قربانی اسلام میں
Al-Risala, December 1979, pp. 2–4
By Maulana Wahiduddin Khan
روایات میں آتا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ما ھذہ الا ضاحی یا رسول اللہ (اے خدا کے رسول یہ قربانیاں کیا ہیں) آپ نے جواب دیا: سنۃ ابیکم ابراھیم (یہ تمھارے باپ ابراہیم کا طریقہ ہے) گویا عیدِ اضحی میں جانور کو ذبح کرنا اس عظیم تاریخی واقعہ کی یاد تازہ کرنا ہے جو چار ہزار سال پہلے پیش آیا۔ قربانی، حضرت ابراہیم کی زندگی کو اپنا آئیڈیل بنانے کا عزم ہے۔ یہ ایک وقتی قسم کی سالانہ رسم نہیں بلکہ مستقل زندگی کا ایک سالانہ مظاہرہ ہے۔ قربانی کی عبادت کو آدمی اگر اس کی اصلیت کے اعتبار سے سمجھ کر ادا کرے اسی وقت اس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ سال بھر تک اس کے پیغام کو اپنی زندگی میں دہرائے گا۔ اور اگر وہ قربانی کے دن اس کے اصلی مفہوم کو سامنے نہ رکھے تو سال کے بقیہ دنوں میں کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اس کا نمونہ بنائے گا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام ۲۱۶۰ ق م میں عراق کے ایک قدیم شہر اُر میں پیدا ہوئے۔ تو رات کے بیان کے مطابق آپ نے ۷۵ء سال کی عمر پائی۔ آپ کی قوم اس زمانہ میں سورج کو پوجتی تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ اس کو جو کچھ مل رہا ہے سورج سے مل رہا ہے۔ آپ نے کہنا شروع کیا کہ سورج اور ستارے سب ایک خدا کی مخلوق ہیں۔ تم لوگ خالق کو پوجو اور اسی سے لو لگاؤ۔ آدمی جس چیز کو مقدس سمجھ لے اس کے بارے میں وہ بہت حساس ہو جاتا ہے۔ چنانچہ قوم آپ کی دشمن ہوگئی۔ توحید کا داعی بننے کی آپ کو یہ قیمت دینی پڑی کہ آپ کے لئے اپنے وطن میں رہنا مشکل ہو گیا۔ رشتہ دار سب آپ کے مخالف ہوگئے۔ وقت کے حکمراں طبقہ نے آپ کو آگ میں ڈال دیا۔ مگر خدا نے اپنی خصوصی مدد سے آپ کو بچا لیا۔ جب پوری قوم نے آپ کو رد کر دیا تو بالآخر آپ اپنے وطن سے نکل پڑے۔ صرف آپ کی بیوی اور آپ کے بھتیجے (حضرت لوطؑ) نے آپ کا ساتھ دیا۔ آپ شام، فلسطین، شرق اردن، مصر اور عرب کے ملکوں میں پھرتے رہے۔ کوئی انسانی بستی ایسی نہیں ملی جو آپ کی دعوت توحید کو قبول کرے۔ بالآخر آپ حجاز کے ایک غیر آباد مقام (موجودہ مکہ) پر پہنچے اور خدا کے بھروسہ پر وہاں ریگستان میں اپنے بیوی بچوں کو بسا دیا۔
اب حضرت ابراہیم بوڑھے ہو چکے تھے وہ خدا کی راہ میں اپنی ہر چیز لٹا چکے تھے۔ گھر، خاندان، جائداد، مال، وطن، کوئی چیز نہ تھی جس کو انھوں نے خدا کے حضور پیش نہ کر دیا ہو۔ حتیٰ کہ آگ میں ڈالے جانے والے واقعہ کی صورت میں گویا اپنی جان بھی آپ قربان کر چکے تھے۔ تاہم ایک آخری قربانی ابھی باقی تھی۔ یہ عزیز بیٹے کی قربانی تھی۔ چھیاسی سال کی عمر میں آپ کو پہلی اولاد ملی تھی۔ فطری طور پر اکلوتا ہونہار بیٹا آپ کو ہر چیز سے زیادہ عزیز تھا۔ بوڑھے باپ کی تمناؤں کا یہ مرکز جب بڑا ہوا اور باپ کے ساتھ دوڑنے پھرنے کے قابل ہو گیا تو خواب کی صورت میں خدا کا حکم آیا کہ اپنے بیٹے کو ہماری راہ میں قربان کر دو۔ تنہائی اور مشقت کی ایک پوری عمر گزارنے کے بعد جو ایک سہارا نصیب ہوا تھا اس کو بھی توڑ دینے کا حکم ہو گیا۔ اور وہ بھی اس طرح کہ خود اپنے ہاتھ سے اس کو توڑا جائے۔ بوڑھے باپ نے خدا کے حکم کی تعمیل الرسائل دسمبر ۱۹۷۹ء
