کیا جائے وہاں وہ کسی سردار یا پیشوا کو بٹھا لیتا ہے۔
ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ کسی انسان کے گرد کچھ ظاہری رونق دیکھ کر لوگ اس کو ”بڑا“ سمجھ لیتے ہیں۔ اپنے غیر معمولی شخصی اوصاف سے لوگوں کو متاثر کر لیتا ہے۔ کوئی کسی گدی پر بیٹھ کر سیکڑوں سال کی روایات کا وارث بن جاتا ہے۔ کسی کے یہاں انسانوں کی بھیڑ دیکھ کر لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ وہ عام انسانوں سے بلند تر کوئی انسان ہے۔ کسی کے گرد پُر اسرار کہانیوں کا ہالہ تیار ہو جاتا ہے اور سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ غیر معمولی قوتوں کا مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا کی اس کائنات میں خدا کے سوا کسی کو کوئی زور یا بڑائی حاصل نہیں۔ انسان کو خدا کا درجہ دینے کا کاروبار اسی وقت تک ہے، جب تک خدا ظاہر نہیں ہوتا۔ خدا کے ظاہر ہوتے ہی صورت حال اس قدر بدل جائے گی کہ بڑے اپنے چھوٹوں سے بھاگنا چاہیں گے اور چھوٹے اپنے بڑوں سے۔ وابستگی جس پر آدمی دنیا میں فخر کرتا تھا، جس سے وفاداری اور شیفتگی دکھا کر آدمی سمجھتا تھا کہ اس نے سب سے بڑی چٹان کو پکڑ رکھا ہے وہ آخرت کے دن اس طرح بے معنی ثابت ہوگی جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہ ہو۔ آدمی اپنی گزری ہوئی زندگی کو حسرت کے ساتھ دیکھے گا اور کچھ نہ کر سکے گا۔
زمین کی چیزوں میں سے حلال اور ستھری چیزیں کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر مت چلو، بے شک وہ تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ وہ تم کو صرف برے کام اور بے حیائی کی تلقین کرتا ہے اور اس بات کی کہ تم اللہ کی طرف وہ باتیں منسوب کرو جن کے بارے میں تم کو کوئی علم نہیں۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس پر چلو جو اللہ نے اتارا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اس صورت میں بھی کہ ان کے باپ دادا نہ عقل رکھتے ہوں اور نہ سیدھی راہ جانتے ہوں۔ اور ان منکروں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسے جانور کے پیچھے چلا رہا ہو جو بلانے اور پکارنے کے سوا اور کچھ نہیں سنتا۔ یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے وہ کچھ نہیں سمجھتے ۱۷۱ - ۱۷۸ شرک کیا ہے، جذباتِ عبودیت کی تسکین کے لئے خدا کے سوا کوئی دوسرا مرکز بنا لینا۔ خدا انسان کی سب سے بڑی اور لازمی ضرورت ہے۔ خدا کی طلب انسانی فطرت میں اس طرح بسی ہوئی ہے کہ کوئی شخص خدا کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ انسان کی گم راہی خدا کو چھوڑنا نہیں ہے بلکہ اصلی خدا کی جگہ کسی فرضی خدا کو اپنا خدا بنا لینا ہے۔ اس لئے شریعت میں ہر اس چیز کو حرام قرار دیا گیا ہے جو کسی بھی درجہ میں آدمی کی فطری طلب کو اللہ کے سوا کسی اور طرف موڑ دینے والی ہو۔
بت پرست قومیں بتوں کے نام پر جانور چھوڑتی ہیں اور ان جانوروں کو کھانا یا ان سے نفع اٹھانا حرام سمجھتی ہیں۔ جدید تہذیب میں بھی یہ رسم "قومی پرند" اور "قومی جانور" جیسی صورتوں میں رائج ہے۔ اس طرح کسی چیز کو اپنے لئے حرام کر لینا محض ایک سادہ قانونی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ کیوں کہ جب ایک چیز کو اس طرح حرام ٹھہرایا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کسی خود ساختہ عقیدہ کی وجہ سے اس کو مقدس سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ خدا کے حقوق میں غیر خدا کو ساجھی بنانا ہے، یہ احترام و تقدس کے ان فطری جذبات کو تقسیم کرنا ہے جو صرف خدا کے لئے ہیں اور جن کو صرف خدا ہی کے لئے ہونا چاہئے۔ شیطان اس قسم کے رواج اس لئے ڈالتا ہے تاکہ آدمی کے اندر چھپے ہوئے استجاب و تقدس کے جذبات کو مختلف سمتوں میں بانٹ کر اللہ کے ساتھ اس کے تعلق کو کمزور کر دے۔
