Al-Risala · November 1979

اسلامی زندگی

Al-Risala, November 1979, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اسلامی زندگی کا وجود میں آنا ایسا ہی ہے جیسے ایک درخت کا وجود میں آنا۔ ایک ہرا بھرا درخت زمین پر اس وقت کھڑا ہوتا ہے جب کہ اس نے اپنے آپ کو پوری طرح کائنات کے ہم آہنگ کر لیا ہو، جب وہ پوری کائنات کو اپنی غذا بنا چکا ہو۔

اسلامی زندگی نہ عملیاتی ورزشوں سے وجود میں آتی ہے اور نہ انقلابی نعروں سے۔ ایک بندہ اس وقت مومن بنتا ہے جب کہ وہ تجلیات الہی کا مہبط بن جائے۔ خدا نے جس طرح مادی سطح پر درختوں کے لئے ایک عالمی دسترخوان پھیلا رکھا ہے۔ اسی طرح روحانی سطح پر انسان کے لئے ہر وقت اس کے فیضان کی بارش ہو رہی ہے۔ کائنات سے اپنے آپ کو جوڑنے کے نتیجہ میں درخت وجود میں آتا ہے ۔ اسی طرح الہی تجلیات کے سمندر میں نہانے سے وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو اسلامی زندگی کہتے ہیں۔ ایک درخت ہو یا ایک انسان، دونوں ہی ایک وسیع تر نظام غذا سے اپنے کو جوڑ کر اپنی ہستی کو کمال کے مقام پر پہنچاتے ہیں۔ جو شخص آج اللہ کے رزق پر جی رہا ہے وہ آخرت میں نہایت شاداب اور تندرست حالت میں اٹھے گا، اور جو لوگ اللہ کے رزق سے محروم ہیں ان کا حال وہی ہوگا جو آج خراب غذاؤں پر پلنے والوں کا نظر آتا ہے، وہ مدقوق صورتوں کے ساتھ اٹھیں گے خواہ آج وہ کتنے ہی پر رونق نظر آتے ہوں۔

Printed page