میں اپنے عزیز بیٹے کی گردن پر چھری رکھ دی ۔ عین اس وقت خدا کی طرف سے آواز آئی کہ بس تم نے اپنا خواب پورا اس کے بعد فرشتہ نے آپ کو ایک مینڈھا پیش کیا اور آپ نے اپنے بیٹے کے فدیہ میں مینڈھے کو خدا کی راہ میں ذبح کیا۔ یہ واقعہ ہجری ماہ ذی الحجہ کی دس تاریخ کو پیش آیا۔ اس لیے دنیا بھر کے مسلمان اس تاریخ کو جانور کی قربانی کرتے ہیں۔ یہ قربانی گویا خود اپنی جان کا فدیہ ہے۔ اس طرح قربانی کرنے والا گویا عمل کی زبان میں کہتا ہے کہ خدایا ہماری جانیں تیرے لئے حاضر ہیں آج ہم اپنی جانگی کی علامت کے طور پر جانور کو پیش کر رہے ہیں اور ہر وقت اس کے لئے تیار ہیں کہ جب بھی تیرا حکم ہو اپنے آپ کو اور اپنے اثاثہ کو تیری خدمت میں پیش کردیں۔ ہر بالغ مسلمان جو صاحب نصاب ہو اس کے اوپر قربانی واجب ہے۔ قربانی کے لئے تندرست اور فربہ جانور منتخب کرنا چاہئے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سمنوا ضحایا کم فانھا على الصراط مطاياكم اپنی قربانی کے جانوروں کو فربہ کرو ۔ کیوں کہ وہ پل صراط پر تمھاری سواری ہوں گے۔ یہ تمثیل کی زبان میں اس بات کی تلقین ہے کہ قربانی کے لئے آدمی کو پورا اہتمام کرنا چاہئے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے دنیا کے سفر میں آدمی یہ کوشش کرتا ہے کہ اچھی سے اچھی سواری کو اپنے لئے منتخب کرے ۔ دنیا کی چیزوں میں آدمی جس طرح اہتمام کرتا ہے اسی طرح اس کو ان چیزوں میں بھی اہتمام کرنا چاہئے جو آخرت میں کام آنے والی ہیں۔ جس طرح دنیا کے سفر میں اچھی سواری بخیر و خوبی منزل تک پہنچنے کی ضمانت ہوتی ہے اسی طرح آخرت کے سفر میں بھی وہی شخص سلامتی کے ساتھ منزل تک پہنچے گا جس نے اس کے لئے اپنے امکان کے مطابق " اچھی سواری" کا انتظام کیا ہو ۔ ناقص سواری کے ساتھ نہ دنیا کا سفر کامیابی کے ساتھ طے ہوسکتا ہے اور نہ آخرت کا۔
مستحب یہ ہے کہ جانور کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرے ۔ نہ دریا تحفہ آپ کسی ہرکارہ کے ذریعہ بھی بھیج سکتے ہیں۔ وہ نذر جو کسی بڑی ہستی کے پاس بھیجی جارہی ہو اس کو آدمی خود لے کر حاضر ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کرتا کہ کسی کو چند روپے دے اور کہے کہ بازار سے خرید کر اس کو فلاں صاحب تک پہنچا دینا۔ قربانی محض جانور کا ہدیہ نہیں بلکہ جذبات کا ہدیہ ہے اور اپنے جذبات کا ہدیہ آدمی اپنی ذات ہی کے ذریعہ پیش کر سکتا ہے۔ قربانی کرتے وقت جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ یہ ہے: اِنّی وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿ ان صلوتی وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اَللّٰھُمَّ مِنْكَ وَلَكَ میں نے اپنا رخ کر لیا اس ذات کی طرف جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے، بالکل یکسو ہو کر ۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز اور میری قربانی، میری زندگی اور میری موت خدا ہی کے لئے ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ مجھے ایسا ہی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور میں اپنے آپ کو اس کے حوالے کرتا خدایا تجھ ہی نے دیا ہے اور تیرے ہی لئے قربانی کر رہا ہوں) اس دعا کے الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ قربانی کے وقت قربانی کرنے والے کی کیفیات کیا ہونی چاہئیں۔ یہ دعا دراصل مومن کی نفسیاتی حالت کی تصویر ہے ۔ قربانی کرنے والا حقیقت میں وہ ہے جو خود اپنی جان کو لے کر مذبح میں پہنچ گیا ہو ، جیسے حضرت ابراہیم نے اپنے