ایک بار جب کسی غیر اللہ کو مقدس مان لیا جائے تو انسان کی توہم پرستی اس میں نئی نئی برائیاں پیدا کرتی رہتی ایک "جانور" کو ان پر اسرار اوصاف کا حامل گمان کر لیا جاتا ہے جو صرف خدا کے لئے خاص ہیں۔ خدا کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس سے برکت اور کار برآری کی امید کی جاتی ہے۔ یہ چیز جب اگلی نسلوں تک پہنچتی ہے تو وہ اس کو آبا و اجداد کی مقدس سنت سمجھ کر اس طرح پکڑ لیتی ہیں کہ اب اس پر کسی قسم کا غور وفکر ممکن نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ لوگ دلیل کی زبان سمجھنے سے اتنا زیادہ عاری ہو جاتے ہیں گویا کہ ان کے پاس نہ آنکھ اور کان ہیں جن سے وہ دیکھیں اور سنیں اور نہ ان کے پاس دماغ ہے جس سے وہ کسی بات کو سمجھیں۔
اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی پاک چیزوں کو کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اس کی عبادت کرنے والے ہو۔ اللہ نے تم پر حرام کیا ہے صرف مردار کو اور خون کو اور سور کے گوشت کو۔ اور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا پھر جو شخص مجبور ہو جائے، وہ نہ خواہش مند ہو اور نہ حد سے آگے بڑھنے والا ہو تو اس پر کوئی گناہ بے شک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ جو لوگ اس چیز کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں اتاری ہے اور اس کے بدلے میں تھوڑا مول لیتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں صرف آگ بھر رہے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ نہ ان سے ہم کلام ہو گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کا سودا کیا اور بخشش کے بدلے عذاب کا، تو کیسی سہا رہے ہیں ان کو آگ کی۔ یہ اس لئے کہ اللہ نے اپنی کتاب کو ٹھیک ٹھیک اتارا، مگر جن لوگوں نے کتاب میں کُئی راہیں نکال لیں وہ ضد میں دور جاپڑے ۔ کھانے پینے کی چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے جو احساسات آدمی کے اندر ابھرنے چاہئیں وہ تشکر اور اطاعت الہی کے احساسات ہیں۔ یعنی یہ کہ "ہم اللہ کی دی ہوئی چیز کو اللہ کے حکم کے مطابق کھا رہے ہیں" یہ احساس آدمی کے اندر خدا پرستی کا جذبہ ابھارتا ہے۔ مگر خود ساختہ طور پر جو عقیدے بنائے جاتے ہیں اس میں یہ نفسیات بدل جاتی ہیں۔ اب انسان کی توجہ چیزوں کے مفروضہ خواص کی طرف لگ جاتی ہے ۔ جن چیزوں کو پا کر اللہ کے شکر کا جذبہ ابھرتا ان سے خود ان چیزوں کے احترام و تقدس کا جذبہ ابھرتا ہے۔ آدمی مخلوق کو خالق کا درجہ دے دیتا ہے کسی چیز کے حرام ہونے کی بنیاد اس کا مفروضہ تقدس یا اس کے بارے میں توہماتی عقائد نہیں ہیں۔ بلکہ اس کے اسباب بالکل دوسرے یہ کہ وہ چیزیں ناپاک ہوں اور شریعت نے ان کی ناپاکی کی تصدیق کی ہو۔ جیسے مردار ، خون، سور۔ یا خدا کے پیدا کئے ہوئے جانور کو خدا کے سوا کسی اور نام پر ذبح کرنا، وغیرہ۔ اضطرار کی حالت میں آدمی حرام کو کھا سکتا ہے۔ جبکہ بھوک یا بیماری یا حالات کا کوئی دباؤ آدمی کو اس کے استعمال پر مجبور کر دے۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ آدمی حرام چیز کو رغبت سے نہ کھائے اور نہ اس کو واقعی ضرورت سے زیادہ لے۔
اس قسم کے توہماتی عقائد جب عوامی مذہب بن جائیں تو علماء کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اس کے بارے میں اللہ کا حکم جانتے ہوئے بھی وہ اس کے اعلان سے ڈرنے لگتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس طرح وہ عوام سے کٹ جائیں گے جن کے درمیان مقبولیت حاصل کر کے وہ "بڑے" بنے ہوئے ہیں۔ گم راہ عوام سے مصلحت اگرچہ دنیا میں ان کو عزت اور دولت دے دیتی ہے مگر اللہ کی نظر میں ایسے لوگ بد ترین مجرم ہیں۔ حق کو مصلحت کی خاطر چھپانا ان لغزشوں میں نہیں ہے جن سے آخرت میں اللہ درگزر فرمائے گا۔ یہ وہ جرائم ہیں جو آدمی کو اللہ کی نظر عنایت سے محروم کر دیتے ہیں۔ ان میں بھی زیادہ برے وہ لوگ ہیں جن کے سامنے حق پیش کیا جائے اور وہ اعتراف کرنے کے بجائے اس میں بے معنی بحثیں نکالنے لگیں۔ ایسے لوگوں کے اندر ضد کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے اور بالآخر وہ حق سے اتنا دور ہو جاتے ہیں کہ کبھی اس کی طرف نہیں لوٹتے ۔
نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ پورب اور پچھم کی طرف کرو۔ بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتاب پر اور پیغمبروں پر۔ اور مال دے اللہ کی محبت میں رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں۔ اور نماز قائم کرے اور زکواۃ ادا کرے اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور صبر کرنے والے سختی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت یہی لوگ ہیں جو سچے نکلے اور یہی ہیں ڈر رکھنے والے ١۷۷ یہود نے مغرب کو اپنا قبلہ عبادت بنایا تھا اور نصاریٰ نے مشرق کو۔ دونوں اپنی اپنی سمت کو مقدس سمجھتے دونوں کو بھروسہ تھا کہ انھوں نے خدا کی مقدس سمت کو اپنا قبلہ بنا کر خدا کے یہاں اپنا درجہ محفوظ کر لیا ہے۔ خدا پرستی یہ نہیں ہے کہ آدمی کسی مقدس ستون کو تھام لے۔ خدا پرستی یہ ہے کہ آدمی خود اللہ کے دامن کو پکڑ لے۔ عمل کی اگر چہ ایک ظاہری صورت ہوتی ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ اس اللہ کو پالینا ہے جو زمین و آسمان کا نور ہے، جو آدمی کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ اللہ کے یہاں جو چیز کسی کو مقبول بناتی ہے وہ کسی قسم کی ظاہری چیزیں نہیں بلکہ وہ عمل ہے جو آدمی اپنے پورے وجود کے ساتھ خالص اللہ کے لئے کرتا ہے۔ اللہ کا مقبول بندہ وہ ہے جو اللہ کو اس طرح پالے کہ اللہ اس کی پوری ہستی میں اتر جائے۔ وہ آدمی کے شعور میں شامل ہو جائے۔ کی کمائیوں کا مالک بن جائے۔ وہ اس کی یادوں میں سما جائے۔ وہ اس کے کردار پر چھا جائے۔ آدمی اپنے رب کو اس طرح پکڑ لے کہ سخت ترین وقتوں میں بھی اس کی رسی اس کے ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔ اللہ کا حق اس کی سچی وفاداری سے ادا ہوتا ہے نہ کہ محض ادھر یا ادھر رخ کر لینے سے۔
اللہ پر ایمان لانا یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اپنا سب کچھ بنالے۔ آخرت کے دن پر ایمان یہ ہے کہ آدمی دنیا کے بجائے آخرت کو زندگی کا اصل مسئلہ سمجھنے لگے۔ فرشتوں پر ایمان یہ ہے کہ وہ خدا کے ان کارندوں کو مانے جو خدا کے حکم کے تحت دنیا کا انتظام چلا رہے ہیں۔ کتاب پر ایمان یہ ہے کہ آدمی یہ یقین کرے کہ اللہ نے انسان کے لئے اپنا ہدایت نامہ بھیجا ہے جس کی اسے لازماً پابندی کرنی ہے۔ پیغمبروں پر ایمان یہ ہے کہ اللہ کے ان بندوں کو اللہ کا نمائندہ تسلیم کیا جائے جن کو اللہ نے اپنا پیغام پہنچانے کے لئے چُنا۔ پھر یہ ایمانیات آدمی کے اندر اتنی گہری اتر جائیں کہ وہ اللہ کی محبت اور شوق میں اپنا مال ضرورت مندوں کو دے اور انسانوں کو مصیبت سے چھڑائے۔ نماز قائم کرنا اللہ کے آگے ہمہ تن جھک جانا ہے۔ زکواۃ ادا کرنا اپنے مال میں خدا کے مستقل حصہ کا اقرار کرنا ہے۔ ایسا بندہ جب کوئی عہد کرتا ہے تو اس کے بعد وہ اس سے پھرنا نہیں جانتا۔ کیوں کہ وہ ہر عہد کو خدا سے کیا ہوا عہد سمجھتا ہے۔ اس کو اللہ کے اوپر اتنا بھروسہ ہو جاتا ہے کہ تنگی اور مصیبت ہو یا جنگ کی نوبت آجائے ، ہر حال میں وہ خدا پرستی کے راستہ پر جما رہتا ہے۔ یہ اوصاف جس کے اندر پیدا ہو جائیں وہی سچا مومن ہے اور سچا مومن اللہ سے اندیشہ رکھنے والا ہوتا ہے نہ کہ کسی جھوٹے سہارے پر اعتماد کرکے اس سے نڈر ہو جانے والا۔