عزیز بیٹے کو ذبح کے لئے لٹا دیا تھا۔ اور جانور کو ذبح کرنا گویا یہ معنی رکھتا ہے کہ خدا نے ازراہ کرم ایک جانور بھیج دیا ہے کہ اس وقت تم اپنی جان کے بدلے اس کو ذبح کر دو۔ قربانی حضرت ابراہیم کے واقعہ کی تمثیل ہے کسی کی قربانی اللہ کی نظر میں اسی وقت قربانی ہے جب کہ وہ ابراہیمی روح کے ساتھ ادا کی گئی ہو۔ «میری نماز اور میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لئے ہے»۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز آدمی کی زندگی کی علامت ہے اور قربانی آدمی کی موت کی علامت۔ نماز میں آدمی اللہ کی طرف رخ کرتا ہے۔ وہ اپنے جسم کی خیال کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ یہی روح اس کی تمام سرگرمیوں میں مطلوب ہے۔ اس کو دنیا میں اس طرح رہنا ہے کہ اس کی زندگی خدا رخی زندگی بن گئی ہو، جس طرح اس کی نماز خدا رخی نماز ہوتی ہے۔ یہی معاملہ قربانی کا ہے آدمی پر موت اس طرح آنی ہے کہ اس کی موت قربانی کی موت بن گئی ہو۔ اس کا مرنا عام معنوں میں طبعی عمر پوری کر کے مرجانا نہ ہو بلکہ قربانیوں کی ایک مسلسل زندگی کی تکمیل ہو۔ جانور کی قربانی اس بات کا ایک علامتی عزم ہے کہ آدمی اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ کھپاتا رہے گا، یہاں تک کہ اسی حالت میں اس کا خاتمہ ہو جائے ۔
جانور کے ذبح کے فوراً بعد یہ دعا پڑھی جاتی ہے : اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِيلِكَ إِبْرَاهِيمَ د حبیبكَ محمد عَلَیْھِمَا الصَّلٰوۃُ والسلام خدا یا میری طرف سے اس قربانی کو قبول فرما جس طرح تو نے اپنے خلیل ابراہیم اور اپنے حبیب سے قبول فرمایا تھا) اس طرح ہم کو شکل دعا یہ بتایا گیا کہ قربانی کی قبولیت کے لئے اسی جذبہ فدائیت کی ضرورت ہے جو سیدنا ابراہیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر پیدا ہوئی ۔ قربانی کی قبولیت کا راز یہ ہے کہ اس کے پیچھے حقیقی فدا کاری کی روح پائی جاتی ہو، وہ فدا کاری جو اپنی کامل صورت میں خدا کے نبیوں نے پیش کی۔ قربانی اسی کی قربانی ہے جس نے روزانہ کی زندگی میں اپنے کو قربان کر رکھا ہو نہ کہ سال میں ایک دن جانور کو ذبح کر دینا ۔ ابراہیمی قربانی یہ ہے کہ خدا کی راہ میں سب کچھ دے دینے کے بعد آدمی کے پاس صرف اس کی جان رہ گئی تھی جس کو لے کر وہ خدا کے یہاں حاضر ہو گیا۔ مگر خدا نے اپنی رحمت و شفقت کی بنا پر اس کی جان کے بدلے جانور کی قربانی قبول کر لی۔ قربانی کی حقیقت آخری متاع کو بھی اللہ کی راہ میں دے دینا ہے نہ یہ کہ آدمی آخری متاع تک ہر چیز اپنے پاس بچائے رکھے اور سال میں صرف ایک جانور خدا کے نام پر ذبح کر دیا کرے ۔ قربانی کی حقیقت کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے : لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (خدا کو قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا۔ خدا کو تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے) گویا خدا کے یہاں جس چیز کی قدر ہے وہ خدا سے ڈرنے والا دل ہے نہ کہ کوئی چوپایہ ۔ چوپایہ کی قربانی تو محض دل کی اندرونی حالت کی ایک ظاہری علامت ہے۔ اگر دل کے اندر مطلوب حالت موجود نہ ہو تو اوپر اوپر جانور کو ذبح کر دینا ایسا ہی ہے جیسے دکان کے اندر سامان موجود نہ ہو اور اس کے باہر فرضی طور پر ایک سائن بورڈ ٹکا دیا جائے ۔ نوٹ: یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۲۸ اکتوبر ۱۹۷۹ء کو نشر کی گئی۔